آئے عشاق ,گئے وعدہ فردا لے کر
بستی والوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ لڑکا ان سب سے مختلف ہے۔ وہ لڑکالا وارث تھا، اس کے ماں باپ، بہن بھائی اور رشتہ دار کون لوگ ہیں، یہ نہ کوئی جانتا تھا اور نہ کسی نے کبھی جاننے کی کوشش کی۔ اس لڑکے نے بہت چھوٹی عمر سے ہی دنیا کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا۔ اسکی عادات عام نہ تھیں۔ وہ سب سمجھتا تھا، مگر کوئی رائے نہ دیتا تھا۔ محسوس سب کچھ کرتا تھا مگر اظہار کسی بات کا نہیں کرتا تھا۔ سب جانتا تھا مگر بتاتا کچھ نہ تھا۔ وہ صرف سنتا تھا، بولنے میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ غلط کاموں کا سخت مخالف تھا لیکن کبھی کسی غلط کام کو روکتا نہ تھا ہاں مگراچھے کام کرنیوالوں کو پسند بہت کرتا تھا۔ اسے مظلوموں کے ساتھ بہت ہمدردی تھی مگر کبھی صحیح وقت پر کسی مظلوم کی مدد نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ وہ عجیب تھا۔۔۔۔ دنیا کے نشیب و فراز کا خوب باریکی سے مشاہدہ کرتا تھا۔ چھوٹے معصوم بچوں کے جنسی استحصال سے لیکر بڑی عمر کے لوگوں کا معاشی استحصال بھی دیکھتا تھا۔ وہ یہ بھی دیکھتا تھا کہ کچھ لوگ قدرت کے نظارے دیکھنے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، اورا کچھ لوگ ...