شوق

 
مجھے بھی سب لڑکیوں کی طرح ہمیشہ سے شوق تھا کہ میرے بھی ہاتھوں پر مہندی لگے۔ میں بھی خود کو سجا سنوار کر آئینے میں دیکھا کرتی تھی۔ میرے خیال میں بھی کئی شہزادوں کی شبیہات تھیں مگرپھرحالات نے ایسی کروٹ لی کہ مجھ جیسی بد ذات جسم فروش سے کسی کو نکاح منظور نہ ہوا۔ وہ رو پڑی، وہ ان میں سے تھی جو مجبوری کے بہاؤکے ساتھ اس ساحل پر آتے ہیں اور پھر زندگی یہیں خیمہ زن ہو جاتی ہے۔
وہ ابھی مزید ہلکان ہونا چاہتی تھی، رونا چاہتی تھی، اپنے دکھ سنانا چاہتی تھی مگر ایک نوجوان جوکہ اس کے پرانے گاہک کا بیٹا تھا، اس کی قیمت لیئے کمرے کے اندر آگیا
 ۔



کنور نعیم

https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ