Posts

Showing posts from January, 2018

شہزادہ

Image
ایک کمرے میں دو داشتائیں تھیں۔ ایک پلنگ پر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی تو دوسری بنائو سنگھار میں مصروف تھی۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ضرورت کی تمام چیزیں وہاں موجود تھیں۔ جیسے کہ ایک پلنگ ، ایک میلی چادر جسے پلنگ پر بچھایا جائے، ایک پیلے رنگ کا بلب ، ایک سنگھار کی میز اور کمرے سے متصل ایک چھوٹا سا غسل خانہ  تاکہ بوقت ضرورت، گناہوں کے میل کو کمرے میں ہی دھو لیا جائے۔           سنگھار کرتی لڑکی نے اچانک لیٹی ہوئی لڑکی سے پوچھا کہ ایک شعر سنائوں؟ ہاں سنا۔۔ایک بے دلی اور اکتائی ہوئی آواز میں لیٹی ہوئی لڑکی کا جواب آیا۔ جو شاید سننا نہیں چاہتی تھی مگر بس دل رکھنے کے لیے حامی کر رہی ہے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے شعر سنا کر اس لڑکی کی ستائش طلب نگاہوں سے اس لڑکی کی جانب دیکھا جو اب  بھی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ جب اس نے خود سے کوئی تعریف نہیں کی تو مجبوراً اس نے خود پوچھ لیا کہ کیسا لگا تجھے یہ شعر؟ ہاں اچھا تھا۔ یہ تعریف ویسی نہ تھی جیسی اس نے چاہی تھ...

اعتراف

Image
ایک نوجوان لڑکا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اعترافی کٹہرے میں پہنچا۔ ابھی اس کی باری آنے میں کچھ وقت رہتا تھا۔ وہ کبھی سوچتا کہ اعتراف کس بات کا کروں جب کچھ غلط نہیں کیا۔ اگلے ہی لمحےوہ تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ نہیں، یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ مجھے اعتراف کرنا چاہیئے۔ اس سے مجھے اطمینان قلب میسر ہوگا۔ اس کروں یا نہ کروں کے درمیان ہی اس کی باری بھی آگئی۔ وہ ایک مرغی کے ڈربے کے دروازے جیسا سوراخ تھا جس کی دوسری جانب پتا نہیں کون تھا۔ اور اس جانب والے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس طرف کون ہے۔ وہ ابھی الفاظ جمع کر ہی رہا تھا کہ ایک شفیق آواز آئی کہ جی بولیں بیٹا آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔ یہ آواز ڈبے کے دوسری طرف سے آئی تھی۔ وہ نوجوان کہہ نہیں پا رہا تھا مگر پھر بھی ایک سانس میں وہ کہہ گیا کہ مجھے آج نوکری ملی ہے مگر مجھے وہ لڑکا یاد آرہا ہے جس کا میں قتل کیا تھا۔  مقتول کون تھا؟  میرا بہت قریبی تھا۔  تو قتل کیوں کیا آپ نے اسے؟ جنونی تھا وہ۔ اس کی آنکھوں سے خوف آتا تھا مجھے۔   ایسا کیا تھا اس سب میں کہ آپ نے اسے مار ہی ڈالا؟ اسے انفرادیت کا بخار چ...

کیا آپ یقین کریں گے؟

Image
نبی پاک ﷺَ تو پیدائش سے پہلے بھی نبی تھے مگر د نیا کو اس حقیقت کا پتا لگنے میں چالیس برس کا عرصہ لگا۔ یہ چالیس برس نبی پاک ﷺ نے کیسے گذارے اسکا اندازہ اعلان نبوت کے وقت ہوجاتا ہے جب آپ ﷺ نے کہا کہ لوگوں اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہو نے کو تیار ہے تو کیا تم اس بات پر یقین کر لوگے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ بالکل کرلیں گے کیوں کہ ہم نےآپ ﷺَ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا ۔ یہ وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو ابھی تک آپ ﷺ کے نبی ہو نے کی حقیقت سے نا آشنا ہیں۔  قربا ن جاؤں میں اپنے ملک کے ہر فرد پر اس کے پیشے اور مرتبے کی تفریق کیے بنا۔ پھر چاہے وہ دھر نے کے کنٹینر سے کی جا نے والی گل پوشی ہو جس میں اس ہستی کا نام لے لے کر اتنی شاندار شعلہ بیانی کی گئی کہ جس کی زندگی میں کسی نے اس کے منہ سے گالی تو کجا ، کبھی سخت الفاظ بھی نہیں سنے اورجب کنٹینر سے یہ نور و عرفان کی مسلسل بارش ہو رہی تھی تو۔۔ تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا؟؟  مگر چلیں اس بات کو چھوڑ دیں اور دوسرے کنٹینر ر پر چھلا نگ لگا دیں جہاں دوسرا پاکباز شخص بیٹھا ہے ۔ انہوں نے عالم ارواح میں...