Posts

Showing posts from June, 2017

شراب

Image
اسکی فیکٹری کی بنی شراب بہت مشہور تھی۔ دنیا اسکی شراب کی رسیا اور منتظر رہتی تھی اور شاید ہی کوئی نوجوان اسکی لت میں مبتلا نہ ہو۔ مگراس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا کہ اسکی کایا پلٹ گئی اور اس نے تائب ہو کر فیکٹری کو تالا لگا دیا اور مر کرجنّت میں چلا گیا۔ دوسری جانب وہ تمام نوجوان، شراب کی لت میں تمام زندگی مبتلا رہے اوراسی لت کے ہاتھوں اپنی زندگی کی بازی ہار کرجہنّم واصل ہو گئے۔ کنور نعیم                                                                                                               https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem twitter: @kanwar_naeem                    

چھٹی انگلی

Image
  تیسری جنس کو بستی سے نکالنا بہت نا گزیر تھا۔ وہ بستی کی خوبصورتی پر داغ تھے۔ ان کی آواز رات کو بھونکنے والے کتوں کی آواز سے زیادہ چبھتی تھی۔ ان کا وجود نگاہ کے لئے بارِ گراں   اور آس پاس کے مکینوں کے لیئے کوہ گراں تھا۔ بستی والوں کو وہ ایک آسمانی آفت لگتے تھے۔ بستی کے شرفاء ان کے واہیات اور نیم عریاں ملبوسات کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے، ان کے گریبانوں سے جھانکتے، کشش سے عاری سینے عورتوں کو شرمسار کرتے تھے، بچے ان سے خوفزدہ رہتے اور انہیں دور سے آتا دیکھ کر ہی کہیں دبک جاتے تھے۔ اس تیسری جنس کی زندگی ہاتھ میں موجود اُس چھٹی انگلی کی طرح تھی کہ جس کا ہونا بد نمائی اور کٹوانا تکلیف دہ ہوتا ہے۔مگر یہ تکلیف اتنی انفرادی سطح کی تھی کہ صرف اِن ادھوری ہستیوں کو پیدا کرنے والی مکمل مائیں ہی محسوس کر تی تھیں۔ جب تک انکا بھید، بھید تھا، تب تک ان کو بھی بزرگوں اور والدین کا دستِ شفقت میسر تھا مگر تھوڑا بڑا ہونے پر، جونہی انکی آواز بدلی، اپنوں نے لہجے بدل لیے۔لیکن ماضی میں کہے گئے پیار کے وہ بول اتنے میٹھے تھے کہ روز گالیاں سن کر ، رات کے پچھلے پہر، یہ چھٹی انگلی...

بھوک

Image
وہ ایک سفید پوش شخص تھا جس نے زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے تھے۔ لیکن یہ مجبوری ایسی ظالم چیز ہے کہ آنکھوں دیکھی مکھی بھی نگلوا دیتی ہے۔برے وقت کی آمد بہت سے لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے اور ان میں سب سے کاری شے بیروزگاری ہوتی ہے۔ کام کی تلاش میں مارا مارا پھر کر وہ جمعہ کے وقت مسجد جا پہنچا ۔پیٹ میں بھو ک کی وجہ سے بھنور چل رہے تھے ،وہ پہلی صف میں انہماک اور پریشانی سے وعظ سن رہا تھا کہ گناہ گاروں کو جہنم کی آگ کس طرح کھا ئے گی اور کیسے اُنھیں پیپ پلائی جائے گی اور کس طرح مردار بھائی کا گوشت دیا جائے گا ۔صاحب مسند نے ماحول پر سحر طاری کیا ہوا تھا، اُس سے بالآخر رہا نہ گیا ، اُس نے صاحبِ مسند سے التجا کی کہ خدارا میں بھی بہت گناہ گار ہوں ،بھوک مجھے کھا گئی ہے ،خدا سے کہیں کہ مجھے دنیا میں بھی کچھ کھلا پلا دے ۔ صاحب مسند نے اسکو ایک نظر دیکھا ، انکی نگاہ میں اسکے لیئے دفعہ ہونے کا پیغام واضح تھا۔وہ اٹھ کر باہر نکل آیا اورعلاقے کے ہر دکان دار کے پاس جا کر کام مانگا مگر ہر طرف سے انکار  پایا، پھر مجبوراً اسنے بمشکل روٹی کی درخواست کی توسب دکان دار اور راہ گیراسے پیشہ ورکہنےل...

تربیت

Image
    سب والدین کی طرح وہ بھی اپنے بچے کو لے کر نہایت جوشیلا اور جذباتی تھا۔ اپنے بیٹے کو کسی فوجی کیطرح جلدی اٹھنے والا، کسی بزرگ کی طرح مذہبی اور کسی تھکے مزدور کی طرح جلدی سونے والادیکھنا اسے اپنی تربیت کا سنگ میل معلوم ہوتا تھا۔   بچوں کی تربیت ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے والدین کو اپنی رات کی نیند دن میں اور دن کی نیند رات میں پوری کرنا پڑتی ہے۔ہر والدین کی اوّلین خواہش ہوتی ہے کہ انکی اولاد اُن سے بہتر ہو اورحتی الامکان، یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ اولاد بھلے ہی فرشتہ نہ بن پائے، مگر کسی فرشتے سے ذرا برابرکم بھی نہ ہو۔ بہر حال، جِبِلَّت تو جِبِلَّت ہے۔ تمام تر نصیحتوں ، ڈانٹ اور تھپکیوں کے با وجود شرارت ہوہی جاتی ہے۔جیسےآج اس کے بیٹے نے اسکول میں کسی بچے سے لڑائی کر لی۔ پرنسپل نے اِسکو بلا کر اِسکی تربیت پر تیر اور نیزے چلا دیے۔ اسے بیٹے کی شرارت سے زیادہ اپنی بے عزتی کا غم کھائے جا رہا تھا۔اپنے بیٹے کو گھر لے کر جاتے ہوئے وہ بار بار ایک ہی جملہ دہرائے جا رہا تھا کہ، تم جانوروں سے بھی گئے گزرے ہو، تم میں اور جانوروں میں کیا فرق ہے؟   جانور ہی بننا ہ...

چڑیا

Image
اپنے گھر کے سکون سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟ گھر ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں انسان خود کو بہت محفوظ اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ان باتوں سے انکاری ہو۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ باتیں اس قدر انفرادی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ ان محض جذبات کی کسوٹی پہ پرکھا جا سکتا ہے، ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ باتوں کو ثبوتوں کی حاجت ہوتی ہی نہیں البتہ کچھ ثبوت اگر مل جائیں تو ان باتوں کو تقویت ضرور مل جاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میرے گھر کی رونق اورسکون سے متاثرہوکرایک چڑیا نے اس میں سکونت اختیار کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں اور کئی ایک گوشوں کو پرکھنے کے بعد بالآخرایک گوشے کو شرف قبولیت بخش دیا۔ وہ کس طرح تنکا تنکا کر کے لاتی گئی اور کیسے اس نے  گھاس اور تنکوں کو آشیانہ کر دیا، ہوا تو یہ سب آنکھوں کے سامنے مگر الفاظ میں وہ تاثیر نہیں جواس تڑپ اور خود کو وقف کرنے کی داستان کو بیان کر سکے۔ پس یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے اپنے سائے سے بھی طویل کارنامہ سر انجام دیا تو بیجا نہ ہوگا۔جب اسکا آشیانہ مکمل ہو گیا تو پھر وہ وہاں رہنے لگی۔ وہ عجیب سی جگہ تھی جہاں دھوپ تو پہ...

جسارت

Image
کافی عرصہ ہمت کرنے کے بعد بالاآخر بلاگ لکھنے کی جسارت کر ہی لی۔ اب یہ سعی ناکام بنتی ہے یا کنارے لگ جاتی ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے  ۔مالی دا کم محض بھر بھر مشکاں پانی دینا ہے۔اچھا لکھنے کے لیئے اچھا پڑھنا لازم ہے، مگر میں نے اچھا تو دور کی بات، کچھ پڑھا ہی نہیں، فقط چند کاغذ  اور کچھ حوادث۔ انہی کے سائے میں بیٹھ کر جو کچھ ہو سکا تحریر کر دوںگا، اس سے زیادہ کی نہ تو سکت ہے اور نہ استطاعت۔بس اتنی کوشش ضرور کروں گا کہ قلم، ذہن اور دل ایک ساتھ حرکت کریں۔ سب سے پہلا بلاگ میں اس کے لیئے لکھنا چاہتا ہوں جو کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی رنگ، نسل، مذہب حتٰی کہ کسی بھی قسم کے جاندار کے روپ میں ہو، باعث تسکین اور باعث رحمت ہوتی ہے۔   خدا ہر ماں کو صدا سلامت رکھے آمین   کنور نعیم https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem twitter: @kanwar_naeem