بھوک
وہ ایک سفید پوش شخص تھا جس نے زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے تھے۔ لیکن یہ مجبوری ایسی ظالم چیز ہے کہ آنکھوں دیکھی مکھی بھی نگلوا دیتی ہے۔برے وقت کی آمد بہت سے لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے اور ان میں سب سے کاری شے بیروزگاری ہوتی ہے۔
کام کی تلاش میں مارا مارا پھر کر وہ جمعہ کے وقت مسجد جا پہنچا ۔پیٹ
میں بھو ک کی وجہ سے بھنور چل رہے تھے ،وہ پہلی صف میں انہماک اور پریشانی سے وعظ
سن رہا تھا کہ گناہ گاروں کو جہنم کی آگ کس طرح کھا ئے گی اور کیسے اُنھیں پیپ
پلائی جائے گی اور کس طرح مردار بھائی کا گوشت دیا جائے گا ۔صاحب مسند نے ماحول پر
سحر طاری کیا ہوا تھا، اُس سے بالآخر رہا نہ گیا ، اُس نے صاحبِ مسند سے التجا کی
کہ خدارا میں بھی بہت گناہ گار ہوں ،بھوک مجھے کھا گئی ہے ،خدا سے کہیں کہ مجھے
دنیا میں بھی کچھ کھلا پلا دے ۔ صاحب مسند نے اسکو ایک نظر دیکھا ، انکی نگاہ میں
اسکے لیئے دفعہ ہونے کا پیغام واضح تھا۔وہ اٹھ کر باہر نکل آیا اورعلاقے کے ہر دکان
دار کے پاس جا کر کام مانگا مگر ہر طرف سے انکار پایا، پھر مجبوراً اسنے
بمشکل روٹی کی درخواست کی توسب دکان دار اور راہ گیراسے پیشہ ورکہنےلگے
۔آخر کار، وہ دوبارہ خدا کا در کھڑکھڑانے، دوکانوں سے متّصل اُسی مسجدجا
پہنچا ۔وہ دو دن کابھوکا،امام صاحب کو اپنے تمام دکھ سنا چکا تو اُنھوں نے کہا کہ
للہ کی ذات سے مایوس نہ ہو۔ اللہ رحیم ،مالک اور رازق ہے اور مایوسی کفر ہے
۔اس جواب سے وہ مطمئن نہیں تھا مگر بے بسی کے عالم میں نم آنکھوں کے ساتھ
باہر نکلا اورایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گیا یہاں تک کہ اس پرنزع کی حالت طاری ہو
گئی،وہ تمام دکان داراور وہی امام صاحب اُس کوکلمہ کی تلقین کرنے لگے مگر وہ روٹی
روٹی کہتاکوچ کر گیا۔
کنور نعیم
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments
Post a Comment