تخلیق کار
تخلیقی ذہن ہر میدان میں انسان کو کامیابیاں دلواتا ہے۔
خواہ معاملہ تعلیم کا ہو، نوکری کا یا کھیل کا۔ تخلیقی ذہن متوقع مواقعوں سے زیادہ
مواقع خود بنا لیتا ہے۔
یہ واقعہ ہے ایک تخلیقی شخص کا جس نے اپنی تمام تر صلاحتیں
کاروبار میں صرف کر دیں۔ اس نے ایسے ایسے نئے کاروبار ایجاد کیے کہ دیکھنے والے
حیران اور سننے والے بے یقینی کا شکار ہو جاتے۔ وہ کبھی کھانے پینے کی اشیاء کو
خوبصورت شکلیں دے کر بیچ دیتا تو کبھی بے کار اشیاء کو خوبصورت شکلیں دے کر انہیں سجاوٹ کے قابل بنا کر فروخت کر دیتا۔ وہ ترقی کے سفر میں صحیح غلط، حرام اور حلال کی تفریق کا
بھی قائل نہیں تھا۔ کبھی چوری کا مال بکوایا ۔ کبھی ان چیزوں کا لین دین کیا جن پر
حکومت کی جانب سے پابندی تھی تو کبھی ان چیزوں کا جن پر مذہب کی جانب سے تحفظات
تھے۔ مختصر یہ کہ پیسہ کمانے کے اس نے کوئی موقعہ اور کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہ
دیا۔اس کا ہر منصوبہ اپنے اچھوتے پن کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا اور لوگ چاہ کر بھی
اس کی نقل نہ کر پاتے۔اسکی ہر ترکیب اتنی جامع اور اچھوتی ہوتی تھی کہ لعن طعن
کرنے والے بھی ایک بار تو آزما کر ضرور دیکھتے تھے۔ جیسے کہ ایک بار اس نے انڈوں پر رنگ کر کے انہیں مختلف جانوروں سے منسوب کر کے بیچ دیا۔ کبھی لوگوں کے جذبات سے کھیل کر اولاد نرینہ کے نسخے مہنگے داموں بیچ دیے۔ ایک ہی زمین کئی کئی لوگوں کو بیچ دی تو کبھی سرکاری اراضی کو اونے پونے داموں بیچ دیا۔ اس کا کاروبار حالات کی مناسبت سے بھی بدلتا رہتا تھا۔ عید الاضحٰی کے دنوں میں جانوروں کی کھالوں کے نقوش میں مقدس نام اور اشیاء کا جھانسہ دے کر قیمت آسمان تک پہنچا دیتا۔ لیکن یہ تمام منصوبے
ایک طرف اور انسانوں کی کرائے پر لین دین والا
خیال ایک طرف۔
ہوا کچھ یوں کہ اس نے ایک دوکان کھولی جس کے ماتھے پر جلی حروف میں لکھوایا کہ یہاں انسان کرائے پر دستیاب ہیں۔ لوگ آتے اور بتاتے کہ انہیں کس طرح کا انسان درکار ہے اور وہ انہیں انکی مرضی کا انسان مہیا کر دیتا۔ پچھلے تمام کاموں کی طرح اس کا یہ کام بھی چل نکلا کیونکہ ایسا کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔ اس منصوبے کی کامیابی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو بیٹھے بٹھائے روزگار میسر آگیا تھا۔ لوگ آکر اپنی خصوصیات لکھوا جاتے اور مانگ آنے پر خریدار کے ساتھ ہو لیتے۔ کامیابی کی تیسری وجہ وہ لوگ بنے جنہیں اکثر و بیشترآدمی درکار ہوتے تھے۔ اس کاروبار کی بدولت ان لوگوں کے لیے افرادی قوت حاصل کرنا نہ صرف آسان ہوگیابلکہ بندے کرائے پر لینے کی وجہ سے انکا غلاموں والا خرچ بھی بچ گیااور ہر قسم کی جواب داری اور ذمہ داری سے بھی براَت حاصل ہو گئی تھی۔
جو بندے وہ کرائے پر دیتا ان کے جسموں پر اپنے نام کی ایک مہر لگا دیتا تھا۔ لیکن کہتے ہیں کہ اگر کسی چیز کو بہت عرصے تک بدلا نہ جائے تو اندرونی صفوں میں سے ہی بغاوت اور تبدیلی پھوٹ پڑتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے اس کام پر نکتہ چینی ہونا شروع ہوگئی۔ لوگ باتیں بنانے لگے کہ انسانوں کو گدھوں ، خچروں اور استعمال کی چیزوں کی طرح کرائے پر دینا مناسب نہیں ۔انسانی جسموں پر مہر لگانا سراسر انسانیت کی تذلیل ہے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ عرصے تک تو وہ تاویلات، جواز اور جوابات سے کام چلاتا رہا مگر جب پانی ناک سے اوپر ہونے لگا تو اس نے اس کا حل بھی ڈھونڈ نکالا۔ علاقے والے بھی خوش ہو گئے، اسکا کاروبار بھی مزید چمک گیا۔
اس نے ان تمام لوگوں کو وردیاں سلوا کر دیں، اب مہر جسم کی بجائے وردی پر تھی اور دوکان کے ماتھے پر لکھا ہوا تھا
یہاں سیکورٹی گارڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ اس نے ایک دوکان کھولی جس کے ماتھے پر جلی حروف میں لکھوایا کہ یہاں انسان کرائے پر دستیاب ہیں۔ لوگ آتے اور بتاتے کہ انہیں کس طرح کا انسان درکار ہے اور وہ انہیں انکی مرضی کا انسان مہیا کر دیتا۔ پچھلے تمام کاموں کی طرح اس کا یہ کام بھی چل نکلا کیونکہ ایسا کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔ اس منصوبے کی کامیابی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو بیٹھے بٹھائے روزگار میسر آگیا تھا۔ لوگ آکر اپنی خصوصیات لکھوا جاتے اور مانگ آنے پر خریدار کے ساتھ ہو لیتے۔ کامیابی کی تیسری وجہ وہ لوگ بنے جنہیں اکثر و بیشترآدمی درکار ہوتے تھے۔ اس کاروبار کی بدولت ان لوگوں کے لیے افرادی قوت حاصل کرنا نہ صرف آسان ہوگیابلکہ بندے کرائے پر لینے کی وجہ سے انکا غلاموں والا خرچ بھی بچ گیااور ہر قسم کی جواب داری اور ذمہ داری سے بھی براَت حاصل ہو گئی تھی۔
جو بندے وہ کرائے پر دیتا ان کے جسموں پر اپنے نام کی ایک مہر لگا دیتا تھا۔ لیکن کہتے ہیں کہ اگر کسی چیز کو بہت عرصے تک بدلا نہ جائے تو اندرونی صفوں میں سے ہی بغاوت اور تبدیلی پھوٹ پڑتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے اس کام پر نکتہ چینی ہونا شروع ہوگئی۔ لوگ باتیں بنانے لگے کہ انسانوں کو گدھوں ، خچروں اور استعمال کی چیزوں کی طرح کرائے پر دینا مناسب نہیں ۔انسانی جسموں پر مہر لگانا سراسر انسانیت کی تذلیل ہے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ عرصے تک تو وہ تاویلات، جواز اور جوابات سے کام چلاتا رہا مگر جب پانی ناک سے اوپر ہونے لگا تو اس نے اس کا حل بھی ڈھونڈ نکالا۔ علاقے والے بھی خوش ہو گئے، اسکا کاروبار بھی مزید چمک گیا۔
اس نے ان تمام لوگوں کو وردیاں سلوا کر دیں، اب مہر جسم کی بجائے وردی پر تھی اور دوکان کے ماتھے پر لکھا ہوا تھا
یہاں سیکورٹی گارڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔
کنور نعیم
Twitter: @kanwar_naeem
Facebook: https://www.facebook.com/sahaaif/

بہت خوب، نعیم صاحب نے خوب صورت انداز میں انسانی معاشرے کی بے حسی بیان کی ہے
ReplyDeleteجنید بھائی آپ کی ذرہ نوازی ہے
DeleteBhut khubb 👍
ReplyDelete