Posts

Showing posts from July, 2017

ہونے والے سالے

Image
ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں،جہاں ہمارے ایّام و سال گزرتے ہیں،وہاں محبّت کی تکمیل کے لیئے ہونے والے سالوں کا وہی کردار ہے جو زندہ شخص کے لیے ہوا کا۔عموماٌ محبت کی ابتدا انہی کے مرہونِ منّت ہوتی ہے ،کہ جب براہِ راست گفت و شنید ممکن نہیں ہوتی تو یہ پیغام بر بن جاتے ہیں، ملنے کے تمام ٹھکانے اور معشوق کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی انہی کے ذریعے پتا چلتا ہے۔محبوب کی پسند اور نا پسند کے بارے میں بھی سب سے بہتر سالے ہی جانتے ہیں۔ وہ کونسی باتیں ہیں جو ہمارے محبوب کی پیشانی کو پشیمانی دیتی ہیں اور وہ کیا عناصر ہیں جو جھیل سی آنکھوں کو برستا بادل بنا دیتے ہیں اور کس طرح ہم اپنے معیار کو قابلِ معیار بنا سکتے ہیں، یہ سب بھی سالوں کے ذریعے ہی معلوم ہوتا ہے۔بعض اوقات سالوں سے مزید فیض حاصل کرنے کے لیے اور خوش کرنے کے لیے ، انکی جیبوں کو بھی بھرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار انکی جانب ستائش بھری نگاہوں سے دیکھ کر خیال آتا ہے، کہ یہ کتنے خو ش نصیب ہیں جو ہمارے محبوب کے پاس رہتے ہیں اور سالوں کی ان آنکھوں کو چومنے کا دل کرتا ہے، جس سے وہ دن میں نجانے کتنی بار ہمارے محبوب کو دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے سالے...

پاکستان کے صحیح احوال

Image
پاکستان بہت پیارا ملک ہے۔ اس میں انسان بھی رہتے ہیں جو کہ مختلف قسم کے ہیں جیسے کہ سندھی، مہاجر، بلوچ، پنجابی، پٹھان وغیرہ۔ اور جو خالصتاَ پاکستانی ہیں، وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر   ۴   ،   ۵ سال کے بعد چند دنوں کے لئے پاکستان آجاتے ہیں اور پھر سے محبت کو بڑھانے کے لئے دوبارہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ بابائے قوم چونکہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم آدمی تھے لہٰذا نھوں نے پاکستان بننے کے بعد فیصلہ کیا کہ کب تک میں انکی انگلی تھام کر انھیں چلا ؤں گا، اب وقت ہے کہ قوم اپنے پیروں پر کھڑی ہو تواسلیئے وہ وفات پا گئے۔ مگر انکی ایک اور وجہ نصارٰی کی سازش بھی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے ایسی گاڑی تیار کی جو خود بخود خراب ہو گئی اور یہ بات تو یقینی ہے کہ اگر قائد کسی پاکستانی گاڑی میں ہوتے تو ہسپتال کے قریب تو پہنچ ہی جاتے۔ پاکستان نے چونکہ اپنے نہتے اور معصوم شہریوں کا خون حصولِ پاکستان کے دوران بہتے دیکھا تھا توانکا ہاتھ بٹانے کے لئے فوج نے ملک کی باگ گاہے بگاہے رضاکارانہ طور پرتھامنا شروع کردی۔ پاکستان میں ای...

شوق

Image
  مجھے بھی سب لڑکیوں کی طرح ہمیشہ سے شوق تھا کہ میرے بھی ہاتھوں پر مہندی لگے۔ میں بھی خود کو سجا سنوار کر آئینے میں دیکھا کرتی تھی۔ میرے خیال میں بھی کئی شہزادوں کی شبیہات تھیں مگرپھرحالات نے ایسی کروٹ لی کہ مجھ جیسی بد ذات جسم فروش سے کسی کو نکاح منظور نہ ہوا۔ وہ رو پڑی، وہ ان میں سے تھی جو مجبوری کے بہاؤکے ساتھ اس ساحل پر آتے ہیں اور پھر زندگی یہیں خیمہ زن ہو جاتی ہے۔ وہ ابھی مزید ہلکان ہونا چاہتی تھی، رونا چاہتی تھی، اپنے دکھ سنانا چاہتی تھی مگر ایک نوجوان جوکہ اس کے پرانے گاہک کا بیٹا تھا، اس کی قیمت لیئے کمرے کے اندر آگیا   ۔ کنور نعیم https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem twitter: @kanwar_naeem