ماں تجھے سلام



ان دونوں کی نوکری ایک جیسی تھی بس ان کے مالک الگ الگ تھے۔ ان دونوں کی دوستی بھی ایک ساتھ اپنی اپنی نوکریاں سر انجام دیتے ہوئے ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک مسلمان اور دوسرا غیر مسلم تھا۔ وہ پڑوسی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اوراپنے اپنے ملکوں کی سرحدوں پر نافذ تھے۔جس علاقے میں ان کی ڈیوٹی تھی اس جگہ آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ صبح شام باتیں کرتے اور ٹہلتے رہتے تھے۔دونوں ایک دوسرے کی سرحد کے پار بلا خوف و خطر یوں آتے جاتے گویا وہ سرحد نہ ہو بلکہ دو دوستوں کے گھر ہوں۔ ان دونوں نے محبت بڑھانے کے لیے کئی حیلے بھی ڈھونڈ رکھے تھے۔ جیسے کہ چائے بنانے کی باریاں طے تھیں۔ ایک دن چائے اِس پار سے آتی تو اگلے دن اْس پار سے۔ اپنے اپنے تہواروں سے واپسی پر تحائف کا تبادلہ کرتے۔ اپنے اپنے علاقوں کی داستانیں، کہانیاں، واقعات اور حالات سناتے۔ ان کی نوکری بد ترین نوکریوں میں سے ایک تھی۔ نہ کھانے کے لیے مناسب کھانا، نہ پینے کے لیے ٹھنڈا پانی۔ نہ رہنے کا کوئی مناسب انتظام۔ مگر یہ دوستی جو میسر آگئی تھی وہ ان سب تکالیف کا مداوا تھی۔
وہ کبھی کبھی بیٹھے سوچتے کہ یہ کیا عجیب عذاب ہے۔ جب ہم دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی تکلیف نہیں تو ہمارے آقاوَں کی آنکھوں میں خون کیوں اترا ہوا ہے؟ میرے دیے کا تیل تم لے آتے ہو، تمہارے وضو کا پانی میں گرم کر دیتا ہوں۔ کیا یہ محبت سرحد پار نہیں کر سکتی؟
ان کے درمیان قہقہے اور مسکراہٹیں تو چلتی ہی رہتی تھیں مگر سب سے زیادہ مزہ اس دن آتا تھا جب کوئی افسر دورے پر ہوتا۔وہ اپنی حب الوطنی اور افسر کو اپنی گرم جوشی ہوائی فائرنگ اور ایک دوسرے کو گالیاں دے کر دکھاتے۔ ساتھ ہی ایک دوسرے کے ملک اور شہریوں کو گالیاں دے کر اپنے مصنوعی غصے کا اظہار بھی کرتے۔ ان کے اس جذبے پر افسران عش عش کر اٹھتے۔ افسروں کے جانے کے بعد وہ ایک ہی سگریٹ سے باری باری کش لگاتے ہوئےایک دوسرے کو دیکھ کر قہقہوں میں ڈوب جاتے اور افسر کے اگلے دورے کا انتظار کرتے۔
ٹرانزسٹر پر اپنے اپنے ملک کے حالات کا دونوں کو پتا چلتا رہتا۔ سیاسی نوک جھونک اور بیان بازیاں دونوں کو غمزدہ کر دیتیں۔ ان کو لگتا تھا کہ یہ باڑ اور سرحدیں محظ ذہن کی تخلیق ہیں۔ قدرت اور انسانیت ان سے ماورا ہیں۔ وہ ان بندھنوں کو نہیں مانتے تھے۔ لیکن ہم کیا مانتے ہیں ، کیا سمجھتے ہیں اور کیا جانتے ہیں اس کا حقیقت سے تعلق بھی ہو، یہ ضروری تو نہیں۔
خیر، ان کے ممالک کی آپس میں ٹھن گئی ۔ ان دونوں کو ان کے ممالک سے پیغامات موصول ہونے لگے کہ تم اگر مر بھی گئے تو تم زندہ رہوگے۔ تم شہید ہو جاوَگے۔ ملکی تاریخ میں امر ہو جاوَگے وغیرہ وغیرہ لیکن ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ زندہ رہ کر زندہ رہنا چاہتے ہیں یا مر کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ وہ پوچھنا چاہتے تھے کہ کسی کو جیتے جی مار کر زندہ رہنے کا خواب کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟
آخرکار جنگ شروع ہوگئی۔ یہ ان کی زندگی کے منحوس ترین دن تھے۔ سرحد پر دونوں جانب افواج آگئیں۔ روز سننے میں آتا کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات اور اقدامات شروع ہو گئے ہیں۔  اس طرح کی خبروں پر دونوں دل میں آمین کہتے کیونکہ کھل کر کہنے سے ان کا جذبہ حب الوطنی مشکوک ہو سکتا تھا۔ مگر، یہ سب خبریں افواہیں ثابت ہوئیں اور جنگ شدت اختیار کر گئی۔
اس جنگ نے ان کی آنکھوں کو وحشت سے بھر دیا۔ اب کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا تھا۔ چائے کے وقفے اب جنگ کے وقفوں میں گزر جاتے۔ شام کی سیر اب بارڈر پر گشت میں گزرتی۔ جنگ نے خدا جانے کب تک چلنا تھا۔ وہ ہر وقت جنگ بندی کی دعا میں مصروف رہتے۔
بالآخر ان کی دعا تو قبول ہوگئی مگر عجیب انداز میں۔ دونوں دوستوں میں سے ایک مر گیا۔ اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے لیے جنگ بند ہو گئی۔ اس کو جلانے کے لیے لے جایا گیا۔ وہ اب امر ہو گیا تھا۔ اسے وہ شہید کہتا تھا کیونکہ وہ مر کر بھی اس کے لیے مرا نہیں تھا۔ لیکن اس کے ٹرانزسٹر پر اس کے دوست کو جہنم واصل قرار دیا جا رہا تھا۔ اس کا دوست تو جہان فانی چھوڑ گیا تھا مگر وہ جیتے جی کہیں کا نہیں رہا تھا۔کچھ دن بعد اسے بھی گولی لگ گئی اور اس نے بھی دم توٰڑ دیا۔ اس کو بغیر غسل دیے نہلانے کے لیے لے جا رہے تھے کیونکہ یہ شہید تھا مگر بارڈر کے اس پار اس کے جہنم واصل ہونے کی خبریں چل رہی تھیں۔

ان دو دوستوں کی موت کے کچھ دن بعد جنگ بند ہوگئی،دونوں ممالک دوست بن گئے۔۔۔۔

کنور نعیم


Twitter :        @kanwar_naeem
:Faceook      https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem  

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ