وقت۔۔۔
وقت بہت عجیب شے ہے۔ کبھی پہاڑوں کا جگر چیر دیتا ہے تو کبھی ذرے کو بھی تبدیلی سے پاک رکھتا ہے۔ بعض اوقات مڑ کر پیچھے دیکھو تو لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے سا نہیں رہا اور کبھی ہزار ہا برس کی مسافت کے بعد بھی کوءی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔ اسی وقت کی بے اعتناءی اور اپنی بے بسی کا شکار ایک بوڑھا روز شہر کے چوک پر سورج ڈھلے آجاتا اور گھنٹوں بڑ بڑاتا رہتا۔ وہ دکھنے میں ہیبت ناک ضرور تھا، لمبے بکھرےسیاہ اور سفید بال، میل بھرے ناخن، پیلے نوکیلے دانت لیکن وہ تھا بے ضرر۔ البتہ ، کبھی کبھار قریب سے گذرتے راہگیروں پرلپک پڑتا اور، تمہیں کیا ہو گیا ہے کی گردان کرنے لگ جاتا۔اسکا حلیہ گندہ ضرور تھا لیکن چہرے پر وقار اور چال میں وجاہت بھی غضب کی تھی۔ اس کی بے ترتیبی میں بھی ایک عجب ربط ہوتا تھا۔ یوں کہہ لیں کہ، کھنڈرات بتاتے تھے کہ عمارت تھی شاندار۔ کہنے والے اس کے بارے میں عجیب عجیب داستانیں کہتے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ کسی وقت میں شہر کے متمول افراد میں سے ایک تھا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ زیادہ تعلیم نےاس کا ذہن پلٹ کر رکھ دیا۔ کچھ محبت میں دھوکے کو اس کی حالت کا ذمہ دار ٹہراتے۔ غرض،...