Posts

Showing posts from October, 2019

چائلڈ لیبر میں کیا برائی ہے؟

Image
کچھ لوگ بہت سیانے ہوتے ہیں۔ وہ خواب فروشی کرتے ہیں۔ انہیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ انکے خواب، خریدار کے گھر پہنچتے ہیں ن م راشد کے خوابوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے۔ لیکن وہ پھر بھی خواب فروشی ترک نہیں کرتے۔ ہماری تیسری دنیا کے ممالک میں ایسے کئی خواب فروش موجود ہیں۔ کوئی خواتین کو حقوق کا خواب بیچتا ہے۔ کوئی بچوں سے کام نہ کروانے کا خواب بیچتا ہے۔ یہ خواب بہت تیزی سے بِکتے ہیں۔ ان کے فروخت کرنے والے اپنی جیبیں خوب گرم کرتے ہیں۔ خواہ وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے اپنے گھر کی ملازمہ کو وقت پر اجرت نہ دیتے ہوں۔ یا وہ کوئی خاتون اینکر ہو اور گھر میں کمسن ملازمہ کو رکھ کر اس کی رہائی کے عوض رقم طلب کرے۔ بھلے وہ اخلاق کا درس دے کر خاتون اینکر کو ماں بہن کی گالیاں نکالتے ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر ان لوگوں سے الجھن ہے جو بچوں سے کام کروانے کے خلاف ہیں۔ اب ذرا خود سوچیں۔ انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک خواہش زندہ رہنے کی ہے۔ اور سانسوں کو بحال رکھنے کے لیے معیشت کا بہت اہم کردار ہے۔ پھر ہمارا معاشرہ، جہاں طبقات کی اتنی بڑی اور غیر مساوی تقسیم ہے۔ مہنگائی دن بدن آسمان کی طرف جا رہی ہے۔ آمدن کا...

Has education lost its influence? Watch this video

Why Do We Grieve Only When Muslims Are Discriminated Against? Watch this video

Why Tahirul Qadri Retired When Imran Khan Came To Power? Watch this video

محرم ایک تہوار، کربلا ایک افسانہ

Image
کچھ چیزیں کبھی بدلتی نہیں ہیں۔ اگر کچھ بدلتا ہے تو زیادہ سے زیادہ انہیں انجام دینے کا یا انکے وقوع پذیر ہونے کا طریقہ۔ جیسے محرم الحرام کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو ہمیشہ سوگ میں ڈوبا پایا۔ اس ماہ میں کوئی خوشی نہیں منائی جاتی، شادیاں نہیں کی جاتیں، ہلہ گلہ نہیں کیا جاتا غرض کوئی ایسا کام نہیں جاتا جس میں شادمانی کا عنصر ہو۔ ہر حساس شخص، خواہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو، وہ اس مہینے کو آل رسولﷺ کی شجاعت اور استقامت کے اثر گذارتا ہے۔ کربلا کے پیاسوں کی یاد میں سبیلیں اس جذبےسےلگائی جاتی ہیں کہ کوئی شخص دوبارہ پانی کو نہ تڑپے۔ عباس علمدارؓ سے اظہار محبت اور یکجہتی کے لیے علم بنائے جاتے ہیں۔ مطلب یوں کہہ لیں کہ محرم اہل بیت کا مہینہ ہے تو شاید غلط نہ ہو۔ مگر، کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتیں۔ جیسے کہ ہماری روش۔ ہم اولادِ نبیﷺ کے ساتھ محبت کا اظہار تو کردیتے ہیں، مگر جو سبق وہ پڑھا گئے، اسے ہمیشہ دور ہی سے سلام کرتے ہیں۔ محرم کا سوگ مناتے کتنا عرصہ بیت گیا مگر نہ تو زندگی علیؓ والی ہوئی نہ بندگی حسینؓ والی۔جناب حسینؓ نے گردن کا سودا تو کردیا مگر زہر ہلاہل کو قند نہ کہا۔ لیکن کیا ہم اپ...

راولپنڈی کیسا میزبان ہے؟‎

Image
راولپنڈی مسافروں کا شہر ہے اور ہم پاکستانیوں کو بحیثیت قوم اپنی میزبانی پر بڑا ناز ہے۔ ہم لوگ مہمان کی خوراک، عیش و آرام اور اسکی خوشی کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ راولپنڈی یہ تمام کام کرتا ہے یا نہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ ایک اچھا ماحول اپنے مہمان کو فراہم نہیں کر پاتا۔ اگر آپ پوش علاقے میں نہیں رہ رہے یا کسی پوش علاقے میں رہنے کے لیے نہیں آئے تو آپ کو جگہ جگہ نشئی ملیں گے۔ راولپنڈی کے ویران علاقے شاید انہیں پسند نہیں اس لیے یہ دن دیہاڑے سر راہ بیٹھ کر اپنی فکروں کو دھویں کی شکل میں اڑاتے ہیں، کبھی مسائل کا سفوف بنا کر سانس کے ساتھ کھینچتے ہیں تو کبھی خوشیوں کو سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ یہ تمام کام قانون کی ناک کے نیچے اور عوام کی آنکھ کے سامنے ہر روز ہوتا ہے لیکن یہ سلسلہ نہ ہی رکا اور نہ ہی رکتا نظر آتا ہے۔ کوئی شخص غلط صحبت سے نشے کی طرف گیا یا اس نے مسائل سے بچنے کی راہ نشے میں تلاش کی یا جو بھی مسئلہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ قانون کس لیے ہوتا ہے؟ کیا اس لیے کہ اگر کوئی شخص مرنے کا ارادہ کر لے تو قانون اس کو مرنے میں مدد فراہم کرے؟ کیا قانون گرتی دیواروں کو ...

صادق اور امین وزیر داخلہ کی راست گوئی

Image
کہتے ہیں کہ ہر پیشے کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے جو کہ اس سے منسلک لوگوں کے رویے اور زندگی سے عیاں بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کا مزاج اور کسی بینک میں کام کرنے والے کا مزاج عموماً مختلف ہو گا۔ اسی طرح کسی کھیل سے وابستہ شخص کا رویہ اور کسی دوکان میں کام کرنے والے کا رویہ بالکل مختلف ہوں گے۔ مزاجوں کا یہی فرق اداروں اور ان اداروں کے افراد میں بھی  دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے ہمارے وفاقی وزیر داخلہ جناب بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کس قدر آسانی اور دھڑلے سے اتنا بڑا سچ بول دیا یا شاید اعتراف کرلیا کہ پیپلز پارٹی سے ڈیل کیانی صاحب نے کی اور ق لیگ کو پیپلز پارٹی کو جتوایا بھی۔ ساتھ ہی وزیر صاحب نے ہم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ق لیگ کو جتوانا نہیں چاہتے تھے بس ان کو اتنی ہی سیٹیں دلوانا چاہتے تھے جتنی انہیں مل گئیں۔ یہ سچ صرف اسی ادارے کا آدمی بول سکتا ہے جس ادارے سے اعجاز شاہ صاحب کا تعلق ہے ورنہ تو لوگ ایک سچ بولنے کی سزا پوری عمر پاتے ہیں۔ کیا اعجاز شاہ کا یہ بیان اس حقیقت پر مہر ثبت نہیں کرتا جس حقیقت کے بیان کرنے میں کئی پر جل جاتے ہیں، کئی...

رانا ثنا کی گاڑی اور عزیز آباد کی ٹنکی

Image
اگر آج سے ایک یا نصف صدی پہلے کوئی دماغ اس بات کو تسلیم کر سکتا تھا کہ میلوں دور بیٹھے شخص کو نہ صرف دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس سے گفتگو بھی کی جا سکتی ہے؟ کیا وہ اس بات کو تسلیم کر سکتا تھا کہ ایک لمحے کے اندر پیغام بھیجا اور موصول کیا جا سکتا ہے؟ اور کتنی ہی چیزیں آج کی دنیا میں موجود ہیں جن کے بارے میں سوچنا کسی دور میں نری حماقت تصور کی جاتی ہوگی۔ بالکل اسی طرح کیا دو دن پہلے تک آپ مان سکتے تھے کہ واٹس ایپ پیغام کے ذریعے برطرفیاں بھی کی جا سکتی ہیں؟ روان سال کے ساتویں مہینے میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ فیصل آباد سے لاہور جا رہے تھے جب انسداد منشیات نے انہیں پندرہ سے بیس کلو منشیات کے ساتھ گرفتار کیا۔ یہ منشیات منظر عام پر نہیں لائی گئیں، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ ان پر کیس بنا اور اسی کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد کر رہے تھے۔ اٹھائیس اگست دو ہزار انیس کو عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔ جج نے انسداد منشیات کے وکیل سے ثبوت طلب کیے تو وکیل نے وقت مانگا۔ عدالت ایک گھنٹے کے لیے برخواست ہوئی۔ ایک گھنٹے بعد جج صاحب نے آکر فرمان سنایا کہ انہیں واٹس ایپ کے ذریع...

اپنا ٹائم آئے گا‎

Image
ڈرامے اور فلموں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ناظرین کو ایسے سحر میں جکڑتے ہیں کہ ہر دیکھنے والا، دکھائے جانے والے تمام مناظر کو نہ صرف حقیقت سمجھ لیتا ہے بلکہ دکھائے جانے والے واقعات اور اپنی ذاتی زندگی میں مماثلت بھی ڈھونڈنے لگتا ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ نے بھی ایسا کیا ہو۔  کچھ عرصہ پہلے بالی ووڈ کی ایک فلم دیکھی جس کا نام تھا۔ اگر اردو میں ترجمہ کر لیں تو "گلَی کا لڑکا” کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی تھی جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنی لَگن کے باعث کامیابیاں حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ اس فلم کا ایک گیت تھا، "اپنا ٹائم آئیگا”، یہ گیت بہت مقبول ہوا، ہر نوجوان کے دل کی آواز بنا۔ لوگوں نے اپنی گاڑیوں اور لباس پر بھی یہ الفاظ لکھوانا شروع کر دیے۔ اس کہانی کو یہاں روک دیتے ہیں۔ عید قربان ابھی چند روز پہلے ہی گزری ہے۔ یہ قصائیوں کی کمائی کا وقت ہوتا ہے جو لوگ قصائی نہیں بھی ہوتے وہ بھی قصائی بن جاتے ہیں۔ اُجرت کسی کو نقد مل جاتی ہے تو کسی کو تھوڑے دن بعد۔ یہ عید کراچی میں بھی آئی لیکن شاید قربانی کا نشہ کراچی...

تعلیم کے فوائد، کیا حقیقت، کیا افسانہ

Image
کوئی بھی سرمایہ دار ایسی کسی چیز یا جگہ پر پیسہ نہیں لگاتا جہاں منافع نہ ہو یا بہت ہی کم ہو۔ چونکہ نظام سرمایہ دارانہ ہے، تو ہر شے منڈی کے اصول پر پیسے کے عوض دستیاب ہوتی ہے۔ پھر چاہے وہ تعلیم ہی کیوں نہ ہو۔ بچے کی پیدائش سے لیکر اسکی 16 سالہ تعلیم تک کے خرچ کا اگر تخمینہ لگایا جائے تو وہ لاکھوں میں بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں، ایک ماسٹرز کیا شخص، عموماً بیس سے تیس ہزار روپے کی نوکری ہی حاصل کر پاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی سرمایہ کاری ہے کہ جہاں لاکھوں روپے اس لیے خرچ دیے گئے کہ بچہ بیس یا تیس ہزار روپے کما سکے؟ جب ہر طرف پڑھے لکھے افراد زلف پریشاں اور چاک گریباں لیے پھر رہے ہوں تو ہم کیسے کسی کو تعلیم کے فوائد پر آمادہ کر سکیں گے؟ کوئی اپنی اولاد کی تعلیم پر پیسہ لگانے کے بجائے کیوں نہ پھر کاروبار پر لگائے؟ جیسے کسی ملحد کو خدا کے ہونے پر قائل کیا جائے تو وہ تمام منطقوں کے بعد ایک ہی بات کہتا ہے کہ، کچھ ثبوت بھی تو لاؤ۔ یہی حال تعلیم کا ہم لوگوں نے کردیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس سے اخلاق سنورتا ہے، تہذیب آتی ہے اور وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کیا تہذیب یافتہ شخص کے مسائل، بغیر وسا...

ہمارا ملک کیسا ہے؟‎

Image
ہم کسی بھی سڑک پر نکل جائیں تو چند ایک نظارے ضرور استقبال کرتے ہیں۔ دیواروں پر فن کا غلط استعمال جو کہ کتے کا بچہ پیشاب کر رہا ہے سے لیکر گدھا کچرا پھینک رہا ہے تک جاتا ہے۔ ہمیں حکومتوں سے ایک شکوہ ہمیشہ رہا کہ وہ صفائی ستھرائی کا بندوبست نہیں کرتیں، لیکن جہاں کچرا پھینکنے کے ڈبے موجود بھی ہوں، ہمیں کچرا ان ڈبوں کے آس پاس گھیرا لگائے ہوئے ملتا ہے۔ گویا وہ ڈبہ نہ ہو کوئی مقدس ہستی ہو۔ صفائی کو ہم نصف ایمان مانتے ہیں اور پاکی کو اپنی انسانیت اور مذہب کا لازمی جُز لیکن پیشاب ہم جہاں چاہے کر دیتے ہیں۔ پھر چاہے وہ سڑک کا کنارا ہو یا محلے کی گلی۔ اور بعض اوقات تو صرف کھلی ہوا کی لذت کی خاطر بھی یہ کام کیا جاتا ہے خواہ گھر بغل میں ہی کیوں نہ ہو۔ کہیں قطار لگانا پڑ جائے تو ہم یا تو آگے بڑھنے کے لیے دھکے دینا شروع کردیتے ہیں، یا اپنی کوئی الگ ڈیڑھ اینٹ کی قطار بنانے لگ پڑتے ہیں۔ اگر یہ سب نہ کر پائیں تو قطار سے بچنے کے لیے کوئی واقفیت ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ہماری ٹریفک طوفان بد تمیزی مچاتی ہے۔ اسکول سے گھر جانے والے بچے بھی کوڑا کرکٹ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ تمام اور اس جیسے کئی ایک کام ...

بھکاریوں کو فقیر نہ کہیے‎

Image
ہم انسان کس قدر غیر متوقع تخلیق خدا ہیں۔ سفاکی پر آ جائیں تو پوری کی پوری تہذیبیں اجاڑنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔  ماؤں کے لخت جگر چھین لیتے ہیں۔ آل رسول ﷺ کو پانی کے دو گھونٹ نہیں دیتے۔ بادشاہوں کو گدا بنا دیتے ہیں۔ لیکن، یہ ہم ہی انسان ہیں جو فلاحی ادارے بھی چلاتے ہیں۔ کوڑھ کے مریضوں کے لئے اپنا وطن چھوڑ کر تیسری دنیا میں آ بستے ہیں۔ عیش و عشرت کو غریبوں کی خاطر خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ ہم اُس طرف پر بھی انتہا پر چلتے ہیں اور اِس طرف بھی انتہا کی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ ہماری ان انتہا پرستیوں کا ہمیں یا معاشرے کو کیا فائدہ ہوتا ہے، اس بحث کو مستقبل کے لیے اٹھا رکھتے ہیں اور فی الحال ان موقع پرستوں کی بات کر لیتے ہیں جو ہماری رحم دلی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم ان مانگنے والوں کی بات کر رہے ہیں جو سگنلز، گلیوں، بازاروں، دوکانوں، گاڑیوں، ٹرینوں، عبادت گاہوں اور دیگر جگہوں پر ہمارے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان میں اکثر کسی نہ کسی جسمانی بیماری کا بظاہر شکار ہوتے ہیں۔ کچھ کا دماغی توازن خراب ہوتا ہے، کچھ کہانیاں لے کر آتے ہیں، کچھ لوگ دوائیوں کے پرچے تھامے ہمارے سامن...

لٹریچر فیسٹیول اور طبقات کی تقسیم

Image
یہ دوسری بار ہوا کہ مجھے اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کا موقعہ ملا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی بہت خوبصورت شخصیات سے ملنے کا موقعہ ملا۔ استاد حامد علی خان کی شفقت اور عاجزی، سیدہ عارفہ زہرہ کے الفاظ کا چنائو اور فصاحت اور افتخار عارف کی محبت۔ یہ تمام چیزیں اس بار اکٹھی کرنے میں کامیاب رہا۔ لیکن کیا لٹریچر فیسٹیول میں سب کچھ اچھا تھا؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں قدم رکھتے ہیں یہ احساس آپ کو جکڑ لیتا ہے کہ یہ اشرافیہ کی نشستوں میں سے ایک نشست ہے۔ نہ کوئی غریب نظر آتا ہے اور نہ سرکاری تعلیمی ادارے۔ ہاں، یہ بات ٹھیک ہے کہ سب کو شریک ہونے کی اجازت تھی لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ اس فیسٹیول کی تشہیر صرف پوش علاقوں میں کی گئی تھی۔ جنہیں یا تو پوش علاقوں کے رہائشی یا پھر ان علاقوں میں نوکری یا کام کے سلسلے میں آنے والے دیکھ سکتے تھے۔ کسی متوسط علاقے میں ایک بینر تک نہیں لگایا گیا۔ خصوصاً بات اگر راولپنڈی کی کی جائے۔ دوسرا، لٹریچر فیسٹیول جس کا سمقصد شاید علم اور کتاب دوستی کو بڑھانا ہوگا، وہاں کتابوں کی قیمتیں کسی عام آدمی کی پہنچ سے یقیناً دور تھیں۔ ح...