اولاد







ہر شادی شدہ جوڑے کو صاحب اولاد ہونے کی خواہش اور عموماً جلدی ہوتی ہے جو کہ ہرگز بری بات نہیں ہاں عجلت کے معاملے پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اولاد کی  خواہش کے عام طور پر تین بنیادی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ اول تو اس سے گھر میں رونق ہو جاتی ہے۔ دوم اس سے میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے جس سے طلاق سے کسی حد  تک بچا جا سکتا ہے اور تیسرا  یہ کہ بڑھاپے کا سہارا مل جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک اور مصیبت ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ
دو گز زمیں چاہیئے دو گز کفن کے بعد
ہم جس معاشرے سے ہیں وہاںاولاد تو چاہیئے ہی مگر لڑکا کیونکہ  لڑکیوں سے  اوپر بیان کی گئی امیدوں میں سے  کوئی امید نہیں لگائی جاتی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی رونق کس کام کی جو کچھ عرصے بعد اتنا روپیہ پیسہ خرچ کروا کر کسی اور گھر کی رونق بن جائیں۔ دوسرا یہ کہ جو اس گھر میں مستقل رہے گی ہی نہیں وہ بڑھاپے کا سہارا کیسے بن سکے گی۔ اس لیے سب کو صرف بیٹے چاہئیں۔ بیٹوں کی ہر غلطی معاف ہوتی ہے۔ وہ کئی  چیزوں کا معافی نامہ ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ خوابوں کے پیچھے بھاگنا، من پسند محبت کرنا اور من پسند سے محبت کرنا، زندگی اپنے ڈھنگ سے جینا وغیرہ۔اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ انہوں نے آگے چل کر کما کر دینا ہوتا ہے، خاندان کو آگے بڑھانا ہوتا ہے اور والدین کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔
خیر بات ہو رہی تھی شادی شدہ لوگوں کی خواہشات کی۔ اسی طرح کا ایک جوڑا تھا جسے باولاد میں بیٹے کی خواہش تھی۔ اور خدا کی شان دیکھیں کہ خدا نے انہیں بیٹا نہیں بلکہ تین بیٹے عطا کردیے۔ خوشیاں جیسے چھت پھاڑ کر گھر میں داخل ہو گئیں اور  گرد کی طرح ہر طرف بیٹھ گئیں۔ لیکن جیسے خدا ہر شے کے ساتھ اس کے متضاد کی آمیزش ضرور کرتا ہے بالکل اسی طرح خوشیوں کو تھوڑا گرہن بھی ضرور  لگتا ہے۔ مسرت میں کچھ غم بھی شامل ہونا ہوتا ہے۔ اس جوڑے کو خدا نے ایک اور اولاد دی جو  بیٹا نہیں تھا اور اس پر ستم یہ کہ وہ بیٹی بھی نہیں تھی۔ پہلے خوشیاں نے آسمان کی سیر کروائی تھی اب جی چاہتا تھا کہ زمین پھٹے اوراس کے اندر سما جائیں۔
ہر جاننے والا تو طعنے دیتا ہی تھا مگر اجنبی بھی  بہتی گنگا میں  خوب ہاتھ دھو تے تھے۔ نہ جان نہ پہچان کوئی بھی سر راہ آ دھمکتا اور خدا کی رضا میں راضی ہونے  کا مشورہ دینے لگتا۔ جیسے جیسے وقت بڑھتا گیا، مسائل بھی بڑھتے گئے۔  مگر پانی سر سے تب اونچا ہوا جب شوقین افراد نے گھر کا رخ کرنا شروع کیا۔ آخر کار اس بے جنس اولاد کو گھر سے  نکال دیا گیا۔ جس نے یہ اولاد دی اسی کے حوالے کردیا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دھیرے دھیرے زندگی اپنے معمول پر آگئی اور توجہ صرف بیٹوں کی تعلیم و تربیت پر مرکوز ہوگئ۔ بیٹوں کو ہر طرح کی ذمہ داریوں سے بری رکھا گیا تاکہ ان کی توجہ پڑھائی سے نہ ہٹے اور جس کو گھر سے نکالا تھا اس کی بابت خواہش تھی کہ وہ مر جائےتاکہ  مزید کوئی بدنامی گھر کی دہلیز نہ پھلانگ پائے، بیٹوں کے رشتوں میں رکاوٹ نہ آئے، کسی کی تنقید کا ہدف نہ بنا جائے۔ کسی تقریب میں مدعو کیا جاتا تو اس بات کا خوف آ گھیرتا کہ کہیں اس تقریب  میں ان کے  گھر کا سابق فرد نہ ناچ رہا ہو ۔
زندگی ایک گاڑی کی طر ح مسلسل چلتی جاتی ہے۔ لوگ اس پر چڑھتے  اور  اترتے رہتے ہیں۔ یہ   ایک ہی رفتار سے چلتی جاتی ہے۔ نہ تھمتی ہےنہ  رکتی ہے۔ انکی زندگی بھی رواں دواں تھی۔ بیٹے بڑے ہو گئے مگر کسی کام کے نہیں ہوئے۔ جس پڑھائی پر انہیں لگایا تھا  انہیں اسکا کوئی شوق نہیں تھا اور شوق پیدا بھی نہیں ہوا۔ کام کرنے کی عادت تو ڈالی ہی نہیں گئی تھی۔ خوشیوں کی جو گرد گھر میں جمی تھی وہ اب مسائل کی بارش سے دھل کر بہنے لگی تھی۔ جیسے ایک خوشی اپنے ساتھ کئی خوشیاں لے کر آتی  ہے اسی طرح ایک غم کے پیچھے کئی غم کھڑے ہوتے ہیں۔
 باپ کی ملازمت کی مدت  ختم ہوگئی اور ڈھلتی عمر کی بیماریوں نے دونوں میاں بیوی کو آلیا۔
اولاد جو کبھی آنکھ کا نور ٹہری تھی اب  تکلیف کا باعث بن گئی تھی۔ حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے تھے اور قبل اس کے کہ بات فاقوں یا گھر کی فروخت تک پہنچتی ایک دن ان کے گھر کوئی اجنبی عورت آئی اور کچھ پیسے ان کو تھما گئی۔ کسی غیر کی امدادبہت قدر تکلیف دہ ہوتی ہے مگر یہ غیر کی امداد تو نہیں تھی۔ اب یہ سلسلہ چل نکلا تھا۔ ان کو بڑھاپے میں سہارا مل گیا تھا۔ ضرورت کی رقم ہر ماہ مل جاتی تھی۔ گذر بسر ہو جاتا تھا۔ والدین کو خدا الہام کی طاقت بھی دیتا اور کسی حد تک  غیب کا علم بھی ۔ وہ اپنی اولاد کو کبھی نہیں بھولتے۔ جس اولاد کے لیے ایک زمانے میں موت مانگی جاتی تھی آج وہی سہارا بنی تھی۔ آج اسکی کامیابی، کامرانی اور سرشاری کی دعائیں کی جاتی تھیں۔
کبھی کبھی  پھروہ میاں بیوی ساتھ بیٹھ کر سوچا کرتے تھے کہ واقعی اولاد تو وہ ہوتی ہے جو رشتے مضبوط کرے اور بڑھاپے میں سہارا بنے۔ بیٹا ہو یا بیٹی یا کچھ بھی نہیں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔اس  سوچ کے ساتھ  ہر بار آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔

کنور نعیم

Twitter: @kanwar_naeem
Facebook: https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

Comments

  1. Betway Casino Bonus Code is MAXBONUS | ᐈ 30 Free Spins
    Casino 출장안마 Review, Bonuses, FAQ & febcasino.com More! 토토 New players welcome bonus $10 no aprcasino deposit bonus + 100% up to $1000 in Betway Casino Bonuses!

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ