اعتراف
ایک نوجوان لڑکا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اعترافی کٹہرے
میں پہنچا۔ ابھی اس کی باری آنے میں کچھ وقت رہتا تھا۔ وہ کبھی سوچتا کہ اعتراف کس
بات کا کروں جب کچھ غلط نہیں کیا۔ اگلے ہی لمحےوہ تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ نہیں،
یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ مجھے اعتراف کرنا چاہیئے۔ اس سے
مجھے اطمینان قلب میسر ہوگا۔ اس کروں یا نہ کروں کے درمیان ہی اس کی باری بھی
آگئی۔ وہ ایک مرغی کے ڈربے کے دروازے جیسا سوراخ تھا جس کی دوسری جانب پتا نہیں
کون تھا۔ اور اس جانب والے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس طرف کون ہے۔ وہ ابھی الفاظ
جمع کر ہی رہا تھا کہ ایک شفیق آواز آئی کہ جی بولیں بیٹا آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔
یہ آواز ڈبے کے دوسری طرف سے آئی تھی۔
وہ نوجوان کہہ نہیں پا رہا تھا مگر پھر بھی ایک سانس میں وہ کہہ گیا کہ مجھے آج نوکری ملی ہے مگر مجھے وہ لڑکا یاد آرہا ہے جس کا میں قتل کیا تھا۔
مقتول کون تھا؟
میرا بہت قریبی تھا۔
تو قتل کیوں کیا آپ نے اسے؟
جنونی تھا وہ۔ اس کی آنکھوں سے خوف آتا تھا مجھے۔
ایسا کیا تھا اس سب میں کہ آپ نے اسے مار ہی ڈالا؟
اسے انفرادیت کا بخار چڑھ گیا تھا۔ کچھ مختلف کرنے کی لو لگ گئی تھی اسے۔ ہر اس بات سے اختلاف کرتا تھا جس پر سب کا اتفاق ہو۔
مثال کے طور پر؟
وہ نوجوان کہہ نہیں پا رہا تھا مگر پھر بھی ایک سانس میں وہ کہہ گیا کہ مجھے آج نوکری ملی ہے مگر مجھے وہ لڑکا یاد آرہا ہے جس کا میں قتل کیا تھا۔
مقتول کون تھا؟
میرا بہت قریبی تھا۔
تو قتل کیوں کیا آپ نے اسے؟
جنونی تھا وہ۔ اس کی آنکھوں سے خوف آتا تھا مجھے۔
ایسا کیا تھا اس سب میں کہ آپ نے اسے مار ہی ڈالا؟
اسے انفرادیت کا بخار چڑھ گیا تھا۔ کچھ مختلف کرنے کی لو لگ گئی تھی اسے۔ ہر اس بات سے اختلاف کرتا تھا جس پر سب کا اتفاق ہو۔
مثال کے طور پر؟
کہتا تھا کہ عبادات ایک رسم ہیں۔ ڈاکٹر بننے کا بولو تو
کہتا تھا کہ آرٹ سب کچھ ہے۔ کوئی دھن بنائونگا۔ کوئی اچھا شعر لکھ کر مر گیا تو
انجینئرز سے زیادہ خوش رہونگا۔ نوکری کا کہو تو کہتا تھا کہ باہر سے حاصل کی ہوئی
طاقت نہیں چاہیئے۔ اسے جب سمجھایا کہ بھوکا مر جائیگا تو کہنے لگا کہ کم از کم
مرضی کی موت تو مرونگا۔
اس کے علاوہ؟
ایک بار کہنے لگا کہ میری خدا سے بات کروائو۔ مجھے شک ہے کہ
اس کے بارے میں تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ پھر ایک دن کہنے لگا کہ زندگی میرے کان میں
باتیں کرتی ہے۔
اس سب کا حل آپ کی نظر میں قتل تھا؟
نہیں، مگر اس کی سوچ آس پاس والوں کے لیے بھی خطرہ تھی۔ایک
بار پوچھ رہا تھا کہ مجھے مرنے کے بعد کیسے پتا لگیگا کہ کون دکھی ہوا اور کون
خوش؟ پھر گھر کے لڑکوں کو سمجھانے بیٹھ گیا کہ دفتر کی کرسی میں وہ مزہ نہیں ہے جو
کینوس کے آگے کھڑے ہونےمیں ہے۔ سب کہتے تھے کہ یہ پاگل ہو گیا ہے، اسے مار دو۔ کتا
بھی پاگل ہو جائے تو اسے بھی نہیں چھوڑتے۔ وہ میرا سب سے قریبی تھا۔ مجھے سب سے
زیادہ موقع ملتے تھے اسے قتل کرنے کے۔
بیٹا ساری باتیں چھوڑو آپ اور بس ایک بات بتائو۔ آپ کو لگتا
ہے کہ آپ نے ٹھیک کیا؟
مجھے لگتا ہے کہ میں نے غلط نہیں کیا۔
آپ نے اپنی سکت سے زیادہ بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔ اب زندگی بھر
اسی کے ساتھ رہوگے؟
میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ سب لوگ اس بوجھ کے ساتھ کیسے
جئیں گے۔
کون لوگ بیٹا؟
جن سب نے مجھے اس حد تک پہنچایا۔
بیٹا ایسی باتیں نہ کرو، معافی مانگو آپ۔ یہ جرم آپ کے سر ہے۔
جن سب نے مجھے اس حد تک پہنچایا۔
بیٹا ایسی باتیں نہ کرو، معافی مانگو آپ۔ یہ جرم آپ کے سر ہے۔
کیسا جرم اور کیسی معافی؟ میں یہاں معافی مانگنے نہیں آیا۔
معافی دینے آیا ہوں، سب لوگوں کو جو اس قتل میں شامل ہیں۔ گھر والے، رشتہ دار،
دوست، جاننے والے اور جو جو بھی ہوں۔
تو آپ یہاں آئے ہی کیوں جب آپ کو جرم جرم نہیں لگتا۔ گناہ
گناہ نہیں لگتا؟
لڑکا اٹھ گیا اور جانے کے لیے مڑ گیا۔ اس کو ڈبے کے پیچھے
سے آواز آئی، اس مقتول کی لاش کا تو بتاتے جائو، ہم اس کو احترام کے ساتھ دفنا
تو دیں۔
لڑکے کی اس کے بعد بس اتنی آواز آئی۔۔۔دفنا دیجئے۔۔۔وہ لاش تو میں ہی ہوں۔
لڑکے کی اس کے بعد بس اتنی آواز آئی۔۔۔دفنا دیجئے۔۔۔وہ لاش تو میں ہی ہوں۔
کنور نعیم
twitter: @kanwar_naeem
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

Comments
Post a Comment