لٹریچر فیسٹیول اور طبقات کی تقسیم





یہ دوسری بار ہوا کہ مجھے اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کا موقعہ ملا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی بہت خوبصورت شخصیات سے ملنے کا موقعہ ملا۔ استاد حامد علی خان کی شفقت اور عاجزی، سیدہ عارفہ زہرہ کے الفاظ کا چنائو اور فصاحت اور افتخار عارف کی محبت۔ یہ تمام چیزیں اس بار اکٹھی کرنے میں کامیاب رہا۔
لیکن کیا لٹریچر فیسٹیول میں سب کچھ اچھا تھا؟ نہیں، بالکل نہیں۔
اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں قدم رکھتے ہیں یہ احساس آپ کو جکڑ لیتا ہے کہ یہ اشرافیہ کی نشستوں میں سے ایک نشست ہے۔ نہ کوئی غریب نظر آتا ہے اور نہ سرکاری تعلیمی ادارے۔ ہاں، یہ بات ٹھیک ہے کہ سب کو شریک ہونے کی اجازت تھی لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ اس فیسٹیول کی تشہیر صرف پوش علاقوں میں کی گئی تھی۔ جنہیں یا تو پوش علاقوں کے رہائشی یا پھر ان علاقوں میں نوکری یا کام کے سلسلے میں آنے والے دیکھ سکتے تھے۔ کسی متوسط علاقے میں ایک بینر تک نہیں لگایا گیا۔ خصوصاً بات اگر راولپنڈی کی کی جائے۔
دوسرا، لٹریچر فیسٹیول جس کا سمقصد شاید علم اور کتاب دوستی کو بڑھانا ہوگا، وہاں کتابوں کی قیمتیں کسی عام آدمی کی پہنچ سے یقیناً دور تھیں۔ حتٰی کہ اس بار نیشنل بک فائونڈیشن کا سٹال بھی نہیں تھا۔ جبکہ، وہ میری نظر  واحد ادارہ ہے جوپچپن فیصد تک رعایت پر کتاب فروخت کرتا ہے۔ خدا جانے اس غیر حاضری کی کیا وجہ تھی۔
اگر کتابیں اس قدر مہنگی رہیں، تو کیا محظ ایک مخصوص طبقہ کتب بینی کی طرف نہیں جائیگا؟ کیا متوسط شخص علم کی پیاس بجھانے کو پائریسی کی طرف نہیں دیکھیگا؟
میرا ذاتی خیال یہ بھی ہے کہ اگر دائیں بازو کے ادیبوں کو بھی بطور مہمان مدعو کیا جائےتو فیسٹیول مزید سیر حاصل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ رضاکاری کے فرائض جوکہ ہمیشہ اشرافیہ کے انگریزی سکولوں کے بچوں کے سپرد ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کام میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو بھی شامل کرلیا جائے! اسلام آباد اور راولپنڈی کی وہ جامعات جو ادب کی تعلیم دیتی ہیں، ان کے طلبا اور اساتذہ کو خاص طور پر مدعو کیا جائے۔ کیا اس سے وہ نعرہ پورا نہ ہوجاتا؟
THE FOCUS IS TOMORROW: REFLECTING ON THE PAST
اور سب سے اہم بات، مہمانوں کی جو ایک قطار چلی آرہی ہے۔ وہ چہرے جو ہر سال بلائے جاتے ہیں، کیا انہیں آرام دیکر، نئے لوگوں کو شریک گفتگو نہ کیا جائے؟ ایسا بالکل کیا بھی جا رہا ہے۔ لیکن نئے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رکھی جاتی ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔
سدھار کی گنجائش انسان کی بنائی ہر چیز میں ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ فیسٹیول یقیناً آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ایک بہترین کاوش ہے۔
حکومت کو چاہییے کہ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ساتھ مل کر اس فیسٹیول کو مزید بہتر بنائے اور اسے مارگلہ ہوٹل جیسی پوش جگہ کے بجائے کسی سرکاری اور عوامی جگہ جیسے کہ کنوینشن سنٹر، لوک ورثہ، نیشنل کائونسل آف آرٹس یا اسس جیسی کسی اور جگہ منعقد کروائے۔ اکثر کم آمدنی والے لوگ مہنگے ہوٹلوں اور مقامات کا نام سن کر ہی جھینپ جاتے ہیں۔
میری رائے انتہائی ناقص ہے، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول کو اشرافیہ کی بیٹھک کے بجائے عوامی فیسٹول بنانا ہوگا تاکہ ادب کی کچھ خدمت کی جا سکے۔
ریاض مجید وہاں موجود ہوتے تو شاید کہتے۔۔۔۔۔

بہت بے زار ہیں اشرافیہ کی رہبری سے
کوئی انسان کوئی خاک زادہ چاہتے ہیں


یہ آرٹیکل نیا دور کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ