Posts

Showing posts from April, 2018

بکری اور بچی

Image
ہمارے معاشرے میں مساوات کی بحث ایک عرصے سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ کبھی مذہب کو لے کر مساوات کی بات کی جاتی ہے۔ کبھی معاشرت کو لے کر تو کبھی معیشت کو لے کر۔ اس کے علاوہ لسانی مساوات کا ذکر بھی تواتر سے سننے کو ملتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ دلچسپ جنسی مساوات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ عورت مرد کے برابر ہے یا نہیں، اگر ہے تو کیوں ہے اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے۔ یہ سوالات بڑے مزے کے ہوتے ہیں کیونکہ ان سوالات کو کرنے والے کے ذہن میں پہلے سے ہی ایک جواب موجود ہوتا ہے جسے وہ محض تقویت دینے کے لیےہم خیال لوگوں کی آراء جمع کر تا ہے ۔ اگر یقین نہ آئے تو کسی عورت جو اولاد کی امید سے ہو کو بیٹی کی دعا دے کر دیکھ لیجیے۔ آپ عورت کو عورت سے نفرت کرتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب عورت مرد کے برابر ہے یا نہیں اس بارے میں تو وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہاں مگر گھرمیں بیٹیوں کی موجودگی میں بیٹے کو زیادہ پیار دیتے ہوئے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔   مزے کی بات تو یہ ہے کہ بازار میں بیٹے کے حصول کی تدابیر، اوراد و وظائف اور کئی ایک نسخے بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں   جبکہ بیٹیاں تو خود بخ...

کاغا اور بگلا

Image
کام کے لیے ایک لڑکے نے ملک کے معروف اور شہر کے مشہور ترین شخص سے رابطے کا ارادہ کیا۔ اس شخص کو خدا نے ایسی آواز دے رکھی ہے کہ جب بولتا ہے تو لگتا ہے کہ سچے موتیوں کی مالا ٹوٹ کر بکھر گئی۔ ہم میں سے کئی لوگ اس کی آواز صبح سن کر سکول جاتے تھے کیونکہ اس کے صبح کے شو میں کارٹونز بھی لگائے جاتے تھے۔  وہ شخص سرکاری ادارے سے بھی منسلک تھا اور لڑکے کا خواب اور شوق پورا کرنے میں اسکی بھرپور مدد کر سکتا تھا۔ مگر اس سے رابطہ کرنا لڑکے کی زندگی شرمندہ کن غلطی ثابت ہوا۔ اس شخص نے  نوکری تو  کیا دینے تھی البتہ ایک ایسی  جاب کی پیشکش  کر دی  جس کے ساتھ انگریزی کا ایک لفظ سابقے کے طور پر لگتا ہے۔ ۔ انگریزی کو جاننے والے اب تک سمجھ چکے ہونگے کہ ہم کس جاب کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات نا قابل قبول تھی لہٰذا لڑکے نے قبول نہ کی۔ اس کا صلہ بیروزگاری تھا جس کا اس لڑکے کو بخوبی تجربہ تھا۔ جس لڑکے کا بچپن آپ کا نام اور آواز سن سن کر گذرا ہو۔ جو اسکول آپ کے ہاتھ سے لگائے گئے کارٹونز دیکھ کر جاتا ہو۔ اسے آپ کٹھ پتلی سمجھ بیٹھے؟ آپ رشتے کا تو مان نہ رکھ سکے۔ کم از کم عمر کا ہی ...

اولاد

Image
ہر شادی شدہ جوڑے کو صاحب اولاد ہونے کی خواہش اور عموماً جلدی ہوتی ہے جو کہ ہرگز بری بات نہیں ہاں عجلت کے معاملے پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اولاد کی   خواہش کے عام طور پر تین بنیادی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ اول تو اس سے گھر میں رونق ہو جاتی ہے۔ دوم اس سے میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے جس سے طلاق سے کسی حد   تک بچا جا سکتا ہے اور تیسرا   یہ کہ بڑھاپے کا سہارا مل جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک اور مصیبت ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ دو گز زمیں چاہیئے دو گز کفن کے بعد ہم جس معاشرے سے ہیں وہاںاولاد تو چاہیئے ہی مگر لڑکا کیونکہ   لڑکیوں سے   اوپر بیان کی گئی امیدوں میں سے   کوئی امید نہیں لگائی جاتی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی رونق کس کام کی جو کچھ عرصے بعد اتنا روپیہ پیسہ خرچ کروا کر کسی اور گھر کی رونق بن جائیں۔ دوسرا یہ کہ جو اس گھر میں مستقل رہے گی ہی نہیں وہ بڑھاپے کا سہارا کیسے بن سکے گی۔ اس لیے سب کو صرف بیٹے چاہئیں۔ بیٹوں کی ہر غلطی معاف ہوتی ہے۔ وہ کئی   چیزوں کا معافی نامہ ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ خوابوں کے پیچھے بھاگنا، من پسند محبت کرنا اور من پسن...