Posts

Showing posts from September, 2018

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

Image
سب سے پہلے ایک خوشخبری سن لیجیئے۔علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری ائرپورٹ تھانے راولپنڈی میں درج ایف آئی آر کے تحت عمل میں لائی گئی۔ جہاں اس نے راولپنڈی 4 نمبر چنگی پر قائم سابقہ فیصل اور حالیہ جمیل کلاتھ کے مالک سفیان سکندر کے ساتھ 70 لاکھ کا فراڈ کیا ہوا تھا۔ لیکن ساتھ ہی ایک بری خبر بھی سن لیجئے کہ اس کی ضمانت بھی ہو گئی ہے جس کی وجہ سفیان سکندر کی ہی خود غرضی اور موقعہ پرستی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ تءین دن پہلے پیر کے روز ہمین اطلاع ملی کہ علی سجاد کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور اسکی مدعی کے ساتھ 10 لاکھ کی ڈیل چل رہی ہے۔ ہم نے یہ بات بتانے کو جب سفیان سکندر سے رابطہ کیا تو اس نے پوری بات سننے کے بعد ہمیں بتایا کہ یہ ڈیل اسی کی چل رہی ہے اور علی سجاد شاہ کو اسی نے گرفتار کروایا ہے۔ پھر اس نے یہ استدعا بھی کی ہم آج، یعنی پیر کے دن تک اس خبر کو باہر نہ جانے دیں کیونکہ سفیان کو خوف تھا کہ علی سجاد شاہ کے صحافی دوست اسے پھر نہ بچالیں۔ ہمدردی کے ناطے ہم نے یہ بات مان لی لیکن آج پیر کے دن سفیان کا نمبر صبح سے بند تھا اوریہ ہمیں دوکان پر...

ماں تجھے سلام

Image
ان دونوں کی نوکری ایک جیسی تھی بس ان کے مالک الگ الگ تھے۔ ان دونوں کی دوستی بھی ایک ساتھ اپنی اپنی نوکریاں سر انجام دیتے ہوئے ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک مسلمان اور دوسرا غیر مسلم تھا۔ وہ پڑوسی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اوراپنے اپنے ملکوں کی سرحدوں پر نافذ تھے۔جس علاقے میں ان کی ڈیوٹی تھی اس جگہ آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ صبح شام باتیں کرتے اور ٹہلتے رہتے تھے۔دونوں ایک دوسرے کی سرحد کے پار بلا خوف و خطر یوں آتے جاتے گویا وہ سرحد نہ ہو بلکہ دو دوستوں کے گھر ہوں۔ ان دونوں نے محبت بڑھانے کے لیے کئی حیلے بھی ڈھونڈ رکھے تھے۔ جیسے کہ چائے بنانے کی باریاں طے تھیں۔ ایک دن چائے اِس پار سے آتی تو اگلے دن اْس پار سے۔ اپنے اپنے تہواروں سے واپسی پر تحائف کا تبادلہ کرتے۔ اپنے اپنے علاقوں کی داستانیں، کہانیاں، واقعات اور حالات سناتے۔ ان کی نوکری بد ترین نوکریوں میں سے ایک تھی۔ نہ کھانے کے لیے مناسب کھانا، نہ پینے کے لیے ٹھنڈا پانی۔ نہ رہنے کا کوئی مناسب انتظام۔ مگر یہ دوستی جو میسر آگئی تھی وہ ان سب تکالیف کا مداوا تھی۔ وہ کبھی کبھی بیٹھے سوچتے کہ یہ کیا عجیب عذاب ہے۔ جب ہم دونوں کو ایک د...