چھٹی انگلی

 
تیسری جنس کو بستی سے نکالنا بہت نا گزیر تھا۔ وہ بستی کی خوبصورتی پر داغ تھے۔ ان کی آواز رات کو بھونکنے والے کتوں کی آواز سے زیادہ چبھتی تھی۔ ان کا وجود نگاہ کے لئے بارِ گراں
 اور آس پاس کے مکینوں کے لیئے کوہ گراں تھا۔ بستی والوں کو وہ ایک آسمانی آفت لگتے تھے۔ بستی کے شرفاء ان کے واہیات اور نیم عریاں ملبوسات کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے، ان کے گریبانوں سے جھانکتے، کشش سے عاری سینے عورتوں کو شرمسار کرتے تھے، بچے ان سے خوفزدہ رہتے اور انہیں دور سے آتا دیکھ کر ہی کہیں دبک جاتے تھے۔
اس تیسری جنس کی زندگی ہاتھ میں موجود اُس چھٹی انگلی کی طرح تھی کہ جس کا ہونا بد نمائی اور کٹوانا تکلیف دہ ہوتا ہے۔مگر یہ تکلیف اتنی انفرادی سطح کی تھی کہ صرف اِن ادھوری ہستیوں کو پیدا کرنے والی مکمل مائیں ہی محسوس کر تی تھیں۔
جب تک انکا بھید، بھید تھا، تب تک ان کو بھی بزرگوں اور والدین کا دستِ شفقت میسر تھا مگر تھوڑا بڑا ہونے پر، جونہی انکی آواز بدلی، اپنوں نے لہجے بدل لیے۔لیکن ماضی میں کہے گئے پیار کے وہ بول اتنے میٹھے تھے کہ روز گالیاں سن کر ، رات کے پچھلے پہر، یہ چھٹی انگلیاں خوابوں کی گلیوں میں انہی آوازوں کی گونج میں سویا کرتیں اور اگلی سحر، انہی آوازوں کی مہمان نوازی کرنے کے لیئے پھر گھروں سے نکل پڑتیں۔
اس سب میں، سب سے عجیب یہ تھا کہ ، بستی کی گند گِردانے جانے والی یہی چھٹی انگلیاں، بستی کی ہر تقریب کو رونق بھی بخشتی تھیں۔ انہیں خاص طور پر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھااور یہ خود کو عریاں کر کے نجانے کتنے شریفوں کی پوشاکیں اترتی دیکھا کرتی تھیں۔ رنگا رنگ کپڑوں میں، اپنے اندر کئی اندھیرے سموئے، پیاسے دل و دماغ کے ساتھ گالیاں دینے والوں کو سیراب کرنے کا فرض بھی یہی چھٹی انگلیاں ادا کرتی تھیں۔ یہ نہ تو کسی کی بہنیں تھے اور نہ کسی کے بھائی، انکا ہر رشتہ ادھورا اور نا مکمل تھا۔
وقت کے درخت نے کئی خزائیں اور بہاریں دیکھیں اور جب بستی کے شرفاء عمر کی اس سطح کو پہنچ گئے، جہاں پیاس تو بہت لگتی ہے مگر بجھائی نہیں جا سکتی، حسرتیں تو بہت ہوتی ہیں مگر پوری نہیں کی جا سکتیں تو ان شرفاء کو خیال آیا کہ اپنی آنے والی نسل کو پاک صاف معاشرہ دینے کے لئے اس لعنتی جنس کو بستی سے باہر پھینکنا ہو گا لہٰذہ چھٹی انگلی کو ہاتھ سے کاٹ دیا گیا۔
اگلے کئی روز تک، تمام اچھے لوگ بیٹھ کر اِس نیکی کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ ماضی کے گاہک آج زاہد بنے بیٹھے تھے۔ وہ تمام شرفاء شاید ٹھیک تھے، کیونکہ بستی اب اچھی ہو گئی تھی۔ بچوں میں سے خوف چلا گیا تھا، خواتین کو راہ چلتے ہوئے کوئی شرمندہ کرنے والا نظارا دیکھنے کو نہیں ملتا تھا، چھٹی انگلیوں کے والدین کو اب بغلیں نہ جھانکنا پڑتی تھیں۔ بستی نے گویا آبِ زمزم سے غسل کر لیا تھا۔ یہ تمام عرصہ بہت اچھا اور غیرت مندی والا تھا مگر پھر دھیرے دھیرے کچھ عجیب ہونے لگا، اب بستی کے میلوں اور تقریبات میں بستی کی لڑکیاں ناچنے لگیں، عورتوں کی بولیاں لگنے لگیں، مکمل بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جانے لگا


 کنور نعیم


https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Comments

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ