لاش

 
پروفیسر کو تجربہ کے لئیے انسانی لاش کی ضرورت تھی۔ اس کو لاش کسی قابل انسان کی چاہیے تھی تاکہ وہ اسکا دماغ نکال کر مطلوبہ تجربہ کر سکے۔
وہ لاش لینے کے لیئے بازار پہنچ گیا۔ اس بازار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں عام  جنس کی طرح لاشیں بیچی جاتی تھی۔ دکان دار آوازیں لگا کر گاہکوں کی توجہ کھینچتے تھے۔ اچھی لاشوں کو دکان کے باہر لٹکایا جاتا تھا اور اس سے ملتی جلتی لاشیں گودام میں رکھی جاتی تھیں۔ پروفیسر پہلے بھی اس بازار سے کافی لاشیں خرید چکا تھا اس لئے دکانداروں سے اسکی واقفیت بھی بڑھ چکی تھی۔
پروفیسر علی الصبح بازار پہنچ گیا اوراپنی مرضی کی لاش ڈھونڈنے لگا۔
صاحب بڑے عرصے بعد نظر آئے ہیں۔ خیریت تو ہے؟ ایک دکاندار نے استفسار کیاتو پروفیسر بس مسکرا دیا اور کہا کہ یار کوئی بہترین لاش دکھائو۔  دکاندار نے ایسی لاش دکھائی جسے ہجوم نے ایک جھوٹے بے بنیاد الزام کے تحت مارا تھا۔وہ جوان سال لڑکی تھی جس پر بدکاری کا الزام تھا۔ مگر پروفیسر کے معیار پر وہ لاش  پوری نہ اتری۔
اس سے اگلی دکان پر جب پروفیسر گیا تو ایسی لاش دیکھی جو کہ ایک عورت کی تھی جسے بیٹا پیدا نہ کرنے کی سزا موت کی شکل میں ملی۔ مگر پروفیسر کو گھریلو عورت کی بجائے کسی قابل لاش کی تلاش تھی۔ خیر پروفیسر نے تھکے بغیر کچھ اور دکانوں میں بھی تلاش جاری رکھی مگر زیادہ تر لاشیں بم دھماکوں میں مرے ہوئے لوگوں کی تھیں۔ یا پھر پڑھائی اور سماج کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کی خاطر خودکشی کرنے والوں کی۔ کچھ لاشیں ان معصوم بچوں کی تھِیں جو کسی کے گناہ کا ثبوت تھے اور  کچھ ان بچیوں کی تھیں جن کا جرم یہ تھا کہ وہ لڑکا نہیں تھیں۔ کچھ لاشیں ان کی تھیں جو بر وقت علاج نہ ہوسکنے کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے تھے تو کچھ گیس سلنڈر یا زلزلے کی زد میں آکر مرنے والوں کی۔ غرض کوئی لاش ایسی نہ تھی جو پروفیسر کے مطلب کی ہو۔ پروفیسر کو اب مایوسی ہونے لگی تھی کہ کوئی ایک لاش بھی ڈھنگ کی نہیں ہے حالانکہ زبان زد عام ہے کہ اچھے لوگوں کی عمر کم ہوتی ہے۔ پروفیسر کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا اور آدھے گھنٹے بعد ایک آخری کوشش کی غرض سے اٹھا۔
اس بار پروفیسر بازار کی سب سے بڑی اور مہنگی دکان کی طرف بڑھا اور دکاندار کو اپنی پسند کی لاش کی تفصیل بیان کی۔ دکاندار نے ایک لاش دکھاتے ہوئے کہا کہ صاحب یہ دیکھیں بالکل تازہ لاش ہے۔ ابھی کل ہی قتل ہوا ہے۔ آپ کی ہی طرح کا سائنسدان تھا۔ بڑے انعامات جیتے تھے اس نے۔ پروفیسر کی اب کچھ امید بندھی۔ دکاندار نے اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی لاشیں دکھائیں جو کہ ڈاکٹروں، مفکروں، فنکاروں، ادیبوں، فوجیوں، انجینئروں وغیرہ کی تھیں۔ پروفیسر چہک اٹھا اور دکاندار سے پوچھا یار پورے بازار میں ایسی لاشیں کہیں نہیں ہیں۔ تمہارے پاس ایسا مال کہاں سے آیا؟

دکاندار نے کہا جناب میرا مال پاکستان سے آتا ہے۔۔

کنور نعیم                                                                                         

                                                                                     


https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ