مصور
ایک بوڑھا آدمی شہر کے سب سے رئیس شخص کے گھر ملازم تھا۔ رئیس کا کپڑے کا بہت بڑا کام تھا۔ اس کا مال بیرون اور اندرون ملک یکساں مقبول تھا۔ اس کی دن دوگنی اور رات چگنی ترقی ایک عرصے سے ہوتی چلی جا رہی تھی۔ بوڑھے کو اس گھر میں کام کرتے تین دہائیاں بیت چکی تھیں۔ اب وہ نوکر کم اور گھر کا فرد زیادہ تھا۔ بوڑھے کو اس بات کا ادراک تھا اور وہ اس بات کا پورا پورا مان بھی رکھتا تھا۔ رئیس کا ایک ہی بیٹا تھا جسے وہ بہت لاڈ اور پیار سے رکھتا تھا۔ اس لڑکے یعنی سیٹھ کے بیٹے کو مصوری کا بے حد شوق تھا اور اس کے دن کا بیشتر حصہ گھر کے اس کمرے میں گذرتا جس کوسٹوڈیو کا درجہ دیا ہوا تھا۔ اس کمرے میں کسی کو اس لڑکے کی مرضی کے بغیر جانے کی اجازت نہ تھی البتہ صفائی کرنے، اس لڑکے کو بلانے اور کبھی اس کو کھانا پہنچانے کی غرض سے وہ بوڑھا ملازم اس کمرے میں جاتا رہتا تھا۔ اس کمرے میں جو بھی جاتا مبہوت ہو کر رہ جاتا۔ تمام شہ پاروں کو اتنی نفاست سے سجایا گیا تھا کہ انکا حق ادا ہو گیا تھا۔ مصوری اور خطاطی کے فن پاروں کو دیواروں پر ایک ترتیب اور سلسلے کے ساتھ آویزاں کیا گیا تھا اور ہر فن پارے پر اس کے مضمون کے حساب...