Posts

دیوی اور اور دیوتاؤں کے نام۔۔۔

Image
پوری بستی دیوی اور دیوتاؤں کے تابع تھی۔ لوگوں کے دلوں   میں مقدس ہستیوں کے لیے عقیدت اور احترام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دیوی اور دیوتاؤں کا ہر فیصلہ ، خواہ قابل قبول ہو یا نہ ہو، لوگ من و عن تسلیم کیاکرتے ۔ جو فیصلے سمجھ سے بالاتر ہوتے ، ان فیصلوں کو اپنی کم عقلی اور نادانی مان کر قبول کیا   جاتا   کہ اگر دیوی اور دیوتاؤں نے ایسا سوچا ہے تو کوئی حکمت ہی ہوگی۔ اس بستی میں کئی لوگ بھوک سے مرتے تھے،مگر مقدس مقامات پر چڑھاووں کا سلسلہ ایک لمحے کو بھی نہ رکتا ۔ کوئی سردی میں ٹھٹھرتا تو کوئی سخت گرمی میں   برہنہ پھرتا، لیکن دیوی اور دیوتاؤں کے نام پر چادریں چڑھتی رہتیں۔   مقدس ہستیوں کو اتنے اہتمام، اندھی عقیدتوں اور بے پناہ اختیارات ملنے کی وجہ سے سوال اور اعتراض سننے کی عادت ہی نہ رہی تھی۔ وہ ہر سوال کرنے والے کی زبان کھنچوا دیتے، ہر معترض انگلی کٹوا دیتے۔ بستی دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک حصہ سر تا پیر عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا تو دوسرا حصہ محض خوف میں۔ یہ سلسہ اتنے عرصے سے چلا آرہا تھا کہ لوگوں کے ذہن میں یہ خیال تک آنا بند ہوگیا کہ اس سب کو روکا بھی جا سک...

وقت۔۔۔

Image
وقت بہت عجیب شے ہے۔ کبھی   پہاڑوں کا جگر چیر دیتا ہے تو کبھی   ذرے کو بھی تبدیلی سے پاک رکھتا ہے۔ بعض اوقات مڑ کر پیچھے دیکھو تو لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے سا نہیں رہا اور کبھی ہزار ہا برس کی مسافت کے بعد بھی کوءی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔ اسی وقت کی بے اعتناءی اور اپنی بے بسی کا شکار ایک بوڑھا روز شہر کے چوک پر سورج ڈھلے آجاتا اور گھنٹوں بڑ بڑاتا رہتا۔ وہ دکھنے میں ہیبت ناک ضرور تھا، لمبے بکھرےسیاہ اور سفید بال، میل بھرے ناخن، پیلے نوکیلے دانت لیکن وہ تھا بے ضرر۔ البتہ ، کبھی کبھار قریب سے گذرتے راہگیروں پرلپک پڑتا اور، تمہیں کیا ہو گیا ہے کی گردان کرنے لگ جاتا۔اسکا حلیہ گندہ ضرور تھا لیکن چہرے پر وقار اور چال میں وجاہت بھی غضب کی تھی۔ اس کی بے ترتیبی میں بھی ایک عجب ربط ہوتا تھا۔ یوں کہہ لیں کہ، کھنڈرات بتاتے تھے کہ عمارت تھی شاندار۔ کہنے والے اس کے بارے میں عجیب عجیب داستانیں کہتے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ کسی وقت میں شہر کے متمول افراد میں سے ایک تھا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ زیادہ تعلیم نےاس کا ذہن پلٹ کر رکھ دیا۔ کچھ محبت میں دھوکے کو اس کی حالت کا ذمہ دار ٹہراتے۔ غرض،...

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

Image
سب سے پہلے ایک خوشخبری سن لیجیئے۔علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری ائرپورٹ تھانے راولپنڈی میں درج ایف آئی آر کے تحت عمل میں لائی گئی۔ جہاں اس نے راولپنڈی 4 نمبر چنگی پر قائم سابقہ فیصل اور حالیہ جمیل کلاتھ کے مالک سفیان سکندر کے ساتھ 70 لاکھ کا فراڈ کیا ہوا تھا۔ لیکن ساتھ ہی ایک بری خبر بھی سن لیجئے کہ اس کی ضمانت بھی ہو گئی ہے جس کی وجہ سفیان سکندر کی ہی خود غرضی اور موقعہ پرستی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ تءین دن پہلے پیر کے روز ہمین اطلاع ملی کہ علی سجاد کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور اسکی مدعی کے ساتھ 10 لاکھ کی ڈیل چل رہی ہے۔ ہم نے یہ بات بتانے کو جب سفیان سکندر سے رابطہ کیا تو اس نے پوری بات سننے کے بعد ہمیں بتایا کہ یہ ڈیل اسی کی چل رہی ہے اور علی سجاد شاہ کو اسی نے گرفتار کروایا ہے۔ پھر اس نے یہ استدعا بھی کی ہم آج، یعنی پیر کے دن تک اس خبر کو باہر نہ جانے دیں کیونکہ سفیان کو خوف تھا کہ علی سجاد شاہ کے صحافی دوست اسے پھر نہ بچالیں۔ ہمدردی کے ناطے ہم نے یہ بات مان لی لیکن آج پیر کے دن سفیان کا نمبر صبح سے بند تھا اوریہ ہمیں دوکان پر...

ماں تجھے سلام

Image
ان دونوں کی نوکری ایک جیسی تھی بس ان کے مالک الگ الگ تھے۔ ان دونوں کی دوستی بھی ایک ساتھ اپنی اپنی نوکریاں سر انجام دیتے ہوئے ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک مسلمان اور دوسرا غیر مسلم تھا۔ وہ پڑوسی ممالک سے تعلق رکھتے تھے اوراپنے اپنے ملکوں کی سرحدوں پر نافذ تھے۔جس علاقے میں ان کی ڈیوٹی تھی اس جگہ آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہ صبح شام باتیں کرتے اور ٹہلتے رہتے تھے۔دونوں ایک دوسرے کی سرحد کے پار بلا خوف و خطر یوں آتے جاتے گویا وہ سرحد نہ ہو بلکہ دو دوستوں کے گھر ہوں۔ ان دونوں نے محبت بڑھانے کے لیے کئی حیلے بھی ڈھونڈ رکھے تھے۔ جیسے کہ چائے بنانے کی باریاں طے تھیں۔ ایک دن چائے اِس پار سے آتی تو اگلے دن اْس پار سے۔ اپنے اپنے تہواروں سے واپسی پر تحائف کا تبادلہ کرتے۔ اپنے اپنے علاقوں کی داستانیں، کہانیاں، واقعات اور حالات سناتے۔ ان کی نوکری بد ترین نوکریوں میں سے ایک تھی۔ نہ کھانے کے لیے مناسب کھانا، نہ پینے کے لیے ٹھنڈا پانی۔ نہ رہنے کا کوئی مناسب انتظام۔ مگر یہ دوستی جو میسر آگئی تھی وہ ان سب تکالیف کا مداوا تھی۔ وہ کبھی کبھی بیٹھے سوچتے کہ یہ کیا عجیب عذاب ہے۔ جب ہم دونوں کو ایک د...

خواہشات

Image
مجھے خدا کے بندوں کوسمجھنے کا بہت شوق تھا۔ میں ہمیشہ خدا سے یہ ضد کرتا رہتا کہ مجھے کوئی ایسا مرتبہ دے دے کہ جس سے میں انسانوں کاقریب سے نہ صرف مشاہدہ کر سکوں بلکہ انہیں جان بھی سکوں۔ مگر چونکہ میں خدا کاکوئی منتخب نمائندہ نہ تھا لہٰذا میری عرضی رد کردی گئی۔ لیکن میرے متواتر اصرار پر خدا نے مجھ پر یہ رحم ضرور فرمایا کہ مجھے ایسے  آسمانی شعبے تک رسائی دے دی جہاں میرا کام لوگوں کی خواہشات کو سننا تھا۔ لوگوں کی حسرتیں اورخواہشات سن کر ان کی نفسیات اور مسائل کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہ تھا اسی لیے میں اس کام سے بہت محظوظ ہونے لگا۔ اس شعبے میں داخل ہوتے ہی مجھے دنیا میں بسے تمام انسانوں کی ایک فہرست تھما دی گئی ۔ میں ہر روز کسی ایک علاقے کو منتخب کر لیتا اور ان کی خواہشات سننے میں لگ جاتا ۔ کچھ لوگوں کی خواہشات بہت مزے دار ہوتیں تو کچھ کی کافی حیران کن۔ خواہشوں کا تعلق عمر اور علاقے سے بھی ہوتا تھا جیسے کہ ضعیف العمر لوگ کھیلنے کے لیے گڑیا نہیں مانگتے تھے اور گرم علاقے والے لحاف اور کمبل ۔ نوجوانوں کی اکثر خواہشات ہوتیں کہ ان کا امتحان پاس ہوجائے یا پھر ان کی من پسند نو...

تخلیق کار

Image
تخلیقی ذہن ہر میدان میں انسان کو کامیابیاں دلواتا ہے۔ خواہ معاملہ تعلیم کا ہو، نوکری کا یا کھیل کا۔ تخلیقی ذہن متوقع مواقعوں سے زیادہ مواقع خود بنا لیتا ہے۔ یہ واقعہ ہے ایک تخلیقی شخص کا جس نے اپنی تمام تر صلاحتیں کاروبار میں صرف کر دیں۔ اس نے ایسے ایسے نئے کاروبار ایجاد کیے کہ دیکھنے والے حیران اور سننے والے بے یقینی کا شکار ہو جاتے۔ وہ کبھی کھانے پینے کی اشیاء کو خوبصورت شکلیں دے کر بیچ دیتا تو کبھی بے کار اشیاء   کو خوبصورت شکلیں دے کر انہیں   سجاوٹ کے قابل بنا کر فروخت کر دیتا۔   وہ ترقی   کے سفر میں صحیح غلط، حرام اور حلال کی تفریق کا بھی قائل نہیں تھا۔ کبھی چوری کا مال   بکوایا ۔ کبھی ان چیزوں کا لین دین کیا جن پر حکومت کی جانب سے پابندی تھی تو کبھی ان چیزوں کا جن پر مذہب کی جانب سے تحفظات تھے۔ مختصر یہ کہ پیسہ کمانے کے اس نے کوئی موقعہ اور کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہ دیا۔اس کا ہر منصوبہ اپنے اچھوتے پن کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا اور لوگ چاہ کر بھی اس کی نقل نہ کر پاتے۔اسکی ہر ترکیب اتنی جامع اور اچھوتی ہوتی تھی کہ لعن طعن کرنے والے بھی ایک بار تو آ...