ہونے والے سالے
ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں،جہاں ہمارے ایّام و سال گزرتے ہیں،وہاں محبّت کی تکمیل کے لیئے ہونے والے سالوں کا وہی کردار ہے جو زندہ شخص کے لیے ہوا کا۔عموماٌ محبت کی ابتدا انہی کے مرہونِ منّت ہوتی ہے ،کہ جب براہِ راست گفت و شنید ممکن نہیں ہوتی تو یہ پیغام بر بن جاتے ہیں، ملنے کے تمام ٹھکانے اور معشوق کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی انہی کے ذریعے پتا چلتا ہے۔محبوب کی پسند اور نا پسند کے بارے میں بھی سب سے بہتر سالے ہی جانتے ہیں۔ وہ کونسی باتیں ہیں جو ہمارے محبوب کی پیشانی کو پشیمانی دیتی ہیں اور وہ کیا عناصر ہیں جو جھیل سی آنکھوں کو برستا بادل بنا دیتے ہیں اور کس طرح ہم اپنے معیار کو قابلِ معیار بنا سکتے ہیں، یہ سب بھی سالوں کے ذریعے ہی معلوم ہوتا ہے۔بعض اوقات سالوں سے مزید فیض حاصل کرنے کے لیے اور خوش کرنے کے لیے ، انکی جیبوں کو بھی بھرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار انکی جانب ستائش بھری نگاہوں سے دیکھ کر خیال آتا ہے، کہ یہ کتنے خو ش نصیب ہیں جو ہمارے محبوب کے پاس رہتے ہیں اور سالوں کی ان آنکھوں کو چومنے کا دل کرتا ہے، جس سے وہ دن میں نجانے کتنی بار ہمارے محبوب کو دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے سالے نصیب ہو جائیں ،جو محض وقت گذارنے اور جیبیں بھرنے کے لیے ساتھ ہوتے ہیں تو عاشق کے جذبات کی تفریح بنتی ہے اوراسےمحض چند جھوٹے مکالمے ہی سننے کو ملتے ہیں اور آخرکارعشق کا انجام حسرت، نا کامی اور خوش فہمی پر جا کر ہوتا ہے۔
ہمارے
معاشرے کو کچھ دین دار لوگ،جھوٹےسالوں کی شکل میں مل گئے ہیں
۔
کنور نعیم
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments
Post a Comment