خواہشات



مجھے خدا کے بندوں کوسمجھنے کا بہت شوق تھا۔ میں ہمیشہ خدا سے یہ ضد کرتا رہتا کہ مجھے کوئی ایسا مرتبہ دے دے کہ جس سے میں انسانوں کاقریب سے نہ صرف مشاہدہ کر سکوں بلکہ انہیں جان بھی سکوں۔ مگر چونکہ میں خدا کاکوئی منتخب نمائندہ نہ تھا لہٰذا میری عرضی رد کردی گئی۔ لیکن میرے متواتر اصرار پر خدا نے مجھ پر یہ رحم ضرور فرمایا کہ مجھے ایسے  آسمانی شعبے تک رسائی دے دی جہاں میرا کام لوگوں کی خواہشات کو سننا تھا۔ لوگوں کی حسرتیں اورخواہشات سن کر ان کی نفسیات اور مسائل کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہ تھا اسی لیے میں اس کام سے بہت محظوظ ہونے لگا۔
اس شعبے میں داخل ہوتے ہی مجھے دنیا میں بسے تمام انسانوں کی ایک فہرست تھما دی گئی ۔ میں ہر روز کسی ایک علاقے کو منتخب کر لیتا اور ان کی خواہشات سننے میں لگ جاتا ۔ کچھ لوگوں کی خواہشات بہت مزے دار ہوتیں تو کچھ کی کافی حیران کن۔ خواہشوں کا تعلق عمر اور علاقے سے بھی ہوتا تھا جیسے کہ ضعیف العمر لوگ کھیلنے کے لیے گڑیا نہیں مانگتے تھے اور گرم علاقے والے لحاف اور کمبل ۔
نوجوانوں کی اکثر خواہشات ہوتیں کہ ان کا امتحان پاس ہوجائے یا پھر ان کی من پسند نوکری انہیں مل جائے۔  کچھ دل جلے وصل کی آرزو میں مبتلا ہوتے۔ من چلوں کو تیز رفتار سواریاں لبھاتیں یا دنیا بھر کی سیر کی آرزو دل میں پنپتی۔ نوجوان لڑکیوں کی خواہشات بھی انہی کی طرح جوان اور چہکتی لہکتی ہوتیں۔کچھ لوگوں کو پر تکلف غذاء کا شوق ہوتا۔ جو کمانے کی عمر میں ہوتے وہ زیادہ دولت کے خواہشمند ہوتے۔ جو شادی شدہ ہوتے انہیں اولاد کی آرزو بے تاب کیے رکھتی۔ جن کے گھرنہ تھے انہیں گھر چاہیئے ہوتا۔میں اس ادارے میں کئی سال رہا۔ کئی خواہشات سنیں۔ سب سے زیادہ مزہ بچوں کی خواہشات سننے میں آتا کہ کاش میری ٹیچر بیمار ہوجائیں۔ کاش ماما کی آنکھ صبح دیر سے کھلے۔ چھٹیاں جلدی آجائیں۔ میری برابر والی سیٹ پر صرف میرا دوست بیٹھے۔ پاپا جلدی گھر آجائیں۔ ٹیوشن والی ٹیچر ڈائری چیک کرنا بھول جائیں۔ میری سائیکل آجائے اور نجانے کیا کیا۔ غرض ہر عمر کی خواہش اسی عمر جیسی ہوتی۔ معصوم، پھر جوان، پھر پختہ پھر صرف اشد ضروری۔ جب اس شعبے میں کام کرتے مجھے عمر کا ایک طویل عرصہ بیت گیا تو میرا تبادلہ شکایات اور شکوے والے شعبے میں کر دیا گیا۔ میں یہاں سے تبادلہ نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس جگہ سے مجھے ایک انسیت ہو چکی تھی مگر خدائی حکم کے آگے نوکری کی تے نخرہ کی والی حالت تھی۔۔۔ نئی جگہ پر مجھے جگہ بنانے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔میرا اندازہ تھا کہ یہاں کی کارروائیاں اور معمولات  ،منفرد تو ہونگے مگر پہلے کی طرح دلچسپ بھی ہونگے۔ اس کے علاوہ مجھے امید تھی کہ مجھے نئے لوگوں کی گفتگو سننے کا موقعہ ملیگا۔ مگر میرے لیے یہ بات حیرانی کا باعث تھی کہ مجھے یہاں  انہی لوگوں کی شکایات سننے کو مل رہی تھیں جن کی خواہشات کبھی  میں نے سنی تھیں۔  جو تیز رفتار گاڑیاں مانگا کرتےتھے، انہیں اب صحیح سالم ٹانگیں نہ ہونے کی شکایت تھی۔ جو بچے کہتے تھے کہ ٹیچر دیر سے آئیں یا بیمار ہو جائیں انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ انکی ٹیچر سے انکا رابطہ کیونکر منقطع ہوا۔ جو جوان کسی وقت دولت کی ریل پیل مانگا کرتے تھے وہ اب نالاں تھے کہ انہیں گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ایک بے فکری کی شام کیوں نہیں ملتی ۔ جس شخص کو دنیا گھومنے کی چاہ تھی وہ اب اپنے پرانے دوستوں کی تلاش میں تھا۔ رو رو کر محبت مانگنے والے محبت کے نام سے چڑ تے تھے۔ اولاد کے لیے منتیں کرنے والے اولاد کی بے وفائی کا رونا روتے۔ جنکی گھر کی خواہش تھی وہ اب مکینوں سے خالی مکان کا گلہ کرتے۔مرغن غذائیں مانگنے والے طویل عرصے سے پرہیزی کھانا کھا رہے تھے۔اب وہ بچے بڑے ہو گئے تھے جو ماما کی آنکھ دیر سے کھلنے کی دعا کرتے تھے۔ انکی ماما کی آنکھ کبھی نہ کھلنے کے لیے بندہو چکی تھی۔
میں لوگوں کی شکایات سن سن کرپاگل ہوگیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتاتھا  کہ میں خود کوروئوں کہ جگر کو پیٹیوں۔۔۔۔ انہیں دلاسے دوں، سمجھاوَں یا تنبیہ کروں۔ کبھی کوئی شخص خواہشوں والے دفتر سے مسکراتا نکلتا تو میرے چہرے پر بے اختیار غمناک مسکرا ہٹ آجاتی ۔ میں اس سب سے اتنا اکتا گیا کہ میں نے خود کشی کرلی۔ جب خدا کے حضور پیش ہوا تو خدا مسکرا رہا تھا۔ خدا نے مجھ سے میری خواہش پوچھی تو میں نے بے ساختہ کہا کہ میری کوئی خواہش نہیں۔ اور اگرمجھے دوبارہ پیدا کرے تو خواہشات سے پاک رکھیو۔۔
کنور نعیم

Twitter:      kanwar_naeem

Comments

  1. Mashallah boht khoob... kanwar my bro..

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص

چڑیا

طلبا کونسلز: ثقافت کے تحفظ کے نام پر بدمعاشوں کا گٹھ جوڑ