آجائو



کہتے ہیں کہ تاریخ میں صرف کردار سچے ہوتے ہیں مگر واقعات جھوٹے اور کہانیوں میں صرف کردار فرضی ہوتے ہیں مگر واقعات حقائق پر مبنی۔
جو کہانی آج میں نے لکھنی ہے، یہ ہر گز نئی نہیں۔ یہ آب بیتی ہے، جو مجھ پر بیتی اور میرا غالب گمان ہے کہ آپ پر بھی بیتی ہو گی۔
ایک بچہ تھا جسکا گھر مذہبی تو نہ تھا مگر نماز کا پابند ضرور تھا۔اسکی ماں اسے با جماعت نماز کے فضائل گاہے بگاہے سناتی رہتی تھی۔ وہ بچہ اکیلا تو مسجد نہ جاتا تھا البتہ جمعے کی نماز اپنے والد اور دادا کے ساتھ مسجد میں ہی ادا کرتا۔بچے کی ماں بھی اسے اکیلے مسجد بھیجنے کی قائل نہ تھی کیونکہ وہ ابھی آداب سے نابلد تھا۔ مگر جب وہ تھوڑا سا بڑا ہوا اور ہلکی پھلکی سمجھ بوجھ کا مالک ہو گیا تو اسکی ماں نے اسے اکیلے مسجد بھیجنےکا ارادہ کیا۔ اسنےمسجد جانے سے پہلے خصوصی طور پر عطر لگایااور شیشے کے آگے کھڑے ہو کر ٹوپی درست کی اور ہرن کی طرح کی اٹکھیلیاں کرتا مسجد کی طرف نکل پڑا۔ اس بچے کا خشوع و خضوع دیدنی تھا۔ اسے یہ محسوس ہو رہا تھاکہ اﷲمیاں اس سے بیحد خوش ہیں اور انہیں اسکا مسجد آنا بہت پسند آئیگا۔ اسکی ماں دروازے پر کھڑی اسکی بلائیں لے رہی تھی کہ آج اسکا بچہ نماز پڑھنے اکیلا جا رہا ہے۔
آج سے پہلے وہ جب بھی گیا، اپنے بڑوں کے ساتھ ہی گیا تھا اور مسجد میں گھومنے کی خواہش اسکے دل میں دبی ہی رہی۔ لہٰذا اسنے مسمم ارادہ کرلیا کہ وہ آج مسجد کا بیرونی احاطہ بھی دیکھے گا اور وضو خانے کے سب نل بھی چلا کر دیکھے گا۔ اسے آخری صف کا قالین بھی بہت ملائم لگتا تھا اور آج اس پر لیٹنے کابھی موقعہ تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسے پہلی صف میں مئوذن کےبلکل  برابر کھڑا ہو کر نمازبھی ادا کرنی تھی۔
وہ جب مسجد پہنچاتو جماعت کھڑی ہونے میں کافی وقت تھا تو وہ مسجد میں گھومنے لگا۔ ہر دیوار اور کھڑکی کو ہاتھ لگا کر محسوس کرنے لگا۔ وہ ٹوپیوں کی ٹوکری میں پڑی رنگ برنگی ٹوپیوں کو باہر نکال کر ان سے کھیلنے میں مگن ہو گیا۔جب ٹوپیوں سے جی بھر گیا تو وہ اندر آکر اپنے من پسند قالین پر لیٹ گیا۔ ابھی وہ صحیح طرح لیٹا بھی نہ تھا کہ اسے ایک بھاری بھرکم آواز میں ایسا کرنے سے منع کیا گیااور وہ بھاگ کر پہلی صف میں آکر مصنوعی خشوع خضوع کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسکے بھاگنے نے اسے کچھ اور مشکوک بنا دیا تھامگراصل بجلی  جماعت کھڑے ہوتے ہی گری جب  امام صاحب نے بچوں کو پیچھے یا ایک کونے میں کرنے کاحکم دیا۔
بچوں کے اسکول کا رواج ہوتا ہے کہ جو پہلے آتاوہ پہلی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اسکا خیال تھا کہ شاید مسجد میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو مگر اسنے دیکھا کہ جو عموماََ  آخر میں آتے ہیں انہیں اگلی صفوں میں بیٹھنے کا شوق زیادہ ہوتا ہے اور قد اور چہرے کے نقوش کی بنیاد پر انکا شوق پورا بھی ہوجاتا ہے۔
اسکا دل اچاٹ ہونے لگا تو وہ مسجد کے صحن میں آکر آخری صف میں بیٹھ گیا۔ اسکا غصہ بے چینی میں کب تبدیل ہوا اسے اس بات کا خود بھی اندازہ نہیں ہوسکا۔ اسکے بار بار پہلو بدلنے پرساتھ کھڑے ایک باریش بزرگ نے آئندہ کسی بڑے کے ساتھ آنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نکل جائو ۔  
مسجد میں اکیلے جانے کی خوشی اب مسجد میں اکیلے کیوں گیا کے سوال میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ ڈوبے دل کو سنبھالتے ہوئے اپنی خفت کی انگلی پکڑے گھر کی جانب جارہا تھا کہ اسکے گھر کے قریب خالی پلاٹ، جہاں بقول اسکی ماں  برے لڑکے بیٹھتے تھے میں بیٹھےہوئے ایک شخص نے پیار سے کہا، آجائو۔۔ 


کنور نعیم                                                                                                                                           


https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ