Posts

Showing posts from December, 2019

ہم ٹھمکے لگاتے نہ رہ جائیں‎

Image
بھارت میں لوگوں کے پاس بیت الخلا نہیں۔ انکے وزیر اعظم کو اقوام عالم کو اپنی کوئی کامیابی اگر بتانا پڑ جائے تو وہ بیت الخلاؤں کی تعمیر کے بارے میں بتاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں لوگوں کو بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت میسر ہے۔ مگر کیا وجہ ہے کہ ایسے ملک میں امریکہ کا صدر آجاتا ہے۔ اوبامہ اپنے ادوار حکمرانی میں دو بار بھارت آیا لیکن ہماری طرف کا رخ 2006 کے بعد سے کسی امریکی صدرنے نہ کیا۔ بھارت خواتین کے لیے انتہائی غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے۔ اسکے دارالحکومت دہلی کو  ریپ کیپیٹل بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کا ایسا کوئی شہر نہیں جسے تاحال ایسا کوئی لقب یا عرف ملا ہو۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ سیاح اسی بھارت کا رخ کرنے میں تو نہیں جھجھکتے لیکن ہماری طرف آنے میں ان کی سانسیں حلق میں اٹک جاتی ہیں۔(تاہم، اب ہم بہتری کی جانب جانا شروع ہو رہےہیں)۔ بھارت کا وزیراعظم ایک ایسی جماعت سے ہے جو شدت پسند، انتہا پسند اور مسلمان دشمن جماعت ہے۔ ان کے وزیراعظم جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو  2002 کے گجرات فسادات میں ان کا بھی عمل دخل تھا۔ اسی وزیراعظم کی سرپرستی میں، کشمیر میں ظلم و بربریت کی...

اسٹیبلشمنٹ، مُنا بھائی اور سیاستدان سرکٹ

Image
لگے رہو مُنا بھائی فلم میں منا بھائی (سنجے دت) اور سرکٹ (ارشد وارثی) جب دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں تو گاؤں واپس جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ سرکٹ، منا بھائی سے پوچھتا ہے کہ گاؤں جا کر وہ لوگ کیا کریں گے؟ منا بھائی جواب دیتا ہے کہ گاؤں والوں کو اتہاس (تاریخ) پڑھائیں گے۔ سرکٹ کہتا ہے، ہمیں کیا اتہاس گھنٹہ معلوم ہے؟ منا بھائی جواب دیتا ہے کہ، تو کیا گاؤں والوں کو گھنٹہ معلوم ہے؟ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم سب گاؤں والے ہیں اور سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ منا بھائی اور سرکٹ ہیں۔ یہ لوگ حکمرانی کا خواب لیے آ جاتے ہیں اور ہم ان کی پڑھائی ہر پٹی کو من و عن تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ ہم آمریت کے آنے پر بھی لڈو بانٹتے ہیں، آمریت جانے پر بھی بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ جمہوریت کی آمد کا بھی جشن مناتے ہیں اور اس کی رخصتی کا بھی۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے تو ہم مان لیتے ہیں کہ جی حضور، بالکل ایسا ہی ہے۔ ہمیں کہا جائے کہ فلاں حکومت مذہب دشمن ہے تو ہمیں اس کے عقائد اور ارادوں میں کھوٹ نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہمیں کرپشن سے پاک پاکستان کا خواب دکھایا جائے تو ہم تعبیر کی سوچوں میں کھو ...

ٹپال کا اشتہار اور ڈاکٹر عابد غفور کی کلاس

Image
علم بشریات (آنتھروپولوجی) کی کلاس تھی۔ عابد غفور صاحب صنعتی انقلاب کے بارے میں پڑھا رہے تھے۔ کلاس میں مباحثہ چل نکلا کہ صنعتی انقلاب نے کیسے سرمایہ دارانہ نظام کو جنم دیا اور کیسے سرمایہ دارانہ نظام نے گھریلو زندگی کو متاثر کیا۔ صنعتی انقلاب کی غالباً دوسری لہر تھی، لوگ بڑی تعداد میں دیہی سے شہری علاقوں میں منتقل ہو رہے تھے۔ شہر میں آباد ہونے والوں کے لیے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں جانا خاصا مشکل تھا کیونکہ نوکری کے خواہشمندوں کی کوئی کمی نہ تھی اور اوپر سے اوور ٹائم کی لالچ کا بھی نظام نیا نیا تھا۔ وہ نوکری کو داؤ پر لگا کر یا مزید آمدن کو ٹھکرا کر اپنے گھروں کو جانے کے بجائے زائد آمدن گھر بھیجنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے۔ لیکن گھر کی محبت کو دل سے ختم کردینا شاید کبھی بھی ممکن نہیں رہا۔ جوں ہی کسی کو کوئی آسامی خالی نظر آتی، وہ اپنی بیوی کو وہاں لگوا دیتا اور یوں بیویاں بھی شہر آ کر آباد ہو جاتیں۔ مسئلہ صرف بوڑھے والدین کا تھا، جنہیں ساتھ رکھنا زیادہ مہنگا اور مشکل تھا کیونکہ انہیں دینے کو جو وقت تھا، وہ صنعتوں اور مشینوں کی نظر ہو جاتا تھا۔ اس لیے والدین کو گاؤں ہی م...

ایشیا کب سرخ ہوگا؟

Image
آپ ریموٹ اٹھائیں اور کوئی بھی چینل لگا کر تھوڑی دیر بیٹھ جائیں۔ ایک اشتہار آئے گا جس میں کوئی میٹھی چیز بیچی جا رہی ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد اسی یا اس کے آگے پیچھے کسی چینل پر ذیابیطس کی ہولناکی اور اس کی روک تھام کے لئے کوئی دوائی بیچی جا رہی ہوگی۔  پھر تھوڑی دیر بعد بچوں کو بسکٹ اور چاکلیٹ چاٹتے ہوئے دکھائیں گے اور اگلے ہی لمحے سفید کوٹ میں کوئی اداکار ڈاکٹر بن کر دانتوں کی حفاظت کے بارے میں بتا رہا ہوگا۔ ایک سے زائد شادیاں کرنےوالے مرد و خواتین خوشگوار ازدواجی زندگی کے راز کھولتے نظر آئیں گے۔ جن عورتوں کے شوہر گنجے ہیں، وہ ہمیں گرتے بالوں کو روکنے کے گر سکھائیں گی۔ تھائی لینڈ کے سمندروں کے ساحلوں پر لباس کی فکر سے آزاد خواتین کے ساتھ فلمیں اور گانے بنا کر، ٹوئٹر پر پردے اور لباس کے بارے جہاد کرتے چہرے، دن کا آغاز ناچ گانےسے کرنے والے چند ایک خاص مہینوں میں، ناچ گانے سے پیدا ہونے والی خرافات کا درس دیں گے۔ پورے ایشیا کو سرخ دیکھنے والے، جس نظام کے خلاف ہیں، اسی نظام کو ذاتی زندگیوں میں اپنائے رکھتے ہیں۔ ایسے تضادات کو اگر انسان تحریر کرنا چاہے تو شاید خضر سے عمر ادھار ...

تم سے پہلے وہ جو ’ہر‘ شخص یہاں تخت نشیں تھا

Image
طاقت کا غرور انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہم تو چھوٹے چھوٹے ملکوں کے باسی ہیں۔ کسی زمانے میں بادشاہوں، مہاراجوں اور فاتحین کی سلطنتیں تو میلوں کے رقبوں پر پھیلی ہوتی تھیں۔ فتوحات کے زمانوں میں وہ خود کو ناقابل تسخیر سمجھا کرتے تھے۔ مخالفین پر ہاتھی دوڑانا، سر قلم کرنا، تخت کے لئے باپ بھائیوں کو بھی قتل کر دینا۔ یہ تمام باتیں ان کے لئے اتنی ہی عام تھیں جتنا ہمارے لئے ہاتھ پر بیٹھے مچھر کو مارنا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ وہ بادشاہ کیا ہوئے؟ وہ فاتحین کہاں ہیں؟ اکثر کی توقبریں تک نامعلوم ہیں۔ وہ لوگ جو کچھ کرتے تھے وہ ان کے ادوار کی روایات تھیں۔ لیکن آج کا انسان تہذیب یافتہ ہے۔ وہ ان تمام حکمرانوں کے حالات سے واقف ہے۔ اس کے سامنے جنگ ہائے عظیم بھی ہیں، ہٹلر بھی ہے، سکندر بھی ہے۔ ساری تاریخ بازیچہ اطفال کی مانند سامنے بکھری پڑی ہے۔ لیکن یہی تہذیب یافتہ انسان کس قدر احمق ہے کہ ہر دور کے جابر کے احوال جاننے کے باوجود تاریخ کی غلطیاں دہراتا رہتا ہے۔ لمبی کہانی کو چھوٹا کرتے ہیں اور عزت مآب حضور عمران خان صاحب کی شعلہ بیانی کا ذکر کرتے ہیں۔ عمران خان صاحب جب مبینہ طور پر الیکشن جیتے اور پہلی ...

ہمیں معلوم ہے سندھ میں ڈگری کیسے ملتی ہے؟

Image
انسانی معاشرے میں ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہوئے زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ یوں تو ہر شخص ہی کسی نہ  کسی طرح سہارے کی تلاش میں ہوتا ہے لیکن غریب کو دادرسی اور حاجت روائی کے مسیحا کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔پاکستان چونکہ بنتے ہی مشکلات کا شکار ہوگیا تھا۔ اسلیے عوام کبھی آمروں کو حاجت روا مانتی تھی، کبھی قائد کے فرمانوں کی طرف دیکھتی تھی۔ ایسے میں   ذولفقار علی بھٹو ایک مسیحا بن کر ابھرا۔ بھٹو کو خدا نے کمال کی شخصیت دی تھی۔ اسکی چال، اسکی آواز، اسکی گفتگو اور اسکی تقاریر میں صور بھرا ہوا تھا۔جس کے کانوں میں پڑتی، وہ پھر سے جی اٹھتا، مخالفین کے بیانیے دم توڑنے لگتے۔ لیکن کیا بھٹو صرف گفتار کا غازی تھا؟ اسکا جواب نفی میں ہے۔ لینڈ ریفارمز ہوں، متفقہ آئیں ہو، پاسپورٹ ہویاطلبہ یونینز وغیرہ ہوں۔۔۔ یہ اعجاز ہے حسن وآوارگی کا جہاں گئے داستاں چھوڑ آئے یہ تمام باتیں شاید دم توڑ جاتیں لیکن بھٹو جس دھج سے مقتل میں گیا، وہ دھج اسکو ہمیشہ سلامت رکھے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ بھٹو غلطیوں سے پاک تھا، اس بنگلہ دیش کے معاملے میں سختی برتی، مذہب کو بھی استعمال کیا ، اپنے ...