بد تہذیب




اس طرح کی عورتوں کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔ سر شام تیار ہو کر بیٹھ جانا اور رات گئے تک آنے والے گاہکوں کو گرم جوشی سے گرم کرنا۔ یہ زندگی ایک خود کار مشین کی طرح ہوتی ہے۔ پورے دن سوتے رہنا اور جب سورج سونے لگے تو جاگ جانا۔ کسی بھی صورت اس طرز زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی آنے والا خوش ہو کر طے کردہ رقم سے زیادہ پیسے  دے جائے . بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ تمام نجی محکموں کی طرح یہاں کے مالکان بھی چھٹی کرنے والوں پر برس پڑتے ہیں۔ چاہے بیماری ہو یا موسم کی سہانی انگڑائیاں، شام صرف گاہکوں کے نام رہتی ہے۔
یہ کام کرنیوالی لڑکیوں کو غصہ نہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اسے ایک  خود کو تھکانے والی مشق سمجھتی ہیں۔ لیکن  پھر بھی اگر کبھی غصہ آتا ہے تو ان وزیروں اور سماج کے شرفاء پر جو رات ان کے ساتھ گذار کر صبح زنا اور استحصال کے خلاف بات کرتے ہیں۔
 یہ کہانی بھی اسی طرح کی  ایک لڑکی کی ہے جوتھوڑی بہت پڑھی لکھی اورخوش شکل تھی۔ اس نے کچھ نا گزیر وجوہات پر یہ کام شروع کیا مگر جب زبان زد عام ہوا تو چاہتے ہوئے بھی اس پیشے کو خیر باد نہ کہہ سکی۔ وہ زیادہ سجتی سنورتی نہ تھی مگر شومی قسمت، ہر آنے والے گاہک کی نظر اس پر ہی جا کر ٹھرتی تھی۔ اس کی اس بڑھتی مانگ نے اس کے دام بھی بڑھا دیے تھے۔ لیکن اس بات کی اسے چنداں خوشی نہ تھی بلکہ اسکی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح گاہکوں کی نگاہوں کے تعاقب سے محفوظ رہے یا کم از کم جاذب نطر نہ لگے۔ مگر قسمت ایسی چیز ہے کہ اونٹ پر بیٹھے کو کتے  سے کٹوا دے۔ہر متمول گاہک  کی خواہش کی بھینٹ اسی کو چڑھنا پڑتا۔
جب بھی کوئی آنے والا اس کے ساتھ خلوت میں ہوتا تو وہ اپنا ذہن موجود سے ہٹا لیتی اور کہیں دور افق پار کی فکروں میں کھو جاتی۔ کبھی وہ اپنے خیالوں میں خود کو شہزادی بنا لیتی تو کبھی وہ ان دیکھے دیو اور چڑیلوں سے مکالمہ کرنے لگ جاتی۔ وہ کبھی آنکھیں بند کر کے بھیڑیں اور بکریاں گننے لگ جاتی تو کبھی اپنی پسندیدہ شخصیت کا انٹرویو کرنے لگ جاتی۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا جب تک آنے والا اپنی سواری مکمل نہ کر لیتا۔ وہ جانتی تھی کہ دماغ کو اگر موجودسے ہٹا لو تو پیش آنے والے واقعے سے انسان کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔
ایک دن ایک عمر رسیدہ آدمی آیا۔ اس شخص کے نین نقش بالکل اسکے والد جیسے تھے۔  وہ صدمہ بھری نگاہوں سے اس کو دیکھنے لگی۔ وہ سوچ رہی تھی  کہ اس شکل و صورت کا مرد یہ کام کسی کے ساتھ کیسے کرسکتا ہے۔۔ وہ خود کو دلاسہ دینے کے لئے یہ بھی سوچ رہی تھی  کہ شاید وہ مدد کے لئے آیا ہوگا یا پھر کسی اور کام سے ۔ مگر قسمت۔۔۔جس شخص میں اسے والد دکھائی دے رہا تھا وہی اسکا گاہک بن گیا۔ اس رات وہ کمرے میں خود کو موجود سے بے خبر نہ رکھ پائی۔ جب وہ شخص اس پر سوار ہوا تو اس کا کلیجہ منہ کو آگیا۔ یہ سب اسکی امید کے بر خلاف ہو رہا تھا۔ اسکے ذہن میں بننے والا بت پاش پاش ہو چکا تھا۔ اس رات نہ کوئی چڑیل اس سے بات کر رہی تھی، نہ وہ بھیڑ اور بکریاں گن پا رہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس رات کوئی شخصیت بھی اسکو انٹرویو نہیں دے رہی تھی اور نہ ہی وہ شہزادی بن پا رہی تھی۔ مگر چار رونا چار۔۔۔قیمت تو لگ چکی تھی۔۔سوار تو سوار ہو چکا تھا۔۔ کھیل جاری تھا۔۔پلنگ مسلسل ہل رہا تھا۔۔سوار کی سانسوں کے ساتھ بستر کے ہلنے کی روانی بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ رات زندگی کی سب سے طویل رات تھی جب نہ چاند تھک رہا تھا اور نہ سورج کی آمد کے کچھ آثار تھے۔اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے وہ اپنے والد کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہے۔ اسکا یہ اضطراب اس سوار کو اور بھی زیادہ محظوظ کر رہا تھا۔ وہ تو بھلا ہو موذن کا جسکو خدا یاد آگیا۔خدا کا بلاوا سن کرسوار نیچے اتر آیا۔ سوار کو غسل کی جلدی تھی ۔ وہ کمرے سے نکل گیا اور وہ اسکو جاتا دیکھتی رہی اور دین و دنیا کے آداب سےنا بلد وہ لڑکی، بنا غسل و  وضو، مصلے پر ڈھیر ہو گئی۔

کنور نعیم                                                                                                                                           


https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem


twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ