Posts

Showing posts from November, 2017

بد تہذیب

Image
اس طرح کی عورتوں کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔ سر شام تیار ہو کر بیٹھ جانا اور رات گئے تک آنے والے گاہکوں کو گرم جوشی سے گرم کرنا۔ یہ زندگی ایک خود کار مشین کی طرح ہوتی ہے۔ پورے دن سوتے رہنا اور جب سورج سونے لگے تو جاگ جانا۔ کسی بھی صورت اس طرز زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی آنے والا خوش ہو کر طے کردہ رقم سے زیادہ پیسے  دے جائے . بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ تمام نجی محکموں کی طرح یہاں کے مالکان بھی چھٹی کرنے والوں پر برس پڑتے ہیں۔ چاہے بیماری ہو یا موسم کی سہانی انگڑائیاں، شام صرف گاہکوں کے نام رہتی ہے۔ یہ کام کرنیوالی لڑکیوں کو غصہ نہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اسے ایک  خود کو تھکانے والی مشق سمجھتی ہیں۔ لیکن  پھر بھی اگر کبھی غصہ آتا ہے تو ان وزیروں اور سماج کے شرفاء پر جو رات ان کے ساتھ گذار کر صبح زنا اور استحصال کے خلاف بات کرتے ہیں۔  یہ کہانی بھی اسی طرح کی  ایک لڑکی کی ہے جوتھوڑی بہت پڑھی لکھی اورخوش شکل تھی۔ اس نے کچھ نا گزیر وجوہات پر یہ کام شروع کیا مگر جب زبان زد عام ہوا تو چاہتے ہوئے بھی اس پیشے...

لاش

Image
  پروفیسر کو تجربہ کے لئیے انسانی لاش کی ضرورت تھی۔ اس کو لاش کسی قابل انسان کی چاہیے تھی تاکہ وہ اسکا دماغ نکال کر مطلوبہ تجربہ کر سکے۔ وہ لاش لینے کے لیئے بازار پہنچ گیا۔ اس بازار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں عام  جنس کی طرح لاشیں بیچی جاتی تھی۔ دکان دار آوازیں لگا کر گاہکوں کی توجہ کھینچتے تھے۔ اچھی لاشوں کو دکان کے باہر لٹکایا جاتا تھا اور اس سے ملتی جلتی لاشیں گودام میں رکھی جاتی تھیں۔ پروفیسر پہلے بھی اس بازار سے کافی لاشیں خرید چکا تھا اس لئے دکانداروں سے اسکی واقفیت بھی بڑھ چکی تھی۔ پروفیسر علی الصبح بازار پہنچ گیا اوراپنی مرضی کی لاش ڈھونڈنے لگا۔ صاحب بڑے عرصے بعد نظر آئے ہیں۔ خیریت تو ہے؟ ایک دکاندار نے استفسار کیاتو پروفیسر بس مسکرا دیا اور کہا کہ یار کوئی بہترین لاش دکھائو۔  دکاندار نے ایسی لاش دکھائی جسے ہجوم نے ایک جھوٹے بے بنیاد الزام کے تحت مارا تھا۔وہ جوان سال لڑکی تھی جس پر بدکاری کا الزام تھا۔ مگر پروفیسر کے معیار پر وہ لاش  پوری نہ اتری۔ اس سے اگلی دکان پر جب پروفیسر گیا تو ایسی لاش دیکھی جو کہ ایک عورت کی تھی جسے بیٹا پیدا نہ کرنے کی سزا م...