مصور




ایک بوڑھا آدمی شہر کے سب سے رئیس شخص کے گھر ملازم تھا۔ رئیس کا کپڑے کا بہت بڑا کام تھا۔ اس کا مال بیرون اور اندرون ملک یکساں مقبول تھا۔ اس کی دن دوگنی اور رات چگنی ترقی ایک عرصے سے ہوتی چلی جا رہی تھی۔ بوڑھے کو اس گھر میں کام کرتے تین دہائیاں بیت چکی تھیں۔ اب وہ نوکر کم اور گھر کا فرد زیادہ تھا۔ بوڑھے کو اس بات کا ادراک تھا اور وہ اس بات کا پورا پورا مان بھی رکھتا تھا۔ رئیس کا ایک ہی بیٹا تھا جسے وہ بہت لاڈ اور پیار سے رکھتا تھا۔ اس لڑکے یعنی سیٹھ کے بیٹے کو مصوری کا بے حد شوق تھا اور اس کے دن کا بیشتر حصہ گھر کے اس کمرے میں گذرتا جس کوسٹوڈیو کا درجہ دیا ہوا تھا۔ اس کمرے میں کسی کو اس لڑکے کی مرضی کے بغیر جانے کی اجازت نہ تھی البتہ صفائی کرنے، اس لڑکے کو بلانے اور کبھی اس کو کھانا پہنچانے کی غرض سے وہ بوڑھا ملازم اس کمرے میں جاتا رہتا تھا۔ اس کمرے میں جو بھی جاتا مبہوت ہو کر رہ جاتا۔ تمام شہ پاروں کو اتنی نفاست سے سجایا گیا تھا کہ انکا حق ادا ہو گیا تھا۔ مصوری اور خطاطی کے فن پاروں کو دیواروں پر ایک ترتیب اور سلسلے کے ساتھ آویزاں کیا گیا تھا اور ہر فن پارے پر اس کے مضمون کے حساب سے روشنی بھی لگائی گئی تھی جس سے ان کی خوبصورتی کو چار چند لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جو مجسمہ سازی کا کام تھا انہیں میز اور لکڑی کے تخت پر سجایا ہوا تھا۔اس کمرے میں موجود کام اس قدر نفیس تھا کہ دیکھنے والا بنانے والے کے قلم اور ہاتھوں پر رشک کیے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کو اس طرح سے رکھا گیا تھا کہ نیا آنے والا انہیں کچھ دیر کے لیے اصلی تصور کر بیٹھتا تھا۔ کمرے کی دیواروں کا رنگ، کمرے کی صفائی اور کی بناوٹ۔ غرض جس چیز کے بھی بارے میں بات کرلی جائے جواب سبحان اللہ ہی ہوگا۔
بوڑھے کی اس کمرے سے انسیت کی دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ وہ اس گھر کی رونقوں اورخوشیوں کو اپنی ہی خوشیاں اور رونقیں مانتا تھا۔ جب بھی وہ بچہ سکول میں کوئی انعام جیتتا تھا تو بوڑھے کو لگتا تھا کہ وہ خود جیتا ہے۔ سکول میں جب بھی اس کے کام کی ستائش ہوتی تو بوڑھا پھولے نہ سماتا۔ سکول ختم ہوا تو یہ سلسلہ کالج پہنچ گیا اور کامیابیوں اور ستائش کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہا پھر یونیورسٹی آگئی مگر اس کا کام اپنا لطف اور کشش برقرار کیے رکھا اور بوڑھے کی خوشیاں ہر نئی کامیابی اور تحسین پر دوبالا ہوتی چلی گئیں۔ اس لڑکے کی کامیابیاں بوڑھے کو جوان کیے رکھی ہوئی تھیں۔ پھر ایک ایسا بھی وقت آتا کہ وہ لڑکا ان فن پاروں سے اچھی خاصی دولت کمانے لگ گیا اور اس کی پہچان اس کا یہی کام بن گیا۔ اس لگائو کی دوسری وجہ بوڑھے کا اپنا بیٹا تھا جو کہ سیٹھ کے بیٹے کا نا صرف ہم عمر تھا بلکہ اس کا شوق بھی قلم سے کھیلنا یعنی مصوری، خطاطی اور مجسمہ سازی تھا۔ بوڑھا چونکہ اس کو وہ سب سہولیات تو مہیا نہیں کر سکتا تھا جو کہ سیٹھ کے بیٹے کے پاس تھیں لہذا اس نے سیٹھ کے بیٹے میں ہی اپنا بیٹا ڈھونڈ لیا تھا۔ اپنے احساس محرومی کو شاید اس نے اس طرح سے قبا اوڑھا دی تھی۔ جتنا بڑا بوڑھے کا گھر تھا اتنا بڑا سیٹھ نے سٹوڈیو بنایا ہوا تھا۔
دن چل رہے تھے اور گذر بسر بھی اچھا ہو رہا تھا، بوڑھے کا بھی اور مالک کا بھی۔ مگر غریب روزہ رکھے تو دن لمبے ہو جاتے ہیں۔ مالک کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ یہ خبر جتنی مالک کے لیے اندوہناک تھی اتنی ہی بوڑھے کے لیے تھی۔ لڑکا بیہوش تھا۔ وہ بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچے۔ جان بچ گئی تھی۔ اس کی جان بچنے سے سب کی جان میں جان آگئی۔ علاج کئی دن چلا اور لڑکا رو بہ صحت ہونے لگا۔ مگر خوشیاں غریب کو کم ہی راس آتی ہیں۔ میڈیکل ٹیسٹ ہوئے اور یہ بات واضح ہوگئی کہ لڑکا اپنے ہاتھ کھو چکا ہے۔ اس خبر نے بوڑھے کے ہاتھ کاٹ دیے۔ وہ تھک گیا۔ اس کی زمین پیروں کے نیچے نہ رہی۔ وہ نہ زمین کا رہا نہ آسمان کا۔ اس سے چلا نہ جارہا۔ اس دن شام کب ہوئی اسے پتا نہیں چلا۔ دن کیسے گذرا اسے علم نہیں ہوا۔ اس شام وہ چھٹی کر کے گھر کب پہنچا اسے خود معلوم نہیں۔ گھر میں وہ داخل ہوا تو سامنے اسکا بیٹا بیٹھے مصوری کر رہا تھا۔ اس دن حسب معمول بوڑھے نے گھر میں گھستے ہی سلام نہیں کیا تھا۔ کسی گڑ بڑ کا اس سے بڑا کوئی پیش خیمہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کا بیٹا قلم چھوڑ کر دفعتاً اپنے باپ کے پاس آگیا۔ بوڑھے کے چہرے پر آج رونق نہیں تھی۔ اسکا چہرہ ایک  پرانی بوسیدہ لاش جیسا تھا۔ اس دن ایسا لگا کہ عمر نے اچانک ہی اس کے چہرے پر سارے نقوش چھوڑ دیے۔ بیٹا بار بار پوچھ رہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے۔ بات کیا ہوئی ہے مگر بوڑھے کے منہ سے ہچکیوں کے سوا کچھ نہیں نکل رہا تھا۔ بار بار اصرار پر بوڑھا بس اتنا ہی کہہ پایا کہ چھوٹے مالک کے اب ہاتھ نہیں رہے۔ وہ اب مصوری نہیں کریں گے۔ یہ سن کر بوڑھے کا بیٹا سکتے کی کیفیت میں چلا گیا۔ دونوں باپ بیٹے ایک چھت کے نیچے اس طرح پڑے تھے جیسے جنگ کے میدان میں دو بے یارو مددگار لاوارث لاشیں ہوں۔ ایک لمبا عرصہ سکوت اور خاموشی کا گذر گیا۔ اس دوران اتنی خاموشی تھی کہ سانسوں کا شور کمرے میں گونج رہا تھا۔ لگتا تھا کہ دونوں کی سانسیں آپس میں مخاطب ہیں مگر وہ اس قدر بے ربط تھیں کہ کوئی بھی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آخر کار جب آنسو بھی تھم گئے، مزید ہچکیوں کی بھی گنجائش نہ رہی، کہنے سننے کو بھی جب کچھ نہ بچا تواس کے بعد بس  بوڑھے کے بیٹے کی ایک آواز آئی جس کا بوڑھے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔

ابا اب میری پینٹنگز کون خریدے گا؟؟؟
کنور نعیم

Facebook:                 https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
Twitter:             kanwar_naeem



Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ