پاکستان کے صحیح احوال
پاکستان بہت پیارا ملک ہے۔ اس میں انسان بھی رہتے ہیں جو کہ مختلف قسم کے ہیں جیسے کہ سندھی، مہاجر، بلوچ، پنجابی، پٹھان وغیرہ۔ اور جو خالصتاَ پاکستانی ہیں، وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر ۴ ، ۵سال کے بعد چند دنوں کے لئے پاکستان آجاتے ہیں اور پھر سے محبت کو بڑھانے کے لئے دوبارہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
بابائے قوم چونکہ ایک دور اندیش اور معاملہ فہم آدمی تھے لہٰذا نھوں نے پاکستان بننے کے بعد فیصلہ کیا کہ کب تک میں انکی انگلی تھام کر انھیں چلا ؤں گا، اب وقت ہے کہ قوم اپنے پیروں پر کھڑی ہو تواسلیئے وہ وفات پا گئے۔ مگر انکی ایک اور وجہ نصارٰی کی سازش بھی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے ایسی گاڑی تیار کی جو خود بخود خراب ہو گئی اور یہ بات تو یقینی ہے کہ اگر قائد کسی پاکستانی گاڑی میں ہوتے تو ہسپتال کے قریب تو پہنچ ہی جاتے۔
پاکستان نے چونکہ اپنے نہتے اور معصوم شہریوں کا خون حصولِ پاکستان کے دوران بہتے دیکھا تھا توانکا ہاتھ بٹانے کے لئے فوج نے ملک کی باگ گاہے بگاہے رضاکارانہ طور پرتھامنا شروع کردی۔
پاکستان میں ایک مسئلہ زبان کا بھی ہوا۔ ہر شہری کا خیال تھا کہ صرف اسی کی زبان اللہ میاں اور اسلام کے قریب ہے۔مگر پڑھے لکھے لوگوں کو معلوم تھا کہ انگریزوں کو برا بھلا کہنے اور گالیاں دینے کے لیئے انگریزی کا علم نہایت ضروری ہےتولہٰذا ہماری انگریز دشمنی جیت گئی اور انگریزی کو اپنا لیا گیا۔
زبان کے مسئلے کو دبانے کے بعد ارکانِ حکومت سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کونسا مسئلہ حل کیا جائے تو کسی نے بتایا کہ پاکستان میں نوجوان بھی رہتے ہیں، چلو ان کے لیئے بھی کچھ کرتے ہیں۔ تواُنھوں نے سوچا کہ بچہ چھوٹی سی عمر میں پڑھنا شروع کرتا ہے اور پھر ایک لمبے عرصے تک ہر انسانی لذّت سے محروم رہتا ہے تو اس بات کا مداوا کرنے کی غرض سے ایک لائحہ عمل تشکیل دیا گیا، جس کے تحت ہر نوجوان کو آرام مہیا کرنے کی نیت سے تعلیم کے اختتام پر اگلے ۵، ۷ سال تک کوئی نوکری نہیں دی جاتی۔ مگر نوجوان اس حکمتِ عملی پر ہمیشہ سیخ پا دیکھے گئے ہیں۔
اسلام جو کہ پاکستان کا بنیادی جز ہے،ایک مساواتی مذہب ہے اور اسکی مساوات کو بھر پور انداز میں برو ئے کارلاتے ہوئے آذادیِ رائے(چاہے حق ہو نہ ہو) ، سب کو دیا گیا ہے اور اختلاف کرنے والوں کو مار یا مروا دیا جاتا ہے تا کہ مساوات قائم رہے۔ جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
خیر، یہ سب باتیں تو بہت بعد کی ہیں، سب سے پہلے تو ایک معاشرہ تشکیل پانا لازم ہے اور معاشرہ افراد مرتّب کرتے ہیں اوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحت مند افراد ہی صحت مند معاشرہ تشکیل کرتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو اپنی صحت کا خیال خود نہیں رکھ سکے، انکی صحت کا خیال رکھنا تو نِری حماقت ہے کیوں کہ ایسے لوگوں کا کیا بھروسہ، کل کو پھر سے خود کو بیمار کر کے بیٹھ جائیں! اور اسی وجہ سے حکومت ہسپتالوں وغیرہ پر پیسہ ضائع نہیں کرتی۔ اب اسکو بھی حکومت کی نا اہلی گردان لو۔۔۔
وظیفہ دینے کا رواج تو ہر ایرے غیرے ملک میں رائج ہے اور عام طور پر طلباء کو دیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان نے ادھر بھی روایت شکنی کی روایت قائم رکھی اور وظیفہ طلباء کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کو بھی جاری کرنا شروع کر دیا، جبھی تو ہر سرکاری افسر تنخواہ کا بندوبست کرتا نظرآ رہا ہوتا ہے۔
اب یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ چاہے جنگ ہو یا نہ ہو، فوج جنگی مشقیں جاری رکھتی ہے تاکہ عین لڑائی کے وقت ہاتھ پاؤں ٹھنڈے نہ پڑ جائیں۔ اسی ترکیب کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے حکومت اپنی عوام کو سخت جان بنانے کی خاطر سردیوں میں گیس، گرمیوں میں بجلی اور اکثر پانی بند رکھتی ہے مگر اسکو بد عنوانی اس لیئے نہیں کہہ سکتے کیوں کہ اگر حکومت کو عوام سے ذرا بھی بیر ہوتا تو گرمیوں میں سمندر بھی بند کر دیتی مگر حکومت نے ایسا کبھی نھیں کیا۔ اسکے علاوہ، عوام کو زلزلے کے جھٹکوں کی گھبراہٹ سے بچانے کے لیئے خاص طرز کی سڑکیں بھی بنائی جاتی ہیں۔
اسکےعلاوہ شعائر کومحفوظ رکھنےکےلیئےجتنےبھی گندے لوگ ہیں، جن کی عورتیں بے ہودہ لباس پہنتی ہیں، لڑکے گاڑیوں کی ریس لگاتے ہیں، لڑکیاں راتوں کو گھر دیر سے آتی ہیں اور رقص و سرور کی محفلیں جن کے گھروں میں منعقد ہوتی ہیں، کو عام آبادی سے دورالگ سے پوش علاقے بنا کر دے دیئے تاکہ انکا برا اثرعام معاشرے پر نہ پڑے۔
حکومت کی پاکستان سے دیوانہ وار محبت تو ایک طرف،خود پاکستانیوں کی محبت بھی دیدنی ہے۔ یہ اپنے ملک کو منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کی خاطر اپنی جانوں پر کھیل کر روز منشیات استعمال کر کے منشیات کے خاتمے کے لیئے کوشاں ہیں اور حکومت منشیات بنانے والوں کی سرپرستی کر کے پاکستانیوں میں قربانی کا جذبہ بڑھائے جاتی ہے۔مگر پاکستانیوں کے والدین اِنہیں یہ قربانی دیتا نہیں دیکھ سکتے اور حکومت کو بلا وجہ کوستے نظر آتے ہیں۔
اپنے ہاتھ سے کما کر کھانے والے لوگ تو اللہ کو بھی پسند ہیں اور انسانوں کو بھی۔ اللہ اور انسانوں کے یہ پسندیدہ لوگ، ہاتھوں میں پستولیں لیئے محنت کر کے کھاتے ہوئے اکثرپاکستان کے گلی محلوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ اگر ملک کی پالیسیاں صحیح نہ ہوتیں تو یہ نو جوان شاید لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے۔
قوم کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا شعور بخوبی آگیا ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ یہ شعور بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اب کتابیں ٹھیلوں پر اور جوتے دکانوں کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں۔
اور ہاں، اگر پاکستان میں کسی سے جھگڑا ہو جائے تو گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں بس اس کو گستاخ مشہور کردیں، آپکی مدد کو پوری خلقت دوڑے چلے آئیگی اور تصدیق تک نہیں کریگی۔
یہ سب بات کرنے کا محض ایک ہی مطلب تھا اور وہ یہ کہ خدارا! حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے مثبت انداز میں سوچنے کی کوشش کرلیا کریں، بلا وجہ اپنے دل و دماغ کو تعصب سے بھرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ اوہ! ہم عبدالستّارصاحب کا ذکر کرنا تو بھول ہی گئے، آپ ایک دردمند شخص تھے اور ذات پات، دین درھم وغیرہ کی تفریق کے بِنا سب کی مدد کرتے تھے۔ لیکن ہر شریف آدمی کی طرح آپ پر بھی شدید تنقید ہوتی رہی مگر جیسے ہی وفات پا گئے، اچانک بہت اچھے ہو گئے، اعزاز کے ساتھ دفنائے گئے۔ ویسے پاکستان کا یہی رواج ہے، یہاں جیتے جی عزت جان بوجھ کر نہیں دی جاتی کیوں کہ اس سے انسان کا دماغ خوامخواہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔
آپ بھی مرنے کے بعد پاکستان ضرور آئیگا۔
کنور نعیم
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments
Post a Comment