Posts

سندھ کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی‎

Image
  سندھ کی سیاست میں کبھی جناح پور کے نقشے ہوتے ہیں، کبھی سندھو دیش کی دھوم ہوتی ہے۔ کبھی مہاجر لفظ ایک گالی ہوتا ہے کبھی ایم کیو ایم جیسے نفیس لوگ چراغ رخ زیبا لیکر بھی نہیں ملتے۔ سندھ کی سیاست اکثر اتنی غیر متوقع اور دلچسپ ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ لہو گرم رکھنے کے لیے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں وفاقی وزیر قانون جناب ڈاکٹر فروغ نسیم نے آئین کے آرٹیکل ایک سو انچاس کو لیکر ایک بیان داغا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامہ برپا کر دیا۔ آرٹیکل ایک سو انچاس وفاق کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی صوبے یا علاقے کو تجاویز دے سکے۔ یہ براہ راست تو اختیارات وفاق کو منتقل نہیں کرتا البتہ بلواسطہ وفاق کو مضبوط ضرور کرتا ہے۔ بات نے نکل کر دور تلک تو جانا تھا، ہوا بھی یہی۔ سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول نے ان اقدامات کو اتنا سنگین قرار دیا کہ بنگلہ دیش کے بعد سندھو دیش بننے تک کے خطرات ظاہر کر دیے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی جناب مرتضٰی سولنگی کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جو اعتراضات، سوالات اور شبہات اٹھائے وہ کچھ یوں تھے۔ اول تو یہ "شق ا...

چوپال، ایک بار پھر سے

Image
    اگر آپ نوے کی دہائی میں یا اس سے پہلے پیدا ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنا بچپن اور جوانی گلی محلے والی زندگی میں گزارا ہے تو آپ سے بہتر کون اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ مل جل کر رہنا کس کو کہتے ہیں، گھلنا ملنا کس بلا کا نام ہے۔ آپ کو شاید یہ بھی یاد ہو کہ پڑوس میں کھانا بھیجنا ایک فرض کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ گرمیاں آئیں تو چارپائیاں گلی میں ڈال لیں۔ کوئی بیمار ہوا تو پورا محلہ اس کی خدمت میں لگ گیا۔ گرمیوں کی چھٹیاں آئیں تو بارات کی مانند مہمان آگئے۔ تنگدستی میں بھی میزبانی کے فرائض احسن انداز میں نبھائے گئے۔ اس وقت نہ کمیونٹی سنٹرز کا رواج تھا، نہ لوگوں میں اتنا سینس تھا مگر ان کے کام وہ تھے جنہیں سیکھنے کے لیے آج کے انسان کو گرومنگ کے کورسز کرنا پڑتے ہیں۔ پھر دوریاں مٹانے کی مشینیں ایجاد ہو گئیں اور لوگوں نے دور بیٹھ کر ہی دوریاں مٹانے کو زیادہ مناسب سمجھا۔ وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یا بدصورتی یہ ہے کہ تبدیلی محسوس نہیں ہونے دیتا لیکن جب مڑ کر دیکھو تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جہاں قدرتی خوبصورتی سے اٹا ہوا ہے وہیں بیگانگی کی کال...

پسند کی شادی اور مردانہ معاشرہ

Image
  عورت اور مرد میں سے کون فضیلت کا حامل ہے، اس بات کا فیصلہ آسمانی خدا نے کیا تھا یا نہیں اس بات کی کوئی دلیل فی الوقت میرے پاس موجود نہیں لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمینی خداؤں کی نظر میں مرد فضیلت کا حامل ہے کیونکہ عورت اس کی پسلی سے تخلیق کی گئی ہے۔ لیکن مرد کس جگہ سے گزر کر اس دنیا میں پہنچتا ہے اس بارے میں کوئی بحث نہیں چھیڑی جاتی۔ بالادستی کی اس روایت نے عورت کی زندگی کو نہ صرف گھر میں اور باہر حرام کیا بلکہ گھر کی دیوار پھلانگ کر کام کرنے کی جگہوں، بازاروں اور پھرگلیوں تک میں ایسی سرائیت کر گئی کہ عورت نہ چاہتے ہوئے بھی چار دیواروں میں عمر قید کی مجرم بن کر اس طرح رہ گئی کہ اگر کبھی آزادی کا پروانہ مل بھی جائے تو خود سے یوں الجھتی رہتی ہے جیسے وہ پرندہ جس کا بچپن اور جوانی پنجرے میں گزرے ہوں، کھلے پنجرے کی سلاخوں کو بھی حیرت سے تکتا ہے اور خود سے پوچھتا ہے کہ کیا ان سے باہر بھی کوئی دنیا ہو سکتی ہے؟ عورت کو باہر کی گالیاں، کپڑے چیرتی نگاہیں، چلتے پھرتے جسم پر جان بوجھ کر ٹکرانے والے ہاتھ تو شاید برداشت ہو جاتے ہوں، لیکن گھر کی جنگیں اس کی جان نکال دیتی ہیں۔ گو...

میرے قاتلوں کے نام لکھ لو

Image
زندگی اس وقت جس شکل میں گذر رہی ہے، ایسی کبھی سوچی بھی نہ تھی اور اللہ نہ کرے کہ ہمیں دوبارہ ایسی آزمائش سے گزرنا پڑے۔ مجھے جو ڈپریشن اس وقت ہونے لگا ہے، وہ زندگی کے اب تک پیش آنے والے مشکل ترین حالات میں بھی نہیں ہوا۔ میرے پاس دل بہلانے کو بہت سی مصروفیات اور باتیں کرنے کو بہت سے لوگ میسر پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ زندگی میں ایسے لوگ بھی تھے اور ہیں جن کے ساتھ میں بہت اچھا اور پرسکون وقت گزارا کرتا ہوں۔ نہ پیسے کی تنگی ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ لیکن یہ تمام چیزیں پاس ہونے کے باوجود ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ یوں مانو جیسے میں اور یہ تمام چیزیں ایک شیشے کی دیوار کے ذریعے الگ کر دی گئی ہیں۔ میں انہیں دیکھ سکتا ہوں، یہ بالکل میرے پاس ہیں، لیکن ہم میں دوری آ گئی ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ کسی کو چھونا نہیں ہے۔ کسی کے پاس نہیں جانا اور نہ کسی کو اپنے پاس آنے دینا ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کسی کیفے میں نہیں بیٹھ پا رہا۔ میں شام کو سڑکوں پر دوستوں کے ہمراہ وقت نہیں گزار پا رہا۔ مارگلہ کی پہاڑیاں دعوت نظارہ تو اب بھی دیتی ہیں لیکن اس دعوت کو ہر روز رد کرنا پڑ تا ہے۔ گھر کے بچوں کو اب پی...

تمام جہلا کو غالب کا پیغام

Image
کسی زمانے میں لوگ دیوان غالب سے فال نکالا کرتے تھے۔ وہ اس کتاب کو اس قدر اہم کیوں سمجھتے تھے، مجھے یہ بات شاید اب سمجھ آئی ہے۔ جب سے کرونا کا مسئلہ زمین کے باسیوں کے نصیب میں آیا ہے، کئی چہرے بے نقاب ہوئے، کئی دعوؤں کی دھجیاں اڑیں، دیر و حرم پر سے پردہ اٹھا اور بھی بہت کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر وہ دروازہ جہاں سے مدد ملا کرتی تھی، وہ بند ہوگیا۔ ہر وہ دروازہ جو سازشوں کے محلات میں کھلتا تھا، وہ امیدوں کا محور بنا ہوا ہے۔ سائنس جو اخلاق اور مذہب کی دشمن تھی، اب صرف وہی ایک سچی دوست بن کر کھڑی ہے،  الکوحل جو خوشبو میں مل جائے تو نماز نہیں ہوا کرتی تھی، مسجدیں اسی سے غسل کر رہی ہیں۔   کفار کی شکست کے لیے پھیلی جھولیاں اب دعا گو ہیں کہ کسی طرح کفار کو مرض کا توڑ ڈھونڈنے میں کامیابی حاصل ہو جائے۔ ایک دوسرے پر معاشی پابندیاں لگانے والے، اب عالمی بھائی چارہ تراشنے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ کسی کی موت پر بھی چھٹی نہ دینے والے، گھروں سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ فری مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کو متعارف کروانے والے اب طبقاتی ت...

ہم شاید اپنی ماں سے مختلف عورت دیکھتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں

Image
آپ کو کیا لگتا ہے، اگرعورتوں کو آزادی مل گئی تو وہ ہر راہ چلتے مرد کے ساتھ سونا شروع کر دیں گی؟ وہ اپنی زندگی کا مقصد سیکس کو بنا لیں گی؟ کیا زمانے میں کرنے کو یہی کام رہ گئے ہیں جن کے لئے خواتین آزادی مانگتی پھرتی ہیں؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیں، بلکہ چھوڑیں، اپنے گھر کے اندر دیکھیں۔ جب گھر کا لڑکا گھر دیر سے آتا ہے تو ماں باپ فکرمند تو ضرور ہوتے ہیں لیکن تڑپتے نہیں ہیں۔ گھر کی لڑکی ذرا دیر کر دے تو کلیجے منہ کو آ جاتے ہیں۔  کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟  عورت بازار میں چاہے برقعہ پہن کے جائے یا جینز،  اس کو لوگوں کی ٹکروں سے خود کو بچا بچا کر کیوں چلنا پڑتا ہے؟ کبھی سوچا؟ بیٹا جب تک پیدا نہ ہو جائے، بچوں پر بچے پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ چاہے عورت اس عمل میں ہلکان ہو جائے۔ کتابیں ہاتھوں سے لے کر مہندیاں مل دی جاتی ہیں لیکن کوئی بات نہیں۔ بیوی کو لیڈی ڈاکٹر کو دکھائیں گے لیکن لڑکی نہیں پڑھائیں گے۔ دشمنوں سے بدلہ لینا ہوگا تو ان کی عورتوں کے جسم کو میدان جنگ بنائیں گے۔ لڑکی محبت سے انکاری ہو جائے گی تو تیزاب ڈال دیں گے۔ فیصلہ مشکل ہو جائے گا تو جرگہ عورتوں ...

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ

Image
میرا بھائی سندھ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا لیکن وہاں آئے روز کے جھگڑے اور کامریڈ کہلانے والے جھگڑالو اور لسانیت پرست طلبہ کی بدمعاشیوں کی وجہ سے امی ابو نے، بھائی کو یونیورسٹی جانے سے روک دیا اور پھر بھائی نے کالج سائڈ سے پڑھائی مکمل کی۔ اس بات کے تقریباً چھ سال بعد میرا یونیورسٹی جانے کا وقت آیا تو قائد اعظم یونیورسٹی کو چنا کیونکہ اس کا شمار پاکستان کی بہترین جامعات میں ہوتا تھا اور ہمارے مطابق وہ سندھ یونیورسٹی سے زیادہ محفوظ تھی۔ بہرحال، جو لوگ قائد اعظم یونیورسٹی سے واقف ہیں انہیں میں اتنا بتاتا چلوں کہ یہاں ہرصوبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنے صوبے کی سٹوڈنٹ کونسل بنائی ہوئی ہے۔ سندھ والوں کی مہران سٹوڈنٹ کونسل، پنجاب کی پنجاب کونسل، پٹھانوں کی پختون کونسل اور اسی طرح گلگت بلتستان تک کی کونسل یہاں موجود ہیں۔ میں چونکہ سندھ سے تھا تو مہران کونسل میں خود بخود آ گیا۔ مزید بات کرنےسے پہلے میں آپ کو مہران کونسل کے کچھ اصول بتاتا چلوں۔ فرسٹ سمسٹر کے طلبہ کو پوری یونیورسٹی میں موجود تمام سندھی سینئرز کا نام، علاقہ، ڈپارٹمنٹ اور سمسٹر معلوم ہونا لازم ہے۔ اگر کوئی سینئر کسی...