میرے قاتلوں کے نام لکھ لو
زندگی اس وقت جس شکل میں گذر رہی ہے، ایسی کبھی سوچی بھی نہ تھی اور اللہ نہ کرے کہ ہمیں دوبارہ ایسی آزمائش سے گزرنا پڑے۔ مجھے جو ڈپریشن اس وقت ہونے لگا ہے، وہ زندگی کے اب تک پیش آنے والے مشکل ترین حالات میں بھی نہیں ہوا۔ میرے پاس دل بہلانے کو بہت سی مصروفیات اور باتیں کرنے کو بہت سے لوگ میسر پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ زندگی میں ایسے لوگ بھی تھے اور ہیں جن کے ساتھ میں بہت اچھا اور پرسکون وقت گزارا کرتا ہوں۔ نہ پیسے کی تنگی ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ لیکن یہ تمام چیزیں پاس ہونے کے باوجود ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ یوں مانو جیسے میں اور یہ تمام چیزیں ایک شیشے کی دیوار کے ذریعے الگ کر دی گئی ہیں۔ میں انہیں دیکھ سکتا ہوں، یہ بالکل میرے پاس ہیں، لیکن ہم میں دوری آ گئی ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ کسی کو چھونا نہیں ہے۔ کسی کے پاس نہیں جانا اور نہ کسی کو اپنے پاس آنے دینا ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کسی کیفے میں نہیں بیٹھ پا رہا۔ میں شام کو سڑکوں پر دوستوں کے ہمراہ وقت نہیں گزار پا رہا۔ مارگلہ کی پہاڑیاں دعوت نظارہ تو اب بھی دیتی ہیں لیکن اس دعوت کو ہر روز رد کرنا پڑ تا ہے۔ گھر کے بچوں کو اب پی...