بکری اور بچی
ہمارے معاشرے میں مساوات کی بحث ایک عرصے سے مختلف شکلوں
میں جاری ہے۔ کبھی مذہب کو لے کر مساوات کی بات کی جاتی ہے۔ کبھی معاشرت کو لے کر
تو کبھی معیشت کو لے کر۔ اس کے علاوہ لسانی مساوات کا ذکر بھی تواتر سے سننے کو
ملتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ دلچسپ جنسی مساوات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ عورت مرد کے
برابر ہے یا نہیں، اگر ہے تو کیوں ہے اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے۔ یہ سوالات بڑے
مزے کے ہوتے ہیں کیونکہ ان سوالات کو کرنے والے کے ذہن میں پہلے سے ہی ایک جواب
موجود ہوتا ہے جسے وہ محض تقویت دینے کے لیےہم خیال لوگوں کی آراء جمع کر تا ہے ۔
اگر یقین نہ آئے تو کسی عورت جو اولاد کی امید سے ہو کو بیٹی کی دعا دے کر دیکھ لیجیے۔ آپ عورت کو عورت سے نفرت کرتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب عورت مرد کے برابر ہے یا نہیں اس بارے میں تو وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہاں مگر گھرمیں بیٹیوں کی موجودگی میں بیٹے کو زیادہ پیار دیتے ہوئے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ بازار میں بیٹے کے حصول کی تدابیر، اوراد و وظائف اور کئی ایک نسخے بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جبکہ بیٹیاں تو خود بخود ہو ہی جاتی ہیں۔ ان چند حقائق سے کوئی بھی نتیجہ کشید کرنا آپ کی اپنی صوابدید ہے۔
اگر یقین نہ آئے تو کسی عورت جو اولاد کی امید سے ہو کو بیٹی کی دعا دے کر دیکھ لیجیے۔ آپ عورت کو عورت سے نفرت کرتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب عورت مرد کے برابر ہے یا نہیں اس بارے میں تو وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہاں مگر گھرمیں بیٹیوں کی موجودگی میں بیٹے کو زیادہ پیار دیتے ہوئے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ بازار میں بیٹے کے حصول کی تدابیر، اوراد و وظائف اور کئی ایک نسخے بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جبکہ بیٹیاں تو خود بخود ہو ہی جاتی ہیں۔ ان چند حقائق سے کوئی بھی نتیجہ کشید کرنا آپ کی اپنی صوابدید ہے۔
حقائق اپنی جگہ مگر اس سلسلے میں حجتیں بھی بہت سی ہیں۔
جیسے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے بنی ہے تو لہٰذا وہ مرد سے کم تر ہے۔ لیکن اگر اسی دلیل کو روشنی بنا کر دیکھا جائے
تو پیدائش کا عمل جس جگہ سے ہوتا ہے وہ زیادہ اچھی ہے یا پسلی ؟ تو اگر جائے پیدائش ہی عزت و توقیر کی
ضامن ہے توکم تر کو ن ہوا؟ دوسری حجت جو عام ہے وہ یہ کہ بیٹی خوامخواہ کا خرچہ
ہے، اتنا پیسہ لگا کر بڑا کرو، پڑھاوَ لکھاوَ اور پھر وہ شادی کر کے دوسرے گھر چلی
جائے۔ ایسی سرمایہ کاری کس کام کی؟ مگر
کمال کی بات یہ ہے کہ بہو سب کو پڑھی لکھی چاہیئے۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے
کہ بیٹی کے ساتھ عزت جڑی ہوتی ہے۔ اور وہ چار نظر نہ آنے والے لوگ جو ہر وقت طاق
میں لگے ہوتے ہیں کہ کچھ ہو اور وہ باتیں بنائیں اور بیٹیاں تو انہیں یہ موقعہ
سوتے ہوئے بھی دے دیتی ہیں کہ کیسے ٹانگیں پھیلائی ہوئی تھیں اور نجانے کیا کیا۔
باہر نکلے تو کسی لڑکے نے ان کی طرف کیوں دیکھا اس کا جواب بھی بیٹی نے ہی دینا
ہوتا ہے اور خاندان بھر کی عزت داوَ پر لگ جاتی ہے۔ بیٹے اس اذیت سے بھی ماورا ہوتے ہیں کیونکہ اول تو وہ مرد ہوتے ہیں
اور مرد کی شان ہی اس کے چوڑے ہونے میں ہے۔ اب چاہے جاگتے ہوئے ہو یا سوتے ہوئے۔دوم
یہ کہ اگر بیٹوں کے معاملے میں چار لوگوں باتیں بنائیں تو یہ مانا جاتا ہے کہ لوگوں کا کام تو ہوتا ہی باتیں بنانا ہے۔اوہ، ایک اور بات یاد آگئی۔
ایک بوڑھیا نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور بڑے چاوَ اور مان
کے ساتھ بہو کو گھر لے آئی۔ بہو چونکہ اکلوتے بیٹے کی بیوی تھی تو اس کی آوَ بھگت
بھی اس کے شایان شان ہونے لگی۔ بڑھیا نے خدمت اور محبت میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
لیکن خوشیوں کا رنگ اس دن پھیکے کے بجائے ماند ہی پڑ گیا جب بہو نے بیٹے کے بجائے
بیٹی کو جنم دیا۔ بڑھیا اپنی بہو سے ایسی روٹھی اور بد ظن ہوئی کہ طوطا چشم بھی
کیا ہوگا۔ ایک وقت تھا کہ بڑھیا اپنی بہو کے قدم زمین پر نہ پڑنے دیتی تھی اور اب
بہو کو کھانا تک نہ پوچھتی تھی۔ چلیں بہو سے نفرت کا جواز تو بڑھیا کے پاس موجود تھا مگر وہ اس ننھی بچی کو بھی دیکھنا
گوارہ نہیں کرتی تھی۔ بڑھیا جہاں بھی جاتی
جس محفل میں بھی بیٹھتی بس ایک ہی گلہ کرتی کہ ہائے میرا بیٹا اکیلا کتنے لوگوں کے
پیٹ پالیگا۔ وہ غریب جان کس کس کے خرچے اٹھائیگا۔یہ منحوس تو پیسہ لگوا لگوا کر
آخر میں ہاتھ پیلے کروا کر چلی جائیگی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ ہر
دکھ آنے والے سکھ کی چٹھی ہوتا ہے۔ خدا نے بھی بڑھیا کی سن لی اور اس پر مہربان
ہوگیا۔ انہی دنوں بڑھیا کی بکری نے بھی بچہ دیا اور اتفاق سے بکری نے بھی مادہ بچے کو ہی جنم دیالیکن کمال یہ ہوا کہ اس بار بڑھیا غصہ ہونے کے بجائے خوشی سے نہال
ہوگئی۔ اس نے بکری کی خوراک بڑھا دی۔ بکری کو چومنے چاٹنے لگی۔ دھوپ چھاوَں سے اسے
محفوظ رکھنے لگی۔ بکری کا بچہ تو جیسے کسی ریاست کااکیلا وارث پیدا ہوا ہو۔ اسے ہر
طرح کا ادھم اور نقصان معاف تھا۔ وہ باورچی خانے سے کمروں تک بلا روک ٹوک آ جا سکتا تھا۔
بڑھیا ہرآنے جانے
والے کو بتاتی کہ دیکھو ایک میری بہو ہے جس نے میرے بیٹے کا خرچہ بڑھا دیا۔ اس سے
اچھی تو میری بکری نکلی ، کم از کم میرا ہاتھ تو بٹا دیا۔ اب میں اس کا دودھ بیچا کرونگی اورجب یہ بچہ بڑا ہوجائیگا
تو میں اس کا دودھ اور بچے بھی بیچونگی اور چار پیسے جوڑ کر اللہ کا گھر دیکھ
آوَنگی۔ ان سب باتوں کے بیچ میں بہو بیٹھے سوچتی کہ اگر بچے اور دودھ بیچنے سے ہی
عزت ملتی ہے تو کیوں نہ تمام عورتوں کے۔۔۔۔۔۔
کنور نعیم
Twitter: @kanwar_naeem
Facebook: https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

بہت اعلیٰ کنور، معاشرے کے طبقاتی نظام کو خوب موضوع بنایا ہے
ReplyDeleteبہت اعلیٰ کنور، معاشرے کے طبقاتی نظام کو خوب موضوع بنایا ہے
ReplyDeleteبہت شکریہ جنید بھائی
Delete