علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ.۔۔ایک ذہین ترین گھٹیا شخص
سب سے پہلے ایک خوشخبری سن لیجیئے۔علی سجاد شاہ
عرف ابو علیحہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری ائرپورٹ تھانے
راولپنڈی میں درج ایف آئی آر کے تحت عمل میں لائی گئی۔ جہاں اس نے راولپنڈی 4 نمبر
چنگی پر قائم سابقہ فیصل اور حالیہ جمیل کلاتھ کے مالک سفیان سکندر کے ساتھ 70
لاکھ کا فراڈ کیا ہوا تھا۔ لیکن ساتھ ہی ایک بری خبر بھی سن لیجئے کہ اس کی ضمانت
بھی ہو گئی ہے جس کی وجہ سفیان سکندر کی ہی خود غرضی اور موقعہ پرستی ہے۔ ہوا کچھ
یوں کہ تءین دن پہلے پیر کے روز ہمین اطلاع ملی کہ علی سجاد کو لاہور سے گرفتار
کرلیا گیا ہے اور اسکی مدعی کے ساتھ 10 لاکھ کی ڈیل چل رہی ہے۔ ہم نے یہ بات بتانے
کو جب سفیان سکندر سے رابطہ کیا تو اس نے پوری بات سننے کے بعد ہمیں بتایا کہ یہ
ڈیل اسی کی چل رہی ہے اور علی سجاد شاہ کو اسی نے گرفتار کروایا ہے۔ پھر اس نے یہ
استدعا بھی کی ہم آج، یعنی پیر کے دن تک اس خبر کو باہر نہ جانے دیں کیونکہ سفیان
کو خوف تھا کہ علی سجاد شاہ کے صحافی دوست اسے پھر نہ بچالیں۔ ہمدردی کے ناطے ہم
نے یہ بات مان لی لیکن آج پیر کے دن سفیان کا نمبر صبح سے بند تھا اوریہ ہمیں
دوکان پر بھی نہ ملا۔ جب اسکا نمبر آن ہوا تو اس نے کالز بھی بہت مشکل سے اٹھائیں۔
خیر، کچہری سے علی سجاد شاہ کی ضمانت کی تصدیق کی اور حاضری چارٹ حاصل کیا۔ جہاں
علی سجاد شاہ کی جگہ اسکا وکیل پیش ہوا تھا۔ کیس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں لگا
تھا۔ شام کے وقت اس سے ملاقات ہوئی تو اس یعنی سفیان سکندر نے بتایا کہ اس کی ڈیل
علی سجاد شاہ کے ماموں ظاہر شاہ اور بھائی وسیم عباس شاہ سے چل رہی ہے۔ اس نے مزید
کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ علی سجاد کو جب لاہور سے گرفتار کیا گیا تو اس نے وہاں
ایس ایس پی کی موجودگی میں اعتراف جرم بھی کیا اور پیسے ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
علی سجاد کا کہنا تھا کہ اسکی فلم عارفہ آنے والی ہے اور وہ اسی کے سلسلے میں
لاہور میں جیو کے ساتھ معاملات طے کرنے آیا تھا۔ وہاں کسی ہوٹل مین چیک ان کیا تو
شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث یہ پکڑ میں آگیا۔ علی سجاد شاہ نے یہ آفر بھی کی کہ
وہ کچھ رقم کیش، کچھ چیک اور کچھ چند ماہ بعد ادا کر دیگا لیکن اس آفر کو سفیان نے
ٹھکرا دیا۔ اس کے بعد علی سجاد شاہ نے فراڈ کی رقم سے بنایا گیا سیٹھی ولاز والا
گھر جو کہ اس کی بیگم سمائلہ رباب کے نام تھا وہ سفیان کے نام کرنے اور سفیان کو
علی سجاد شاہ کے بھائی وسیم عباس شاہ کے نام کا 5 لاکھ کا چیک اور پانچ لاکھ کا
نقد دیے گئے۔ جس پر سفیان نے عدالت میں یہ بیان جمع کروا دیا کہ اس کے معاملات علی
سجاد شاہ کے ساتھ صاف ہوگئے ہیں۔ گھر کی ملکیت کی منتقلی میں علی سجاد شاھ کی بہن
کا سسر سجاد کام آیا کیونکہ وہ ڈار کریانہ، نزد سیٹحی ولاز میں پراپرٹی کا ہی کام
کرتا ہے۔ اور چیک دینے والا علی سجاد شاہ کا بھائی وسیم عباس شاہ بقول سفیان
سکندر، اسلام آباد کے سینٹورس مال میں کرکٹ کی کوئی ویب سائٹ چلاتا ہے۔ سفیان
سکندر سے جب یہ کہا گیا کہ اگر وہ پہلے ہی خبر نکالنے دیتا اور ہم سے یہ جھوٹ نہ
بولتا کہ علی کی ضمانت نہیں ہونے دینگے اور پانچ ماہ اندر رکھیں گے نہ بولتا تو
نجانے کتنے غریبوں کا اور بھلا ہو جاتا تو سفیان سکندر بے شرموں کی طرح گنگناتا
اور ہوں ہاں کرتا رہا۔
اب چلیں آگے کچھ باتیں کرلیتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک الہامی پیغام کی شکل اختیار کر
رہا ہے۔ اس سے وابستہ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد اس پر شائع ہونے والی ہر خبر اور
اس پر بیٹھے ہر دانشور کو صادق اور امین مان لیتے ہیں۔ میں بھی انہی عقل مندوں میں
سے ہوں جنہوں نے سوشل میڈیا پر بہت سے افراد کو دانشور نہ صرف جانا بلکہ دل سے اس
بات کو تسلیم بھی کرلیا۔ لیکن انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔ وہ بہت کم یاب
اور کامیاب لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی غلطیوں سے سبق لے لیں۔ میں خود تو عالم نہیں
ہوں لیکن مجھے علم رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے ہی پسند رہے ہیں۔ علم چاہے روحانی ہو،
دنیاوی ہو، دینی ہو یا کوئی ہنر۔
سوشل میڈیا پر علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کی
تحریروں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کے لفظوں میں ایک کاٹ تھی۔ اس کی طنز و مزح کی
حس بہت جاندار تھی۔ میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میری اس سے کسی طرح بات ہو جائے۔ علی
سجاد شاہ عرف ابو علیحہ مجھے میرے نام سے جانے۔ میرے ذہن میں اس کا ایک بہت بڑا بت
تھا۔ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ مجھے ابو علیحہ کے کا نمبر ایک مشترکہ
دوست سے آخر کار مل ہی گیا اور اس سے صرف 2 بار مسج پر چند سیکنڈز کی بات چیت بھی
ہوئی۔ پھر انہی دنوں اس کا ذکر میں نے اپنی ایک دفتر کی ساتھی کے ساتھ کیا۔
اتفاقاً اس کوعلی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کے بارے میں علم تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ
یہ شخص "وائٹ کالر کرائم" کا ماہر ہے۔ ایک فراڈ اور بہروپیہ ہے۔ میں اس
بات کوتسلیم کرنے پر بلکل آمادہ نہیں تھاشاید کیونکہ محبت اندھی ہوتی ہے۔
خیر معاملات چلتے رہے۔ اور اچانک منظر عام سے علی
سجاد شاہ عرف ابو علیحہغائب ہوگیا۔ یہ غائب ہونے کے بعد مری میں بھی دیکھا گیا۔
اور قریباً 9 ماہ بعد واپس آیا اور آتے ہی اس نے "ایجنسیوں" پر الزام
لگا دیا۔ ہمارے ملک میں یہ رواج بہت تقویت پکڑ رہا ہے کہ کسی کی بکری بھی گم ہو
جائے تو کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی اٹھا کر لے گئی ہوگی۔ خیر، نو ماہ بعد جب علی
سجاد شاہ عرف ابوعلیحہ نے جہاز میں بیٹھےتصویر اپلوڈ کی اور کہا کہ مجھے آج رہا کر
کے پی آئی اے کی ٹکٹ دے کر جہاز میں بٹھا دیا گیا ہے تومیں اسی وقت سے اس سوچ میں
پڑ گیا کہ یہ کونسی "ایجنسی" ہے جو بندے کو اٹھانے کے بعد جب رہا کرتی
ہے تو موبائل فون واپس دیتی ہے، جہاز کا ٹکٹ دیتی ہے اور داڑھی بھی بڑھنے نہیں
دیتی۔ سارے فون نمبرز محفوظ رہنے دیتی ہے اور فون کا ڈیٹا بھی جوں کا توں رہتا ہے
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔
بہرحال تفتیش شروع کی تو موصوف کے کارنامے یکے
بعد دیگرے سامنے آتے چلے گئے۔ آپ ان کارناموں کی تفصیل پہلے پڑھ لیجئے۔
1} علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ اپنے باپ کے کوٹے
پر محکمہ صحت میں ایل ڈی سی یعنی لوئر ڈویژنل کلرک بھرتی ہوا۔ جہاں اس نے خرد برد
کی اور 400 ملازموں کے جعلی دستخط کر کے جعلی میڈیکل بلز وغیرہ بنوائے۔
2} صدر مشرف کے دور میں جب وزارتیں ضم ہوئیں توعلی
سجاد شاہ عرف ابو علیحہکا تبادلہ محکمہ صحت سے محکمہ شماریات میں ہوگیا۔ اس کی
ابتدائی رپورٹ محکمہ شماریات کو کچھ اچھی موصول نہیں ہوئی تھی لیکن بہر حال یہ
محکمہ شماریات میں ٹرانسفر ہوگیا۔ اس نے یہاں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد بیماری کی
درخواست دی اور خود کو پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل بتایا۔ محکمہ شماریات نے اس
بات کی جانچ پڑتال کروائی تو یہ پمز میں داخل نہیں تھا۔ یہ اس وقت کراچی کمپنی میں
کے سرکاری فلیٹ میں مقیم تھا۔ اس کو شوکاز نوٹسز بھیجے گئے جو اس نے وصول نہیں
کیےاور یوں تمام نوٹسز واپس آتے گئے۔ بالآخرعلی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کومحکمہ
شماریات سے نکال دیا گیا۔
3} علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ نے روزنامہ
"محاذ" میں ملازمت اختیار کی مگر جعل سازی اور دھوکہ دہی کے باعث اس کو
وہاں سے بھی نکال دیا گیا اور اخبار میں اس کے خلاف اشتہار بھی چھپا۔
04} راولپنڈی کے علاقے پیر ودھائی میں علی سجاد
شاہ عرف ابو علیحہ کی اپنے ماموں جو کہ آجکل ٹیکسی ڈرائیور ہے کے ساتھ گھر کو لیکر
تنازعہ ہوا۔ اس کا ماموں آج بھی پیرودھائی میں رہائش پذیر ہے۔ بقول اس کے ماموں، علی
سجاد شاہ عرف ابو علیحہ اور اس کی ماں نے مل کر گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس کی ایف آئی آر پیرودھئی تھانے میں درج ہوئی ۔ کیس عدالت تک گیا اورعلی سجاد شاہ
عرف ابو علیحہ اوراس کی ماں کیس ہار گئے۔
05} علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ نے کشمیر
کاوَنسل کے ایک افسر کو اپنی صحافت کی بنیاد پر بلیک میل کیا اور 30 لاکھ روپے بطور
رشوت لیکر اس کی جان بخشی کی۔ وہ افسر خود بھی اچھی شہرت نہیں رکھتا۔
06} راولپنڈی مری روڈ پر واقع قیصر الیکٹرونکس
سے قسطوں پر موبائل فون لیکر علی علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ غائب ہوا۔ یہ اس ایف
آئی آر سے بھی مفرور ہے۔
08} راولپنڈی کی چار نمبر چنگی کے پاس قائم فیصل
کلاتھ کے مالک کے ساتھ فراڈ اس نے ایک خاتون صحافی کے ساتھ مل کر کیا۔ وہ خاتوں آج
کل ریڈیو کے ساتھ منسلک ہےن اور ماضی میں سفیان سکندر کی یونیورسٹی کی کلاس فیلو
بھی رہ چکی ہے۔70 لاکھ کا یہ فراڈ 'دریچہ' این جی او کے نام پر علی سجاد شاہ نے
کیا تھا۔ اور جب یہ پیسے لیکر مفرور ہوا تو اس کے بعد علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ نے
اپنے صحافی بھائی اور پریس کلب کی ایک ' افضل' شخصیت کے ساتھ مل کر اس تاجر کو خوف
زدہ کرکے چپ رہنے کے لیے دباوَ ڈالا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر گنج منڈی الف تھانے
میں درج ہوئی۔
09} سوشل میڈیا پر اپنی چرب زبانی کے باعث کئی
ایک خواتین کو اپنے جال میں پھنسا کر ان سے پیسے لینا۔ انکی نازیبا تصاویراور محبت
بھرے پیغامات کے بل پر انہیں بلیک میل کرنا بھی علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کے لیے
عام سی باتیں ہیں۔
10} پنجاب میں فراڈ بڑھ جانے اور کافی لوگوں کو
حقیقت کا پتہ لگ جانے کے باعث اس نے واپس کراچی جانے کا منصوبہ بنایا اور وہاں
محفوظ رہنے کے لیے ایم کیو ایم کے ساتھ نزدیکیاں بڑھانا شروع کیں۔ آپ الطاف حسین
اور ایم کیا ایم کے حق میں علی علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہکی سوشل میڈیا پرپوسٹس
سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور راولپنڈی مری روڈ پر ایم کیو ایم کا جو
دفتر مری روڈ راولپنڈی میں قائم ہوا اس کا انچارج علی سجاد شاہ ہی تھا۔ اس کو
کراچی میں محفوظ پناہ گاہ کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ یہ پہلے بھی وہاں سے فراڈ
کرکے فرار ہو چکا تھا۔
11} عارفہ فلم کے نام پر اس نے ایم کیو ایم سے
تعلق رکھنے والے رہنما، جنہوں نے حال ہی میں استعفی دیا ہے، علی رضا عابدی سے
رابطہ کیا۔ لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔
12} اسلام آباد میں روپوش ہونے کے لیے علی سجاد
شاہ عرف ابو علیحہ کی فیملی نے بھارہ کہو کے سیٹھی ولاز کے پاس ڈار کریانہ سے متصل
گلی میں رہائش اختیار کی جہاں اس کی اپنی فیملی، بیوی بچے، بھائی اور سالہ مبینہ
طور پر آج بھی رہائش پذیر ہیں۔ علی سجاد شاہ عرف اببو علیحہ کا سالہ کشمیر کاوَنسل
میں بطور انجینئرملازم تھا۔ اُس کی نوکری ا ھی موحجود ہے یا نہیں اس کے ارے میں
مختلف معلومات ہمیں ملیں۔
13} اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ میں وفاقی اردو
یونیورسٹی کے پیچچھے گاڑیوں کی کئی ورکشاپس ہیں۔ علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہکا ایک
ماموں وہاں ایک دوکان پر ہوتا ہے۔ مبینہ طور پر اس ماموں اورعلی سجاد شاہ عرف ابو
علیحہ میں علیک سلیک کبھی ختم نہیں ہوئی۔
یہ اس کے کئی کارناموں میں سے چند ایک کی
جھلکیاں ہیں۔ کسی بھی قسم کے شک کی صورت میں تمام کرداروں تک پہنچایا جا سکتا
ہے۔اس کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے علی سجاد شاہ عرف
ابو علیحہپہلے خواتین کو اپنی چرب زبانی اور علم اور قابلیت کی دھونس جما کر اپنے
اوپر فریفتہ کرواتا ہے۔ پھر ان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کی اپنی بیوی سے ناچاکی کے باعث
علیحدگی ہو چکی ہے۔ پھر کسی کتاب لکھنے یا فلم بنانے کے نام پر پیسے مانگتا ہے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کا اس کا دوسرا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ ان سے دوستی اور جھوٹی محبت کے زمانے میں نازیبا اور قابل اعترااض تصاویر منگواتا ہے اور پھر آگے چل کرانہی تصاویر کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کرتا ہے۔ فراڈ کرنے کے بعد اگر یہ اس متاثرہ شخص سے ملے تو ماں کی بیماری اور گھر کی فروخت اور تنگی حالات جیسے رونے دھونے روتا ہے۔
یہ اپنی کئی ایک تصاویر لیکر رکھتا ہے اور ہمیشہ سوشل میڈیا پر اپنی لوکیشن کے بارے میں جھوٹ لکھتا ہے۔ اگر یہ اس وقت کشمیر میں ہوا تو سوشل میڈیا پر کراچی لکھے گا۔ پرانی تصاویر پوسٹ کریگا۔
خواتین کو ہراساں کرنے کا اس کا دوسرا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ ان سے دوستی اور جھوٹی محبت کے زمانے میں نازیبا اور قابل اعترااض تصاویر منگواتا ہے اور پھر آگے چل کرانہی تصاویر کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کرتا ہے۔ فراڈ کرنے کے بعد اگر یہ اس متاثرہ شخص سے ملے تو ماں کی بیماری اور گھر کی فروخت اور تنگی حالات جیسے رونے دھونے روتا ہے۔
یہ اپنی کئی ایک تصاویر لیکر رکھتا ہے اور ہمیشہ سوشل میڈیا پر اپنی لوکیشن کے بارے میں جھوٹ لکھتا ہے۔ اگر یہ اس وقت کشمیر میں ہوا تو سوشل میڈیا پر کراچی لکھے گا۔ پرانی تصاویر پوسٹ کریگا۔
اس مضمون کو لکھنے سے پہلے اخلاقاً اور انسانیت
کے ناطے اور اصول پسندی کے تحت ہم نے ایک سوالنامہعلی سجاد شاہ عرف ابو علیحہکو
بذریعہ واٹس ایپ بھیجا۔ وہ سوال نامہ کچھ یوں تھا۔
"اسلام و علیکم سجاد بھائی، کیسے ہیں آپ؟؟
آپ کی تحریریں ایک عرصے سے پڑھ رہا ہوں ۔ یقیناً وہ اس قدر پر لطف ہوتی ہیں کہ اگلی تحریر کا انتظار رہتا ہے۔ لیکن آپ اچانک غائب ہو گئے اور ایک طویل عرصہ انتظار میں گذرا۔ آپ نے واپس آ کر بتایا کہ آپ کو اٹھا لیا گیا تھا۔ میں نے اپنے تئیں آپ کو جاننے کی کوشش کی اور چند ایک سوالات پر آکر رک گیا ہوں۔ برائے مہربانی ان سوالات کا جواب دے کر میری الجھن دور کر دیں۔
آپ کی تحریریں ایک عرصے سے پڑھ رہا ہوں ۔ یقیناً وہ اس قدر پر لطف ہوتی ہیں کہ اگلی تحریر کا انتظار رہتا ہے۔ لیکن آپ اچانک غائب ہو گئے اور ایک طویل عرصہ انتظار میں گذرا۔ آپ نے واپس آ کر بتایا کہ آپ کو اٹھا لیا گیا تھا۔ میں نے اپنے تئیں آپ کو جاننے کی کوشش کی اور چند ایک سوالات پر آکر رک گیا ہوں۔ برائے مہربانی ان سوالات کا جواب دے کر میری الجھن دور کر دیں۔
آپ کا محکمہ صحت میں جعلی دستخطوں کا جو مسئلہ بنا تھا اس
کی تفصیلات؟
ادارہ شماریات چھوڑنے کی کیا وجہ تھی؟
راولپنڈی کے کپڑے کے تاجر کے ساتھ جس این جی او کے نام پر
آپ نے معاہدہ کیا تھا اس این جی او کا کیا
بنا؟ وہاں کتنے پیسوں کا لین دین ہوا؟
آپ کو جیل کس جرم میں ہوئی؟
اعوان کالونی والے مکان کو لے کر آپ کا اپنے ماموں کے ساتھ
کیا تنازعہ ہوا تھا؟
سیٹھی ولاز کے پاس جو پلاٹ لیا اور مکان بنوایا وہ کب
بنایا؟
آپ کی گمشدگی کے دوران آپ کے گھر والوں نے کوئی احتجاج یا
ایف آئی آر کیوں نہ کی؟
خاتون صحافی کو بلیک میل کن وجوہات پر کیا؟
محاظ اخبار نے آپ کو اپنے ادارے سے بلیک لسٹ کیوں کیا
حالانکہ آپ تو اس کے رپورٹر تھے؟
قیصر الیکٹرونکس والوں کے ساتھ کتنی رقم کی لین دین ہوئی
تھی آپ کی؟
جواب کا انتظار رہیگا"
مجھے علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ کے گھٹیا ہونے
کا یقین اس کے جواب کے بعد آیا۔ اس نے مجھے اس سوالنامے کے جواب میں واٹس ایپ پر
آڈیو میسج بھیجا جس میں اس نے ماں بہن کی گالیاں اور نجانے کیا کچھ کہا۔ اور وہی
ایک فضول سا لطیفہ سنا کر معاملے کو گول کرنے کی کوشش کی کہ میں نے بچپن میں بچی
سے کیلے چرائے تھے وہ بھی لکھ دیتے وغیرہ وغیرہ۔ اس کا وہ آڈیو پیغام بھی موجود
ہے۔ اگر ان سب کو ابو علیحہ اپنی جوانی کی غلطیاں کہتا تھا تو بھائی سامنے آ کر
مقدمات کا سامنا کیوں نہ کیا؟ اب بھی مفروری کی حالت مین ہی پکڑے گئے ہو۔
یہ سب معاملات صرف اس کے کارناموں کی ایک جھلک
ہیں۔ اس کے کارنامے اس سے دراز ہیں۔ اور تمام باتیں جو اوپر لکھی گئی ہیں وہ
اندھیرے میں چھوڑے گئے تیر نہیں ہیں۔ ان تمام باتوں کے ثبوت موجود ہیں جن کو اٹیچ
بھی کیا جائیگا۔ اور وہ الزامات جنکی معلومات پکی ہیں لیکن دستاویزی ثبوت موجود
نہیں جیسے کہ مسلمان اخبار میں اس کے خاندان کے خلاف چھپا اخباری تراشہ،علی سجاد
شاہ عرف ابو علیحہکا اڈیالہ جیل جانا کو ہم نے مضمون کا حصہ نہیں بنایا۔ معاملہ بس اتنا سا ہے کہ کسی کو شبہ ہے، یا اس
مضمون کی صحت سے انکارہےتو اسے ان تمام کرداروں سے ملوایا جا سکتا ہے۔
ایک گذارش پڑھنے والوں کے نام۔۔۔۔ خدارا۔۔۔ کوئی اچھا لکھتا ہو، گاتا ہو، پڑھتا ہو، دکھتا ہو۔۔دل فریفتہ نہ ہوں۔ لازمی نہیں کہ وہ اچھا انسان بھی ہو۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
اس تمام کام کی تفتیش ہم دو دوستوں نے مل کر کی تھی۔
اویس سید اور کنور نعیم
اس کے بارے میں مزید معلومات کوئی شخص اگر دینا چاہے تو ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔
ایک گذارش پڑھنے والوں کے نام۔۔۔۔ خدارا۔۔۔ کوئی اچھا لکھتا ہو، گاتا ہو، پڑھتا ہو، دکھتا ہو۔۔دل فریفتہ نہ ہوں۔ لازمی نہیں کہ وہ اچھا انسان بھی ہو۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
اس تمام کام کی تفتیش ہم دو دوستوں نے مل کر کی تھی۔
اویس سید اور کنور نعیم
اس کے بارے میں مزید معلومات کوئی شخص اگر دینا چاہے تو ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔
Twitter: @kanwar_naeem
Twitter : @voiceofawais
Twitter : @voiceofawais





























یہ تو کمال کا بندہ ہے اویس مجھے بھی یہ ہنر سیکھنا ہے اس بندے سے
ReplyDeleteHahahah Sahi zaheen tareen ghatia shakhs ha
ReplyDeleteاس الزامات کے باوجود آج جس مقام پر علی سجاد جس مقام پر ہے ۔تم جیسے حاسد لوگ کبھی نہیں پہنچ سکتے ۔شرم انی چاھئیے آپ کو ۔
ReplyDelete