وقت۔۔۔




وقت بہت عجیب شے ہے۔ کبھی  پہاڑوں کا جگر چیر دیتا ہے تو کبھی  ذرے کو بھی تبدیلی سے پاک رکھتا ہے۔ بعض اوقات مڑ کر پیچھے دیکھو تو لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے سا نہیں رہا اور کبھی ہزار ہا برس کی مسافت کے بعد بھی کوءی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
اسی وقت کی بے اعتناءی اور اپنی بے بسی کا شکار ایک بوڑھا روز شہر کے چوک پر سورج ڈھلے آجاتا اور گھنٹوں بڑ بڑاتا رہتا۔ وہ دکھنے میں ہیبت ناک ضرور تھا، لمبے بکھرےسیاہ اور سفید بال، میل بھرے ناخن، پیلے نوکیلے دانت لیکن وہ تھا بے ضرر۔ البتہ ، کبھی کبھار قریب سے گذرتے راہگیروں پرلپک پڑتا اور، تمہیں کیا ہو گیا ہے کی گردان کرنے لگ جاتا۔اسکا حلیہ گندہ ضرور تھا لیکن چہرے پر وقار اور چال میں وجاہت بھی غضب کی تھی۔ اس کی بے ترتیبی میں بھی ایک عجب ربط ہوتا تھا۔ یوں کہہ لیں کہ، کھنڈرات بتاتے تھے کہ عمارت تھی شاندار۔
کہنے والے اس کے بارے میں عجیب عجیب داستانیں کہتے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ کسی وقت میں شہر کے متمول افراد میں سے ایک تھا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ زیادہ تعلیم نےاس کا ذہن پلٹ کر رکھ دیا۔ کچھ محبت میں دھوکے کو اس کی حالت کا ذمہ دار ٹہراتے۔ غرض، جتنے منہ اتنی باتیں۔
ایک دن وہ بوڑھا شخص معمول سے ہٹ کر کافی گم سم بیٹھا ہوا تھا۔ جس کی دلیل یہ تھی کہ اس دن وہ کسی بھی راہگیر کی طرف نہیں لپکا۔ وہ اس دن باتیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کو پاگل مان کر کوءی قریب نہ آنے دیتا تھا۔ لیکن آخر کار اسے بھی کچھ خدا ترس، بات سننے والے کان مل ہی گءے۔ وہ ٹوٹے فقروں میں ان سے باتیں کرنے لگا۔ اس کے جملے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ فرط جذبات میں  وہ بوڑھاکبھی مغلظات بکتا تو کبھی خوشیوں کو بیان کرتے کرتے جھوم اٹھتا۔
بوڑھے نے بتایا کہ وہ بہن بھاءی گلی کے بچوں کے ساتھ مل کر اسکول جایا کرتے تھے۔ اسکول تک کا یہ سفر یا تو تانگے پر طے کیا جاتا یاپھر پیدل باتیں کرتے کٹتا۔ اس کے ابا جب موسم کا پہلا پھل گھر لاتے تھے تو آس پڑوس کے گھروں سے بچوں کو بھی گھر میں جمع کرلیا کرتے تھے جہاں سب میں پھل برابر تقسیم کیا جاتا۔ بوڑھے کے مطابق  ان کی زندگی میں اتنی خوشیاں نہ تھیں جتنی انہوں  نے پیدا کر رکھی تھیں۔ جیسے کہ روزانہ دوستوں کے ساتھ کھیلنا اورگھر کے تمام افراد کا شام کی چاءے پر ساتھ بیٹھ کر دن بھر کے قصے سنانا ۔ محلے کی لڑکیوں کا ایک دوسرے کے سروں کی صفاءی کرنا۔ شادی والے گھر میں علاقے بھر کا جمع ہوجانا ۔  کسی کے گھر خوشی یا غم کا موقعہ ہو تو  سب کا یک جان دو قالب ہو جانا۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹی میں نانی یا دادی کے گھر جانا اور ایسے دوست بنا کر لوٹنا جن سے دوبارہ ملاقات کا کوءی امکان تک نہ ہو۔ گھر کا سودا لینے ابا یا اما ں کے ساتھ جانا اور واپسی پر اپنی من پسند چیز لیتے ہوءے آنا۔ بوڑھا یہ بھی بتا رہا تھا کہ ان کی خوشیوں کاتعلق موسموں سے بھی تھا۔ گرمیوں میں کڑی دھوپ میں دوستوں کا ٹولہ باہر نکل جاتا اور کسی کے پیڑ سے امرود توڑ لیتا یا پھر کبھی اپنے ہم عمروں سے نوک جھونک کر کے شام کو لوٹتا اور پھر اگلے دو تین دن اسی جھگڑے کی روداد سناتے گذر جاتے ۔سردیاں آتیں تو ایک لحاف میں بیٹھےپورا گھر مونگ پھلیاں کھاتا وغیرہ۔
لیکن حالات نے سدا ایسا نہیں رہنا تھا۔ وقت بدل رہا تھا۔ ایک ایسی رفتار کے ساتھ، جو محسوس نہ ہو مگر سب کچھ بدل کر رکھ دے۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی تھی۔ زندگی جدت اور انسان آرام پسندی کی طرف جا رہا تھا۔ اس بوڑھے کے لڑکپن میں داخل ہونے تک  وہ کافی کچھ اپنی آنکھوں سے تبدیل ہوتا دیکھ چکا تھا۔ پھر ایک وقت آیا جب علاقے میں خبر گرم ہو گءی کہ بجلی آنے والی ہے، جس کی آمد سے سب کچھ بدل جاءے گا۔ لیکن کیا بدلے گا، اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ اگر کچھ تھا تو صرف قیاس آراءیاں۔
ہر شخص اپنے ذہن کی وسعت اور خیال کی پرواز کے حساب سے بجلی کو بیان کرتا۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ بجلی  دکھنے میں کسی چڑیل جیسی ہوگی۔ کچھ کے مطابق بجلی نے سفید رنگ کا ہونا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اور بالآخر بجلی آگءی، جس کے آنے سے تمام اندازے غلط ثابت ہوءے۔ بجلی کسی کے بھی گمان جیسی نہ تھی۔
جیسے جیسے قصہ آگے بڑھ رہا تھا، بوڑھے کا سانس پھولتا جا رہا تھا۔ وہ روہانسا ہوتا جا رہا تھا۔ بوڑھے نے مزید بتایا کہ بجلی کی آمد کے بعد کءی اور لوازمات بھی آگءے۔ جن کے آنے سے لوگوں کا گھر ہی ان کا قید خانہ بن گیا۔جو شامیں اور صبحیں دوستوں کے سنگ تھیں وہ ٹیلیوژن لی جاتا تھا۔ گرمیوں میں اے سی کے باعث باہر جانے کو دل نہیں کرتا تھا۔ کنویں سے پانی لانے والی مشقت پانی کی موٹر کرتی تھی۔رفتہ رفتہ زندگی محنت سے ایسی عاری ہوءی کہ لوگوں سے دو قدم چلنا بھی محال ہوگیا۔ اس سہل پسندی نے پانی بھرنے کے دوران ہونے والی واقفیتوں، گلیوں میں کھیلتی دوستیوں اور بال سنوارنے کے دوران ہونے والی راز کی باتوں کا گلا گھونٹ دیا۔ بوڑھے کی نوجوانوں کی جانب لپکنے کی وجہ بھی اس وقت واضح ہوءی جب موباءل فون کے لیے بوڑھے کے سخت جذبات ابل کر سامنے آءےکہ کیسے اس مشین نے انسان کو اپنے اندر ایساغرق کیا کہ سمندر بھی حیران رہ جا ءیں۔ دور کے لوگ تو قریب آگءے مگر ساتھ بیٹھا شخص نظر انداز ہو گیا۔ زندگی اس کے اندر  ایسی گءی کہ اس سے باہر کچھ نہیں رہا۔ اس کم بخت نے تو محبت کا لطف بھی ختم کرکے رکھ دیا۔ اب چلمن کے سرکنے کا انتظار کون کرتا ہے اور اوٹ سے کون جھانکے گا؟
جب بجلی آنے والی تھی تب ہر شخص کنکشن لینا چاہتا تھا لیکن بیٹا اس کنکشن نے تو ہمارا دنیا سے ہی کنکشن کاٹ دیا۔۔۔۔۔۔۔بوڑھا بولتے بولتے رک گیا۔۔۔۔شاید اسکا کنکشن بھی کٹ چکا تھا۔۔۔


Twitter: kanwar_naeem


Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ