آجائو
کہتے ہیں کہ تاریخ میں صرف کردار سچے ہوتے ہیں مگر واقعات جھوٹے اور کہانیوں میں صرف کردار فرضی ہوتے ہیں مگر واقعات حقائق پر مبنی۔ جو کہانی آج میں نے لکھنی ہے، یہ ہر گز نئی نہیں۔ یہ آب بیتی ہے، جو مجھ پر بیتی اور میرا غالب گمان ہے کہ آپ پر بھی بیتی ہو گی۔ ایک بچہ تھا جسکا گھر مذہبی تو نہ تھا مگر نماز کا پابند ضرور تھا۔اسکی ماں اسے با جماعت نماز کے فضائل گاہے بگاہے سناتی رہتی تھی۔ وہ بچہ اکیلا تو مسجد نہ جاتا تھا البتہ جمعے کی نماز اپنے والد اور دادا کے ساتھ مسجد میں ہی ادا کرتا۔بچے کی ماں بھی اسے اکیلے مسجد بھیجنے کی قائل نہ تھی کیونکہ وہ ابھی آداب سے نابلد تھا۔ مگر جب وہ تھوڑا سا بڑا ہوا اور ہلکی پھلکی سمجھ بوجھ کا مالک ہو گیا تو اسکی ماں نے اسے اکیلے مسجد بھیجنےکا ارادہ کیا۔ اسنےمسجد جانے سے پہلے خصوصی طور پر عطر لگایااور شیشے کے آگے کھڑے ہو کر ٹوپی درست کی اور ہرن کی طرح کی اٹکھیلیاں کرتا مسجد کی طرف نکل پڑا۔ اس بچے کا خشوع و خضوع دیدنی تھا۔ اسے یہ محسوس ہو رہا تھاکہ اﷲمیاں اس سے بیحد خوش ہیں اور انہیں اسکا مسجد آنا بہت پسند آئیگا۔ اسکی ماں دروازے پر کھڑی اسکی بلائیں لے رہی تھی ...