دیوی اور اور دیوتاؤں کے نام۔۔۔
پوری بستی دیوی اور دیوتاؤں کے تابع تھی۔ لوگوں کے دلوں میں مقدس ہستیوں کے لیے عقیدت اور احترام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دیوی اور دیوتاؤں کا ہر فیصلہ ، خواہ قابل قبول ہو یا نہ ہو، لوگ من و عن تسلیم کیاکرتے ۔ جو فیصلے سمجھ سے بالاتر ہوتے ، ان فیصلوں کو اپنی کم عقلی اور نادانی مان کر قبول کیا جاتا کہ اگر دیوی اور دیوتاؤں نے ایسا سوچا ہے تو کوئی حکمت ہی ہوگی۔ اس بستی میں کئی لوگ بھوک سے مرتے تھے،مگر مقدس مقامات پر چڑھاووں کا سلسلہ ایک لمحے کو بھی نہ رکتا ۔ کوئی سردی میں ٹھٹھرتا تو کوئی سخت گرمی میں برہنہ پھرتا، لیکن دیوی اور دیوتاؤں کے نام پر چادریں چڑھتی رہتیں۔ مقدس ہستیوں کو اتنے اہتمام، اندھی عقیدتوں اور بے پناہ اختیارات ملنے کی وجہ سے سوال اور اعتراض سننے کی عادت ہی نہ رہی تھی۔ وہ ہر سوال کرنے والے کی زبان کھنچوا دیتے، ہر معترض انگلی کٹوا دیتے۔ بستی دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک حصہ سر تا پیر عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا تو دوسرا حصہ محض خوف میں۔ یہ سلسہ اتنے عرصے سے چلا آرہا تھا کہ لوگوں کے ذہن میں یہ خیال تک آنا بند ہوگیا کہ اس سب کو روکا بھی جا سک...