شہزادہ
ایک کمرے میں دو داشتائیں تھیں۔ ایک پلنگ پر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی تو دوسری بنائو سنگھار میں مصروف تھی۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ضرورت کی تمام چیزیں وہاں موجود تھیں۔ جیسے کہ ایک پلنگ ، ایک میلی چادر جسے پلنگ پر بچھایا جائے، ایک پیلے رنگ کا بلب ، ایک سنگھار کی میز اور کمرے سے متصل ایک چھوٹا سا غسل خانہ تاکہ بوقت ضرورت، گناہوں کے میل کو کمرے میں ہی دھو لیا جائے۔ سنگھار کرتی لڑکی نے اچانک لیٹی ہوئی لڑکی سے پوچھا کہ ایک شعر سنائوں؟ ہاں سنا۔۔ایک بے دلی اور اکتائی ہوئی آواز میں لیٹی ہوئی لڑکی کا جواب آیا۔ جو شاید سننا نہیں چاہتی تھی مگر بس دل رکھنے کے لیے حامی کر رہی ہے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے شعر سنا کر اس لڑکی کی ستائش طلب نگاہوں سے اس لڑکی کی جانب دیکھا جو اب بھی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ جب اس نے خود سے کوئی تعریف نہیں کی تو مجبوراً اس نے خود پوچھ لیا کہ کیسا لگا تجھے یہ شعر؟ ہاں اچھا تھا۔ یہ تعریف ویسی نہ تھی جیسی اس نے چاہی تھ...