Posts

Showing posts from April, 2020

میرے قاتلوں کے نام لکھ لو

Image
زندگی اس وقت جس شکل میں گذر رہی ہے، ایسی کبھی سوچی بھی نہ تھی اور اللہ نہ کرے کہ ہمیں دوبارہ ایسی آزمائش سے گزرنا پڑے۔ مجھے جو ڈپریشن اس وقت ہونے لگا ہے، وہ زندگی کے اب تک پیش آنے والے مشکل ترین حالات میں بھی نہیں ہوا۔ میرے پاس دل بہلانے کو بہت سی مصروفیات اور باتیں کرنے کو بہت سے لوگ میسر پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ زندگی میں ایسے لوگ بھی تھے اور ہیں جن کے ساتھ میں بہت اچھا اور پرسکون وقت گزارا کرتا ہوں۔ نہ پیسے کی تنگی ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ لیکن یہ تمام چیزیں پاس ہونے کے باوجود ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ یوں مانو جیسے میں اور یہ تمام چیزیں ایک شیشے کی دیوار کے ذریعے الگ کر دی گئی ہیں۔ میں انہیں دیکھ سکتا ہوں، یہ بالکل میرے پاس ہیں، لیکن ہم میں دوری آ گئی ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ کسی کو چھونا نہیں ہے۔ کسی کے پاس نہیں جانا اور نہ کسی کو اپنے پاس آنے دینا ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کسی کیفے میں نہیں بیٹھ پا رہا۔ میں شام کو سڑکوں پر دوستوں کے ہمراہ وقت نہیں گزار پا رہا۔ مارگلہ کی پہاڑیاں دعوت نظارہ تو اب بھی دیتی ہیں لیکن اس دعوت کو ہر روز رد کرنا پڑ تا ہے۔ گھر کے بچوں کو اب پی...

تمام جہلا کو غالب کا پیغام

Image
کسی زمانے میں لوگ دیوان غالب سے فال نکالا کرتے تھے۔ وہ اس کتاب کو اس قدر اہم کیوں سمجھتے تھے، مجھے یہ بات شاید اب سمجھ آئی ہے۔ جب سے کرونا کا مسئلہ زمین کے باسیوں کے نصیب میں آیا ہے، کئی چہرے بے نقاب ہوئے، کئی دعوؤں کی دھجیاں اڑیں، دیر و حرم پر سے پردہ اٹھا اور بھی بہت کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر وہ دروازہ جہاں سے مدد ملا کرتی تھی، وہ بند ہوگیا۔ ہر وہ دروازہ جو سازشوں کے محلات میں کھلتا تھا، وہ امیدوں کا محور بنا ہوا ہے۔ سائنس جو اخلاق اور مذہب کی دشمن تھی، اب صرف وہی ایک سچی دوست بن کر کھڑی ہے،  الکوحل جو خوشبو میں مل جائے تو نماز نہیں ہوا کرتی تھی، مسجدیں اسی سے غسل کر رہی ہیں۔   کفار کی شکست کے لیے پھیلی جھولیاں اب دعا گو ہیں کہ کسی طرح کفار کو مرض کا توڑ ڈھونڈنے میں کامیابی حاصل ہو جائے۔ ایک دوسرے پر معاشی پابندیاں لگانے والے، اب عالمی بھائی چارہ تراشنے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ کسی کی موت پر بھی چھٹی نہ دینے والے، گھروں سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ فری مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کو متعارف کروانے والے اب طبقاتی ت...

ہم شاید اپنی ماں سے مختلف عورت دیکھتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں

Image
آپ کو کیا لگتا ہے، اگرعورتوں کو آزادی مل گئی تو وہ ہر راہ چلتے مرد کے ساتھ سونا شروع کر دیں گی؟ وہ اپنی زندگی کا مقصد سیکس کو بنا لیں گی؟ کیا زمانے میں کرنے کو یہی کام رہ گئے ہیں جن کے لئے خواتین آزادی مانگتی پھرتی ہیں؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیں، بلکہ چھوڑیں، اپنے گھر کے اندر دیکھیں۔ جب گھر کا لڑکا گھر دیر سے آتا ہے تو ماں باپ فکرمند تو ضرور ہوتے ہیں لیکن تڑپتے نہیں ہیں۔ گھر کی لڑکی ذرا دیر کر دے تو کلیجے منہ کو آ جاتے ہیں۔  کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟  عورت بازار میں چاہے برقعہ پہن کے جائے یا جینز،  اس کو لوگوں کی ٹکروں سے خود کو بچا بچا کر کیوں چلنا پڑتا ہے؟ کبھی سوچا؟ بیٹا جب تک پیدا نہ ہو جائے، بچوں پر بچے پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ چاہے عورت اس عمل میں ہلکان ہو جائے۔ کتابیں ہاتھوں سے لے کر مہندیاں مل دی جاتی ہیں لیکن کوئی بات نہیں۔ بیوی کو لیڈی ڈاکٹر کو دکھائیں گے لیکن لڑکی نہیں پڑھائیں گے۔ دشمنوں سے بدلہ لینا ہوگا تو ان کی عورتوں کے جسم کو میدان جنگ بنائیں گے۔ لڑکی محبت سے انکاری ہو جائے گی تو تیزاب ڈال دیں گے۔ فیصلہ مشکل ہو جائے گا تو جرگہ عورتوں ...

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ

Image
میرا بھائی سندھ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا لیکن وہاں آئے روز کے جھگڑے اور کامریڈ کہلانے والے جھگڑالو اور لسانیت پرست طلبہ کی بدمعاشیوں کی وجہ سے امی ابو نے، بھائی کو یونیورسٹی جانے سے روک دیا اور پھر بھائی نے کالج سائڈ سے پڑھائی مکمل کی۔ اس بات کے تقریباً چھ سال بعد میرا یونیورسٹی جانے کا وقت آیا تو قائد اعظم یونیورسٹی کو چنا کیونکہ اس کا شمار پاکستان کی بہترین جامعات میں ہوتا تھا اور ہمارے مطابق وہ سندھ یونیورسٹی سے زیادہ محفوظ تھی۔ بہرحال، جو لوگ قائد اعظم یونیورسٹی سے واقف ہیں انہیں میں اتنا بتاتا چلوں کہ یہاں ہرصوبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنے صوبے کی سٹوڈنٹ کونسل بنائی ہوئی ہے۔ سندھ والوں کی مہران سٹوڈنٹ کونسل، پنجاب کی پنجاب کونسل، پٹھانوں کی پختون کونسل اور اسی طرح گلگت بلتستان تک کی کونسل یہاں موجود ہیں۔ میں چونکہ سندھ سے تھا تو مہران کونسل میں خود بخود آ گیا۔ مزید بات کرنےسے پہلے میں آپ کو مہران کونسل کے کچھ اصول بتاتا چلوں۔ فرسٹ سمسٹر کے طلبہ کو پوری یونیورسٹی میں موجود تمام سندھی سینئرز کا نام، علاقہ، ڈپارٹمنٹ اور سمسٹر معلوم ہونا لازم ہے۔ اگر کوئی سینئر کسی...

طلبہ کاؤنسلز: ثقافت کی حفاظت یا شدت پسندوں کا گٹھ جوڑ؟

Image
کوئی بھی چیز جب حد سے بڑھ جائے تو نشہ بنتی ہے۔ یہی حال طاقت کا بھی ہے۔ یہ انتہائی ضرورت کی چیز ہے لیکن جب یہ حد سے بڑھتی ہے تو پھر اخلاق کی حد بھی پھلانگ جاتی ہے اور انسانیت کی بھی۔ جب انسان نے پسی ہوئی زندگی گزاری ہو، ضرورت کی ہر چیز کے لیے ترسا ہو،  حقوق کو سلب ہوتے دیکھا ہو اور پھر اچانک اس کو اختیار مل جائے۔ ایسے میں شاید ہی وہ اخلاق کا دامن تھامے رکھے۔ بالکل یہی حال سٹوڈنٹ کاؤنسلز کا ہے۔ پورے ملک میں استحصال کا دور دورہ ہے۔ جس کی لاٹھی ہے وہی بھینس کا مالک بنا بیٹھا ہے اور پھر جن علاقوں میں بدحالی زیادہ ہے، وہاں کے طلبہ کے رویے اور بھی زیادہ شدت پسندانہ ہیں۔ یہ کاؤنسلز انہیں ایک موقعہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی آواز کو قابل سماعت بنا سکیں۔ اب نہ ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ طلبہ کی اخلاقی تربیت کی جاتی ہو اور نہ سیاسی نظام ایسا ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرتی ہو، تو پھر قصور وار کون ہوا؟ کیا طلبہ کے ان متشدد رویوں میں ریاستی غلطیوں اور کوتاہیوں کو ڈھونڈنا چاہیے یا دشمن ممالک کی سازشوں کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے؟ جن کے باپ دادا علاقے کے کاؤنسلرز، نمبردار، زمیندار، ایس...

جانو! دیکھ کے ڈیلیٹ کردونگا

Image
جذبات ویسے تو کبھی بھی بھڑک سکتے ہیں، لیکن جوانی میں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔  آپ زندگی میں کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کوئی خواب پورا کرنا چاہتے ہیں، تب بھی سب سے بہترین عمر جوانی ہوتی ہے۔ حتٰی کہ گناہ اور ثواب بھی صرف جوانی میں زیادہ مزہ دیتے ہیں۔ لیکن عام طور پر ہمارے آس پاس یہ جذبات منفی ہی بھڑکتے ہیں۔ ابھی تازہ وبا جو پھیلی ہوئی ہے وہ لیک فوٹوز اور وڈیوز کی ہے۔ یہ کام ہو تو بہت عرصے سے رہا ہے لیکن اس بار معروف خواتین اس کی زد میں آئی ہوئی ہیں۔ کسی کا نام لینا مناسب نہیں ہو گا لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسا کچھ ہو جانے کے بعد اپنی صفائیاں دینے کے لیے برقعے ا ور عبایا پہننے یا مقدس مقامات پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک کام آپ نے کیا یا آپ سے ہو گیا،  اتنی سی بات پر پوری دنیا کو عدالت اور دنیا والوں کو منصف بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکیاں کیوں اتنی بے بس ہیں کہ وہ ہر عمل پر ہر ایک کو جوابدہ ہو جاتی ہیں۔ لعنت بھیجیں دنیا پر، اپنے آپ کو مکمل اور مطمئن سمجھیے۔آپ کی ذات پر آپ سے زیادہ کسی اور کا حق، نہ تو ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں...