چائلڈ لیبر میں کیا برائی ہے؟
کچھ لوگ بہت سیانے ہوتے ہیں۔ وہ خواب فروشی کرتے
ہیں۔ انہیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ انکے خواب، خریدار کے گھر پہنچتے ہیں ن م راشد کے
خوابوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے۔ لیکن وہ پھر بھی خواب فروشی ترک نہیں کرتے۔
ہماری تیسری دنیا کے ممالک میں ایسے کئی خواب فروش موجود ہیں۔ کوئی خواتین کو حقوق کا خواب بیچتا ہے۔ کوئی بچوں سے کام نہ کروانے کا خواب بیچتا ہے۔ یہ خواب بہت تیزی سے بِکتے ہیں۔ ان کے فروخت کرنے والے اپنی جیبیں خوب گرم کرتے ہیں۔ خواہ وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے اپنے گھر کی ملازمہ کو وقت پر اجرت نہ دیتے ہوں۔ یا وہ کوئی خاتون اینکر ہو اور گھر میں کمسن ملازمہ کو رکھ کر اس کی رہائی کے عوض رقم طلب کرے۔ بھلے وہ اخلاق کا درس دے کر خاتون اینکر کو ماں بہن کی گالیاں نکالتے ہوں۔
مجھے ذاتی طور پر ان لوگوں سے الجھن ہے جو بچوں سے کام کروانے کے خلاف ہیں۔
اب ذرا خود سوچیں۔ انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک خواہش زندہ رہنے کی ہے۔ اور سانسوں کو بحال رکھنے کے لیے معیشت کا بہت اہم کردار ہے۔ پھر ہمارا معاشرہ، جہاں طبقات کی اتنی بڑی اور غیر مساوی تقسیم ہے۔ مہنگائی دن بدن آسمان کی طرف جا رہی ہے۔ آمدن کا قد رک کر رہ گیا ہے اور شومئی قسمت کہ ریاست نہ روٹی ، نہ کپڑا ، نہ مکان دے۔ تو پھر غریب شخص کیا کرے؟
ہم اس قدر دلچسپ لوگ ہیں کہ دوکانوں کے باہر قرآن کی آیتیں لکھواتے ہیں لیکن اندر کام کرنیوالوں کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ادا نہیں کرتے۔ ریٹائر ہوئے لوگوں کو پنشن کے لیے خوار کرواتے ہیں۔ بیوائوں کی اولادوں کو نوکری کا جھوٹا آسرا دیتے ہیں۔ اور اگر ہم میڈیا ہائوسز کے مالک ہوں، پھر تو تنخواہ دینا ضروری ہی نہیں سمجھتے۔
ہماری تیسری دنیا کے ممالک میں ایسے کئی خواب فروش موجود ہیں۔ کوئی خواتین کو حقوق کا خواب بیچتا ہے۔ کوئی بچوں سے کام نہ کروانے کا خواب بیچتا ہے۔ یہ خواب بہت تیزی سے بِکتے ہیں۔ ان کے فروخت کرنے والے اپنی جیبیں خوب گرم کرتے ہیں۔ خواہ وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے اپنے گھر کی ملازمہ کو وقت پر اجرت نہ دیتے ہوں۔ یا وہ کوئی خاتون اینکر ہو اور گھر میں کمسن ملازمہ کو رکھ کر اس کی رہائی کے عوض رقم طلب کرے۔ بھلے وہ اخلاق کا درس دے کر خاتون اینکر کو ماں بہن کی گالیاں نکالتے ہوں۔
مجھے ذاتی طور پر ان لوگوں سے الجھن ہے جو بچوں سے کام کروانے کے خلاف ہیں۔
اب ذرا خود سوچیں۔ انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک خواہش زندہ رہنے کی ہے۔ اور سانسوں کو بحال رکھنے کے لیے معیشت کا بہت اہم کردار ہے۔ پھر ہمارا معاشرہ، جہاں طبقات کی اتنی بڑی اور غیر مساوی تقسیم ہے۔ مہنگائی دن بدن آسمان کی طرف جا رہی ہے۔ آمدن کا قد رک کر رہ گیا ہے اور شومئی قسمت کہ ریاست نہ روٹی ، نہ کپڑا ، نہ مکان دے۔ تو پھر غریب شخص کیا کرے؟
ہم اس قدر دلچسپ لوگ ہیں کہ دوکانوں کے باہر قرآن کی آیتیں لکھواتے ہیں لیکن اندر کام کرنیوالوں کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ادا نہیں کرتے۔ ریٹائر ہوئے لوگوں کو پنشن کے لیے خوار کرواتے ہیں۔ بیوائوں کی اولادوں کو نوکری کا جھوٹا آسرا دیتے ہیں۔ اور اگر ہم میڈیا ہائوسز کے مالک ہوں، پھر تو تنخواہ دینا ضروری ہی نہیں سمجھتے۔
ان حالات سے گذرنے والے گھر اگر اپنے بچوں سے
کام نہ کروائیں تو کیا کریں؟ کیا آئین اور قانون کی شقوں کی پاسداری، زندگی کی
گاڑی گھسیٹنے سے زیادہ اہم ہے؟
جب روٹی یا تختی میں سے کوئی ایک چیز خریدنا پڑ جائے تو روٹی اہمیت اختیار کر ہی جاتی ہے۔
جب روٹی یا تختی میں سے کوئی ایک چیز خریدنا پڑ جائے تو روٹی اہمیت اختیار کر ہی جاتی ہے۔
ہم ایک غریب معاشرہ ہیں۔ ایسے کئی گھر ہیں جہاں
افراد زیادہ ہیں، اور آمدن کم۔ ایسے بھی بہت سے گھر ہیں جہاں کمانے والا دنیا
چھوڑ گیا۔ ایسے بھی گھر ہیں جو ایک مخصوص آمدن پر گزارا کرتے ہیں اور اشیا کی
قیمت میں معمولی اضافہ بھی انکے لیے عذاب ہوتا ہے۔
ان حالات سے گزرتے گھروں کے پاس اپنے بچوں سے مشقت کروانے کے سوا کیا چارا رہ جاتا ہے؟ جب ریاست ماں بن کر نہیں دکھائے گی تو یہ معصوم گلیوں کی خاک چھاننے کے سوا کیا کریں گے؟
چائلڈ لیبر کے خلاف آوازیں اٹھا کر شاید ہم اپنی دوکانیں تو چمکالیں، مگر نجانے کتنے گھروں میں فاقے لانے کا سبب بھی بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
غریب تو بس اتنا ہی کہے۔۔۔
ان حالات سے گزرتے گھروں کے پاس اپنے بچوں سے مشقت کروانے کے سوا کیا چارا رہ جاتا ہے؟ جب ریاست ماں بن کر نہیں دکھائے گی تو یہ معصوم گلیوں کی خاک چھاننے کے سوا کیا کریں گے؟
چائلڈ لیبر کے خلاف آوازیں اٹھا کر شاید ہم اپنی دوکانیں تو چمکالیں، مگر نجانے کتنے گھروں میں فاقے لانے کا سبب بھی بن جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
غریب تو بس اتنا ہی کہے۔۔۔
کھلونوں کی دکانو راستا دو
مرے بچے گزرنا چاہتے ہیں
مرے بچے گزرنا چاہتے ہیں
کنور نعیم
یہ آرٹیکل نیا دور کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے
https://urdu.nayadaur.tv/21285/

Comments
Post a Comment