شہزادہ
ایک کمرے میں دو داشتائیں تھیں۔
ایک پلنگ پر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی تو دوسری بنائو سنگھار میں
مصروف تھی۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ضرورت کی تمام چیزیں وہاں موجود تھیں۔
جیسے کہ ایک پلنگ ، ایک میلی چادر جسے پلنگ پر بچھایا جائے، ایک پیلے رنگ کا بلب ،
ایک سنگھار کی میز اور کمرے سے متصل ایک چھوٹا سا غسل خانہ تاکہ بوقت ضرورت، گناہوں کے میل کو کمرے میں ہی دھو
لیا جائے۔
سنگھار کرتی لڑکی نے اچانک لیٹی ہوئی لڑکی سے پوچھا کہ ایک شعر سنائوں؟
سنگھار کرتی لڑکی نے اچانک لیٹی ہوئی لڑکی سے پوچھا کہ ایک شعر سنائوں؟
ہاں سنا۔۔ایک بے دلی اور اکتائی
ہوئی آواز میں لیٹی ہوئی لڑکی کا جواب آیا۔ جو شاید سننا نہیں چاہتی تھی مگر بس دل
رکھنے کے لیے حامی کر رہی ہے۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا
ہے
میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
شعر سنا کر اس لڑکی کی ستائش طلب نگاہوں سے اس لڑکی کی جانب دیکھا جو اب بھی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔
جب اس نے خود سے کوئی تعریف نہیں کی تو مجبوراً اس نے خود پوچھ لیا کہ کیسا لگا تجھے یہ شعر؟
میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
شعر سنا کر اس لڑکی کی ستائش طلب نگاہوں سے اس لڑکی کی جانب دیکھا جو اب بھی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔
جب اس نے خود سے کوئی تعریف نہیں کی تو مجبوراً اس نے خود پوچھ لیا کہ کیسا لگا تجھے یہ شعر؟
ہاں اچھا تھا۔
یہ تعریف ویسی نہ تھی جیسی اس نے چاہی تھی مگر وہ چپ رہی۔ اتنے میں اس لڑکی کی جانب ایک سوال آیا۔۔
کیا واقعی خدا ہمیں دیکھتا ہے؟ سوال کافی غیر متوقع تھا۔ سنگھار کرتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے اور پھر شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب آیا کہ بس دعا کر کسٹمر کے ساتھ نہ دیکھتا ہو۔ اس کا جواب مزاحیہ تھا یا سنجیدہ، لیٹی لڑکی کے چہرے کے نقوش ویسے ہی رہے البتہ اب وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
یہ تعریف ویسی نہ تھی جیسی اس نے چاہی تھی مگر وہ چپ رہی۔ اتنے میں اس لڑکی کی جانب ایک سوال آیا۔۔
کیا واقعی خدا ہمیں دیکھتا ہے؟ سوال کافی غیر متوقع تھا۔ سنگھار کرتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے اور پھر شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب آیا کہ بس دعا کر کسٹمر کے ساتھ نہ دیکھتا ہو۔ اس کا جواب مزاحیہ تھا یا سنجیدہ، لیٹی لڑکی کے چہرے کے نقوش ویسے ہی رہے البتہ اب وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
اگر خدا دیکھتا ہے تو وہ کچھ
کرتا کیوں نہیں؟
کیا کرنا چاہیئے اسے؟ اب وہ لڑکی
سرخی لگاتے ہوئے ہونٹ بھینچ کر بولی۔
تجھے پتہ ہے ہم لوگ کتنے امیر
تھے۔ میرے باپ کے پاس اتنا پیسہ تھا۔ میں
بہت مہنگے کالج جاتی تھی۔ میرا گھر تو اگر دیکھتی ناں تو تیرے ہوش ٹھکانے
لگ جاتے۔جب زلزلہ آیا تھا نا، میرے گھر والے سب اس میں مر گئے تھے۔ کیمپ والے یہاں
لائے تھے گھر دینے۔ دیکھ کتنا اچھا گھر دیا ہے۔
یہاں تو سب کے پاس ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ پلکیں سنوارتی دوسری لڑکی بولی۔
یہ کہانی نہیں ہے۔ آب بیتی ہے۔ ڈوبتی آواز میں جواب آیا۔
ایک ہی بات ہے۔،پلکیں بھی سنور چکی تھیں۔
ایک بات نہیں ہے۔ کہانی سننے میں بہت مزہ آتا ہے ناں؟ آب بیتی سنانے میں جان نکل جاتی ہے۔
اچھا جی۔ جان چھڑانے کے لیے اس کی دوست نے کہا۔
یہاں تو سب کے پاس ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ پلکیں سنوارتی دوسری لڑکی بولی۔
یہ کہانی نہیں ہے۔ آب بیتی ہے۔ ڈوبتی آواز میں جواب آیا۔
ایک ہی بات ہے۔،پلکیں بھی سنور چکی تھیں۔
ایک بات نہیں ہے۔ کہانی سننے میں بہت مزہ آتا ہے ناں؟ آب بیتی سنانے میں جان نکل جاتی ہے۔
اچھا جی۔ جان چھڑانے کے لیے اس کی دوست نے کہا۔
میرا ایک دوست بھی تھا۔ ہم لوگ
اتنا پیار کرتے تھے ایک دوسرے سے۔ ہم شادی کرنا چاہتے تھے۔ میں اسے شہزادہ کہتی
تھی۔۔۔ابھی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
سنگھار کرتی لڑکی باہر یہ کہتے ہوئے نکل گئی۔۔۔تیرا شہزادہ آگیا۔۔۔۔
سنگھار کرتی لڑکی باہر یہ کہتے ہوئے نکل گئی۔۔۔تیرا شہزادہ آگیا۔۔۔۔
کنور نعیم
twitter: @kanwar_naeem
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

Comments
Post a Comment