آئے عشاق ,گئے وعدہ فردا لے کر
بستی والوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ لڑکا ان سب سے
مختلف ہے۔ وہ لڑکالا وارث تھا، اس کے ماں باپ،
بہن بھائی اور رشتہ دار کون لوگ
ہیں، یہ نہ کوئی جانتا تھا اور نہ کسی نے کبھی جاننے کی کوشش کی۔ اس لڑکے نے بہت
چھوٹی عمر سے ہی دنیا کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا۔ اسکی عادات عام نہ تھیں۔ وہ
سب سمجھتا تھا، مگر کوئی رائے نہ دیتا تھا۔
محسوس سب کچھ کرتا تھا مگر اظہار کسی بات کا نہیں کرتا تھا۔ سب
جانتا تھا مگر بتاتا کچھ نہ تھا۔ وہ صرف سنتا تھا، بولنے میں اسے کوئی دلچسپی نہ
تھی۔ وہ غلط کاموں کا سخت مخالف تھا لیکن
کبھی کسی غلط کام کو روکتا نہ تھا ہاں مگراچھے کام کرنیوالوں کو پسند بہت کرتا
تھا۔ اسے مظلوموں کے ساتھ بہت ہمدردی تھی مگر کبھی صحیح وقت پر کسی مظلوم کی مدد
نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ وہ عجیب تھا۔۔۔۔
دنیا کے نشیب و فراز کا خوب باریکی سے مشاہدہ کرتا تھا۔ چھوٹے معصوم بچوں کے جنسی استحصال سے لیکر بڑی عمر کے لوگوں کا معاشی استحصال بھی دیکھتا تھا۔ وہ یہ بھی دیکھتا تھا کہ کچھ لوگ قدرت کے نظارے دیکھنے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، اورا کچھ لوگ ڈاکٹر کو دکھانے تک کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایک طبقے کا پیٹ نہیں بھرتا جبکہ ایک طبقہ جیبیں بھرتا رہتاہے۔ کوئی وزن کم کرنے کے لیے لاکھوں کی خوراک کھا جاتا تھا تو کوئی ایک ایک نوالے کو ترستا۔ کسی کے پاس چلانے کو شاہانہ سواری تو کسی کے لیے زندگی کی گاڑی گھسیٹنا محال۔ وہ یہ تمام تضاداد دیکھتا تھا مگر اس بارے میں کچھ بولتا نہیں تھا۔
ان تمام باتوں میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ محکوم، مظلوم اور پسا ہوا طبقہ، ایک نا نظر آنے والی ہستی پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔زندگی بھر محنت کرتے ، اپنی محنتوں کو استحصال کی نظر ہوتا دیکھتے لیکن کامیابی اور محنت کا پھل اسی نا نظر آنے والی ہستی سے مانگتے تھے۔
دنیا کے نشیب و فراز کا خوب باریکی سے مشاہدہ کرتا تھا۔ چھوٹے معصوم بچوں کے جنسی استحصال سے لیکر بڑی عمر کے لوگوں کا معاشی استحصال بھی دیکھتا تھا۔ وہ یہ بھی دیکھتا تھا کہ کچھ لوگ قدرت کے نظارے دیکھنے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، اورا کچھ لوگ ڈاکٹر کو دکھانے تک کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایک طبقے کا پیٹ نہیں بھرتا جبکہ ایک طبقہ جیبیں بھرتا رہتاہے۔ کوئی وزن کم کرنے کے لیے لاکھوں کی خوراک کھا جاتا تھا تو کوئی ایک ایک نوالے کو ترستا۔ کسی کے پاس چلانے کو شاہانہ سواری تو کسی کے لیے زندگی کی گاڑی گھسیٹنا محال۔ وہ یہ تمام تضاداد دیکھتا تھا مگر اس بارے میں کچھ بولتا نہیں تھا۔
ان تمام باتوں میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ محکوم، مظلوم اور پسا ہوا طبقہ، ایک نا نظر آنے والی ہستی پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔زندگی بھر محنت کرتے ، اپنی محنتوں کو استحصال کی نظر ہوتا دیکھتے لیکن کامیابی اور محنت کا پھل اسی نا نظر آنے والی ہستی سے مانگتے تھے۔
اپنے حقوق کو سلب ہوتا دیکھتے تھے، مگر وہ سب ٹھیک
کر دیگا سوچ کرمطمئن ہوجاتے۔ نوجوان اپنی جوانی رزق کی تلاش اور کامیاب مستقبل کی
آرزو میں گذار دیتے۔ ماں باپ کی دیکھ بھال اور شادی ہوجانے پر شریک حیات کی ذمہ
داری اور ہونے والی اولاد کی ذمہ داری اٹھالیتے اور آسرا یہی ہوتا کہ وہ، نا
نظر آنے والی ذات رزق کشادہ کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔ تمام مسائل اور مشکلات کو
یہ سوچ کر برداشت کرتے رہتے کہ وہ نظر نہ آنے والی ہستی ان کے لیے کچھ
بہتر تیار کر رہی ہے۔
دنیا کی تمام رنگینیاں جن کی پہنچ سے دور ہوتیں وہ ان تمام آسائشوں کو عذاب کی صورت اور آزمائش کا سامان قرار دے کر اپنا دل بہلا لیتے۔ دل میں بہتری کی آرزو نہ پنپے، اس لیے اپنے سے نیچے والوں کودیکھ دیکھ کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو نظر انداز کیے جاتے۔ اور یہ تمام کام وعدہ فردا کے لیے کیے جاتے۔
جن بے بسوں کو طاقتور لوٹ لیتے، وہ بے بس بدلہ لینے کے لیے قیامت کے دن کا انتظار کرتے۔ انصاف صرف اثرو رسوخ والوں کو ملتا، اور بے بس مخلوق اس نظر نہ آنے والی ہستی کی عدالت کے انتظار میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو بھول جاتی۔ مظبوط لوگ ہر شے پر قادر جبکہ لاچار مخلوق، وعیدوں اور نویدوں کے سہارے زندہ۔
رفتہ رفتہ اس لڑکے کو اس سب سے کوفت ہونے لگی، اس کے دل میں یہ احساس پختہ ہوگیا کہ ان انسانوں کے بیچ اسکا گذارا ممکن نہیں۔ یہ انہی انسانوں کا کلیجہ ہے کہ اتنی بے قاعدگیوں اور تفریقوں کے ساتھ زندہ ہیں اور زندہ رہنے کے بہانے اور حیلے تراشے ہوئے ہیں۔ پھر ایک رات ایسا ہوا کہ جب سب سو رہے تھے تو اس منفردلڑکے نے سب پر سحر طاری کردیا۔ سب کی یادداشتوں میں سے اپنے وجود کو نکال دیا۔ کسی کو یاد نہیں رہا کہ وہ ان کے درمیان رہتا تھا۔ وہ لوگ صبح جاگے تو یونہی اپنے معمول کے مطابق اپنے کام کاج کرنے لگے۔ تب تک وہ لڑکا واپس آسمانوں میں جا چکا تھا۔ وہاں سے احکامات جاری کر رہا تھا کہ۔۔۔۔۔ اس کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔۔ وہ سب سے اچھا محافظ ہے۔۔۔۔ وہ سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔۔۔۔ وہ شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔۔۔۔اور نیچےزمین پر وہ تمام لوگ یہی جملے دہرائے جا رہے تھے۔۔۔۔
دنیا کی تمام رنگینیاں جن کی پہنچ سے دور ہوتیں وہ ان تمام آسائشوں کو عذاب کی صورت اور آزمائش کا سامان قرار دے کر اپنا دل بہلا لیتے۔ دل میں بہتری کی آرزو نہ پنپے، اس لیے اپنے سے نیچے والوں کودیکھ دیکھ کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو نظر انداز کیے جاتے۔ اور یہ تمام کام وعدہ فردا کے لیے کیے جاتے۔
جن بے بسوں کو طاقتور لوٹ لیتے، وہ بے بس بدلہ لینے کے لیے قیامت کے دن کا انتظار کرتے۔ انصاف صرف اثرو رسوخ والوں کو ملتا، اور بے بس مخلوق اس نظر نہ آنے والی ہستی کی عدالت کے انتظار میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو بھول جاتی۔ مظبوط لوگ ہر شے پر قادر جبکہ لاچار مخلوق، وعیدوں اور نویدوں کے سہارے زندہ۔
رفتہ رفتہ اس لڑکے کو اس سب سے کوفت ہونے لگی، اس کے دل میں یہ احساس پختہ ہوگیا کہ ان انسانوں کے بیچ اسکا گذارا ممکن نہیں۔ یہ انہی انسانوں کا کلیجہ ہے کہ اتنی بے قاعدگیوں اور تفریقوں کے ساتھ زندہ ہیں اور زندہ رہنے کے بہانے اور حیلے تراشے ہوئے ہیں۔ پھر ایک رات ایسا ہوا کہ جب سب سو رہے تھے تو اس منفردلڑکے نے سب پر سحر طاری کردیا۔ سب کی یادداشتوں میں سے اپنے وجود کو نکال دیا۔ کسی کو یاد نہیں رہا کہ وہ ان کے درمیان رہتا تھا۔ وہ لوگ صبح جاگے تو یونہی اپنے معمول کے مطابق اپنے کام کاج کرنے لگے۔ تب تک وہ لڑکا واپس آسمانوں میں جا چکا تھا۔ وہاں سے احکامات جاری کر رہا تھا کہ۔۔۔۔۔ اس کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔۔ وہ سب سے اچھا محافظ ہے۔۔۔۔ وہ سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔۔۔۔ وہ شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔۔۔۔اور نیچےزمین پر وہ تمام لوگ یہی جملے دہرائے جا رہے تھے۔۔۔۔
کنور نعیم
@kanwar_naeem
@kanwar_naeem

کنور نعیم کے قلم میں کاٹ ہے.معاشرتی مسائل کا نوحہ بڑی دلیری سے لکھتے ہیں.کہیں انداز افسانوی ہے اور کہیں ربط ٹوٹ گیا اور اندازتشریحی بن گیا ...یہاں ایک "لڑکا" علامتی کردار بھی ہو سکتا ہے جو در حقیقت انصاف کے لیے روز محشر پر تکیہ کرتا ہوا ہر کمزور انسانی کردار ہے...ایک اچھی تحریر جو تعمیری فکر کی عکاس ہے..جو کسی جاگتے ذہن کا ثبوت ہے :)
ReplyDeleteبہت شکریہ
Delete