سندھ کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
سندھ کی سیاست میں کبھی جناح پور کے نقشے ہوتے ہیں، کبھی سندھو دیش کی دھوم ہوتی ہے۔ کبھی مہاجر لفظ ایک گالی ہوتا ہے کبھی ایم کیو ایم جیسے نفیس لوگ چراغ رخ زیبا لیکر بھی نہیں ملتے۔ سندھ کی سیاست اکثر اتنی غیر متوقع اور دلچسپ ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ لہو گرم رکھنے کے لیے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں وفاقی وزیر قانون جناب ڈاکٹر فروغ نسیم نے آئین کے آرٹیکل ایک سو انچاس کو لیکر ایک بیان داغا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامہ برپا کر دیا۔ آرٹیکل ایک سو انچاس وفاق کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی صوبے یا علاقے کو تجاویز دے سکے۔ یہ براہ راست تو اختیارات وفاق کو منتقل نہیں کرتا البتہ بلواسطہ وفاق کو مضبوط ضرور کرتا ہے۔ بات نے نکل کر دور تلک تو جانا تھا، ہوا بھی یہی۔ سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول نے ان اقدامات کو اتنا سنگین قرار دیا کہ بنگلہ دیش کے بعد سندھو دیش بننے تک کے خطرات ظاہر کر دیے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی جناب مرتضٰی سولنگی کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جو اعتراضات، سوالات اور شبہات اٹھائے وہ کچھ یوں تھے۔ اول تو یہ "شق ا...