تربیت

 
 سب والدین کی طرح وہ بھی اپنے بچے کو لے کر نہایت جوشیلا اور جذباتی تھا۔
اپنے بیٹے کو کسی فوجی کیطرح جلدی اٹھنے والا، کسی بزرگ کی طرح مذہبی اور کسی تھکے مزدور کی طرح جلدی سونے والادیکھنا اسے اپنی تربیت کا سنگ میل معلوم ہوتا تھا۔
 بچوں کی تربیت ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے والدین کو اپنی رات کی نیند دن میں اور دن کی نیند رات میں پوری کرنا پڑتی ہے۔ہر والدین کی اوّلین خواہش ہوتی ہے کہ انکی اولاد اُن سے بہتر ہو اورحتی الامکان، یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ اولاد بھلے ہی فرشتہ نہ بن پائے، مگر کسی فرشتے سے ذرا برابرکم بھی نہ ہو۔
بہر حال، جِبِلَّت تو جِبِلَّت ہے۔ تمام تر نصیحتوں ، ڈانٹ اور تھپکیوں کے با وجود شرارت ہوہی جاتی ہے۔جیسےآج اس کے بیٹے نے اسکول میں کسی بچے سے لڑائی کر لی۔ پرنسپل نے اِسکو بلا کر اِسکی تربیت پر تیر اور نیزے چلا دیے۔ اسے بیٹے کی شرارت سے زیادہ اپنی بے عزتی کا غم کھائے جا رہا تھا۔اپنے بیٹے کو گھر لے کر جاتے ہوئے وہ بار بار ایک ہی جملہ دہرائے جا رہا تھا کہ، تم جانوروں سے بھی گئے گزرے ہو، تم میں اور جانوروں میں کیا فرق ہے؟ جانور ہی بننا ہے تو میرا پیسے برباد کرنا بند کردو۔
بیٹا ہر جملے کو چپ چاپ، تھوک کے ساتھ بمشکل حلق سے نیچے دھکیل رہا تھا مگر باپ کا غصہ اورڈانٹ تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اور راستہ تھا کہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔اسکے باپ کے غصے کو پیچھے سے آنے والی ایمبولینس کا شور تیل فراہم کر رہا تھا۔اور اس شور سے تنگ آکر اس کے باپ نے ایمبولینس کو راستہ دینے کا ارادہ ترک کردیا۔انکی گاڑی اور ایمبولینس چور پولیس کی طرح آگے پیچھے دوڑے جا رہے تھے۔یہ کھیل اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ اپنی مطلوبہ سڑک تک نہ پہنچے۔
جب انکی گاڑی اور ایمبولینس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے،اسی دوران بیٹےکی نظرگاڑی کے شیشے سے باہر، دھوپ میں دہکتی سڑک پر ایک بلی پر پڑی جو اپنے منہ میں ایک زخمی بلی کو دبائے، گاڑیوں کے بیچ میں سے راستہ بنا بنا کر گذر رہی تھی۔
اس بلی کی انسسانیت دیکھ کر بچہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا واقعی باپ کا پیسہ برباد کرنا بند کر دوں؟
کنور نعیم                                                                                        



https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ