کاغا اور بگلا



کام کے لیے ایک لڑکے نے ملک کے معروف اور شہر کے مشہور ترین شخص سے رابطے کا ارادہ کیا۔ اس شخص کو خدا نے ایسی آواز دے رکھی ہے کہ جب بولتا ہے تو لگتا ہے کہ سچے موتیوں کی مالا ٹوٹ کر بکھر گئی۔ ہم میں سے کئی لوگ اس کی آواز صبح سن کر سکول جاتے تھے کیونکہ اس کے صبح کے شو میں کارٹونز بھی لگائے جاتے تھے۔  وہ شخص سرکاری ادارے سے بھی منسلک تھا اور لڑکے کا خواب اور شوق پورا کرنے میں اسکی بھرپور مدد کر سکتا تھا۔ مگر اس سے رابطہ کرنا لڑکے کی زندگی شرمندہ کن غلطی ثابت ہوا۔ اس شخص نے  نوکری تو  کیا دینے تھی البتہ ایک ایسی  جاب کی پیشکش  کر دی  جس کے ساتھ انگریزی کا ایک لفظ سابقے کے طور پر لگتا ہے۔ ۔ انگریزی کو جاننے والے اب تک سمجھ چکے ہونگے کہ ہم کس جاب کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات نا قابل قبول تھی لہٰذا لڑکے نے قبول نہ کی۔ اس کا صلہ بیروزگاری تھا جس کا اس لڑکے کو بخوبی تجربہ تھا۔

جس لڑکے کا بچپن آپ کا نام اور آواز سن سن کر گذرا ہو۔ جو اسکول آپ کے ہاتھ سے لگائے گئے کارٹونز دیکھ کر جاتا ہو۔ اسے آپ کٹھ پتلی سمجھ بیٹھے؟ آپ رشتے کا تو مان نہ رکھ سکے۔ کم از کم عمر کا ہی رکھ لیتے۔ ایک کہاوت بے محل یاد آرہی ہے۔تحریر  سے ا سکی مناسبت شاید نہ ہو مگر دل کر رہا ہے کہ بیان کر دوں۔
ہواکچھ یوں  کہ ایک بگلا پانی پر ساکت کھڑا تھا جیسے کہ عموماً بگلے کھڑے ہوتے ہیں۔ پانی میں اچانک حرکت ہوئی اور کچھ مچھلیاں سطح آب پر آگئیں ۔ یہ دیکھنا تھا کہ بگلے نے دفعتاً پانی میں منہ ڈال کر ایک مچھلی پکڑ ی اور پیٹ کی پیاس بجھا لی۔ اس پر تمام مچھلیاں جمع ہوئیں اور ایک شعر بگلے کی نظر کیا۔ وہی شعر آپ پڑھنے والوں کی نظر میں کرنا چاہتا ہوں۔


تن کا اجلا من کا میلا، صوفی جیسا بھیس
تجھ سے تو کاغا ہی بھلا، تن اوپر ایک


انسان اپنی مشکلات اور آسانیاں کسی حد تک خود بناتا ہے مگر زندگی کو خوبصورت  اور بہتر بنانے کا ہر جاندار کو زندگی میں ایک بار خیال ضرور آتا ہے۔ مسئلہ خواب دیکھنے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس تگ و دو اور مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں سے انسان ان خوابوں کا پیچھا شروع کرتا ہے۔ ہر شخص میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی چاہت کی تکمیل کریں کیونکہ یہ کوئی گلابوں کی سیج سا رستہ نہیں ہوتا۔ بھیڑ سے ہٹ کر چلنے کاجگر کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ ایسا سفر ہوتا ہے جہاں قدم قدم پر پلٹنے کا خیال ذہن میں آتا رہتا ہے۔ ایک جانب خواب کھڑے مسکرا رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب مصائب پھن پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ غالب کہہ گیا تھا ناں کہ

کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسہ مرے آگے
اس سب کے دوران جہاں کہیں ذرا بھی امید کی لو نظر آئے انسان وہاں لپکتا ہے مگر اکثر قریب پہنچتے پہنچتے وہ لو بجھ جاتی ہے اور انسان کسی اور لو کی جانب لپکتا ہے۔ اس راہ میں کئی بھیڑیے بھی ملتے ہیں جن سے رحم کی امید آپ کی غلطی ہوتی ہے نہ کہ انکی۔ مگر انسان بھیڑیا نہیں ہے۔ وہ کوئی سا بھی جانور نہیں ہے۔ اسکی خواہشات اور اس کے جھکاوَ یقیناً اس کے ذاتی افعال کی فہرست میں آتا ہے جس کا احترام لازم ہے مگر ان خواہشات کو جھانسہ یا جال بنانے کا حق کسی کو نہیں ۔ میں نے جنس مخالف کے ساتھ جسمانی رشتہ قائم کرنا ہے یا ہم جنس پرستی کرنی ہے اسکا فیصلہ میں نے خودکرنا ہے۔ اس پر مجھے سمجھایا جا سکتا ہے مگر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ ساری آزادیاں مجھے قطعاً اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استحصال کرنا شروع کر دوں۔ کیا محض خوش الحانی کسی کو اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ وہ  منہ سے جو چاہے نکالے؟کیا خوبصورت آواز میں کہی جانے والی ہر بات قابل عمل ہوتی ہے؟ کوئل کی آواز بھی نیند میں دخل انداز ہو تو برداشت نہیں کی جا سکتی۔ خدا نے اگر آواز کی نعمت دی ہے تو اس سے وہ سب تو نہ کہیں جو نہ تو خدا کے لیے قابل قبول ہو اور  نہ اس کے بندوں کے لیے۔ ٹیلیوژن کے پردوں کو اگر گویائی مل جائے تو نجانے کتنے فسادات ہو جائیں ۔ جب کوئی خوش شکل اس کے آگے بیٹھے تو پردہ آئینہ بن جائے۔ جب کوئی خدا کی بات کرنے لگے تو پردےبے راہ روی دکھانے پر مضر ہو جائے۔ کسی کی داڑھی اس کے اصل چہرے کی محافظ نہ بن سکے۔ وہ پردہ دکھاوے کے سب پردے چاک کرنے پر مصر ہو جائے۔ ایسا کیوں ہے کہ ایک غریب اگر کسی لڑکی کو پھول بھی دے تو بابا آدم تک اسکے خاندان کی نسلیت اور اس لڑکی کی ماں اور ماں کی ماں کا کردار بھی چھلنی کر دیا جائے مگر آپ چونکہ ایک بڑے انسان ہیں لہذا  آپ کا پسینہ بھی عطر؟؟؟ ایسا کیوں ہے کہ آپکی ہر خواہش محترم اور آپ کی ہر بات کا جواز؟ دوسروں کی مجبوریاں بھی عیاشی اور ان کی تکلیفیں بھی خود ساختہ؟
کوئی بھولا بھٹکا آپ کے پاس کام کی فریاد لے کر آجائے تو اس کی جیب گرم کرنے سے پہلے آپ کو اپنا بستر گرم کرنے کی فکر آ گھیرتی ہے۔ ایسا کیوں؟ ہم تو آپکی آواز پر جاگا کرتے تھے، آج آپ اپنے ساتھ سلانا چاہتے ہیں۔ واہ۔۔وقت کتنی جلدی دھارا بدلتا ہے۔ کیا آپ کا خالی بستر کسی مجبور کی خالی جیب سے زیادہ مضطرب ہے؟ لوگوں کو زندگی سکھانے کا ہنر سب سے زیادہ آسان کام ہے مگر ان اصولوں کو اپنانا خاصہ مشکل۔ آپ سچے ہیں یا جھوٹے اس کا فیصلہ تو آپ خود ہی کیجیے گا لیکن ایک بات ہے کہ آپ دوکان اپنی اچھی بڑھا گئے۔ شاید اسی دھوکے میں وہ لڑکا آگیا ہوگا۔

دکھ ہم جنس پرستی نہیں۔ وہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔ دکھ اس استحصال کا ہے جو آپ کی فطرت میں اورآپ کے اور اس لڑکے کے درمیان ہوئے مکالمے میں محفوظ ہے۔ مجھے دکھ ہے اپنی کمینگی پر کہ اب میں آپ کے دفتر سے کسی نوجوان کو نکلتا دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں محنتی، جفا کش، لگاوَ اور خواب جیسے الفاظ تو آتے ہی نہیں ہیں بلکہ میں آپ کے دفتر سے خوش و خرم نکلنے والوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ لپک کے دیکھوں کہ آپ کا صوفہ اور آپ کا قالین کس قدر گرم ہے۔ اس میں سراسر آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ  تو میرا اپنا گھٹیا اور نیچ پن ہے کہ میرے ذہن میں اب اس سے بہتر کوئی خیال نہیں آتا۔ اللہ سے میری ایک التجا ہے۔ دعا مجھ گنہگار کی قبول ہو نہ ہو۔

یا اللہ۔۔۔اب کسی کو اگر توثیق دینا تو کردار حیدر والا دینا۔


کنور نعیم

Facebook:         https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
Twitter:             kanwar_naeem



Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ