بد تہذیب
اس طرح کی عورتوں کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔ سر شام تیار ہو کر بیٹھ جانا اور رات گئے تک آنے والے گاہکوں کو گرم جوشی سے گرم کرنا۔ یہ زندگی ایک خود کار مشین کی طرح ہوتی ہے۔ پورے دن سوتے رہنا اور جب سورج سونے لگے تو جاگ جانا۔ کسی بھی صورت اس طرز زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی آنے والا خوش ہو کر طے کردہ رقم سے زیادہ پیسے دے جائے . بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ تمام نجی محکموں کی طرح یہاں کے مالکان بھی چھٹی کرنے والوں پر برس پڑتے ہیں۔ چاہے بیماری ہو یا موسم کی سہانی انگڑائیاں، شام صرف گاہکوں کے نام رہتی ہے۔ یہ کام کرنیوالی لڑکیوں کو غصہ نہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اسے ایک خود کو تھکانے والی مشق سمجھتی ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کبھی غصہ آتا ہے تو ان وزیروں اور سماج کے شرفاء پر جو رات ان کے ساتھ گذار کر صبح زنا اور استحصال کے خلاف بات کرتے ہیں۔ یہ کہانی بھی اسی طرح کی ایک لڑکی کی ہے جوتھوڑی بہت پڑھی لکھی اورخوش شکل تھی۔ اس نے کچھ نا گزیر وجوہات پر یہ کام شروع کیا مگر جب زبان زد عام ہوا تو چاہتے ہوئے بھی اس پیشے...