کیا آپ یقین کریں گے؟
نبی
پاک ﷺَ تو پیدائش سے پہلے بھی نبی تھے مگر د نیا کو اس حقیقت کا پتا لگنے میں چالیس
برس کا عرصہ لگا۔ یہ چالیس برس نبی پاک ﷺ نے کیسے گذارے اسکا اندازہ اعلان نبوت کے
وقت ہوجاتا ہے جب آپ ﷺ نے کہا کہ لوگوں اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر
تم پر حملہ آور ہو نے کو تیار ہے تو کیا تم اس بات پر یقین کر لوگے؟ سب نے بیک زبان
کہا کہ بالکل کرلیں گے کیوں کہ ہم نےآپ ﷺَ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا ۔ یہ وہ
لوگ کہہ رہے ہیں جو ابھی تک آپ ﷺ کے نبی ہو نے کی حقیقت سے نا آشنا ہیں۔
قربا ن جاؤں میں اپنے ملک کے ہر فرد پر اس کے پیشے اور مرتبے کی تفریق کیے بنا۔ پھر چاہے وہ دھر نے کے کنٹینر سے کی جا نے والی گل پوشی ہو جس میں اس ہستی کا نام لے لے کر اتنی شاندار شعلہ بیانی کی گئی کہ جس کی زندگی میں کسی نے اس کے منہ سے گالی تو کجا ، کبھی سخت الفاظ بھی نہیں سنے اورجب کنٹینر سے یہ نور و عرفان کی مسلسل بارش ہو رہی تھی تو۔۔
تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا؟؟
مگر چلیں اس بات کو چھوڑ دیں اور دوسرے کنٹینر ر پر چھلا نگ لگا دیں جہاں دوسرا پاکباز شخص بیٹھا ہے ۔ انہوں نے عالم ارواح میں امام ابو حنیفہؒ سے علم حاصل کیا اور صدقے جاؤں انکے کہ انہوں ے رات کے وضو سے صبح کی نمازیں بھی ادا کیں۔ اب عالم ارواح سوئے بغیر گئے یا صبح اٹھ کے وضو نہیں کیا اس سے کسی کو کیا لگے مگر سرور کائنات کی قسمیں کھا کے مجمع پر سحر طاری کرنا اور پھر اپنے مریدوں کی بدبو سے بچنے کے لئے ناک پر رومال رکھ کر گذر جانا اس کے بارے میں بھی کوئی کچھ بھی کیوں کہے کیوں کہ۔۔
جو چاہے ستم ا نکی نگاہ کرشمہ ساز کرے۔۔۔
خیر چھوڑیں اور ایک اچھی بات سنیں، اللہ نے اپنے کلام میں ایک جگہ کہا ہے کہ جھوٹوں پر اس کی لعنت ہے۔ لہٰذا جو بھی ہم میں سے جھوٹا ہے وہ تا ئب ہو جائے اور جو کملی والے ﷺ کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کراپنا پیٹ بھرتا ہے اسکو غالب کہتا ہے کہ۔۔۔
شرع و آئین پر مدار سہی۔۔۔ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چلیں اب کنٹینر سے اتریں اور دیکھیں کہ ایک عورت نے عدالت کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ میں اب مزید یہ کیس نہیں لڑ سکتی کیوں کہ میرے گھر میں بیٹیاں بھی ہیں۔ اور ایسا بھی ہوا کہ امیر انسان عین اسلامی دیت کے دریا میں غوطہ زن ہو گیا اور بیچارے غریب مر نے کے بعد بے گناہ قرار پائے۔ اس سے بھی مزے کی ایک اور بات دیکھیں کہ دشمن کی کمر ٹوٹ کے کتنی جلدی جڑ جاتی ہے، سنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پاکستان آ نے کا سوچ رہی تاکہ تحقیق کی جا سکےکہ کمر اتنی جلدی کیسے جڑ تی ہے اور جب معلوم ہو جائیگا تو طبیعات کی دنیا میں ایک ہنگامہ بپا ہو جائیگا۔ بلکہ چھوڑیں اس سے بھی زیادہ مزے کی ایک اوربات یہ دیکھیں کہ ہمارے وزراء کس قدر شریف النفس اور منکسر المزاج واقع ہوئے ہیں کہ ٹماٹر مہنگا ہونے پر دہی کا استعمال بڑھا نے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اتنا قریب سے دکھ تو اپنے بھی محسوس نہیں کرتے جتنا قریب سے یہ امیر المومنین جو کہ پاکستان کے سب سے امیر لوگ ہیں محسوس کرتے ہیں۔
ویسے ہم یہ کس فضول بحث میں پڑ گئے ہیں چلیں ایک واقعہ سنیں۔ ایک جنگل میں بندروں نے احتجاج کیا کہ ہمیں نمائندگی دی جائے اور سربراہ بنایا جائے اور جیسے تیسے کرکے ایک بندر حکمران بن بھی گیا۔ اب کیا تھا، بندر پورا دن کبھی ایک ڈال سے دوسری پر تو کبھی دوسری سے تیسری پر چھلا نگیں لگاتا رہتا۔ جنگل کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ سب جانور آئے کہ بندر میاں دیکھو جنگل کی حالت کو ایک نظر۔ تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ بندر نے کہا کہ لو میاں، تمہیں میرا کام نظر ہی نہیں آرہا؟ پورا دن رات ا کام تو کرتا ہوں، کبھی اس درخت پر تو کبھی اس درخت پر۔ یہ بندر کون ہے اس کا فیصلہ آپ خود کریں کیوں کہ عظمی میری بچپن کی محبت اور وقار میرا دوست ہے۔ مگر آپ ضرور تلاش کیجئیگا۔مگر سب سے پہلے ایک کام کریں کہ ہمارے سب حکمرا نوں اور اقتدار سے بلواسطہ اور بلا واسطہ جڑے ہر شخص کو مارگلہ کی پہاڑی پر کھڑا کریں اور ان سے کہیں کہ لوگوں سےپوچھیں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے کوئی حملہ آور ہو نے کو ہے۔ کیا آپ لوگ یقین کریں گے؟؟؟؟
بتائیں۔۔۔کیا آپ لوگ یقین کریں گے؟؟؟
قربا ن جاؤں میں اپنے ملک کے ہر فرد پر اس کے پیشے اور مرتبے کی تفریق کیے بنا۔ پھر چاہے وہ دھر نے کے کنٹینر سے کی جا نے والی گل پوشی ہو جس میں اس ہستی کا نام لے لے کر اتنی شاندار شعلہ بیانی کی گئی کہ جس کی زندگی میں کسی نے اس کے منہ سے گالی تو کجا ، کبھی سخت الفاظ بھی نہیں سنے اورجب کنٹینر سے یہ نور و عرفان کی مسلسل بارش ہو رہی تھی تو۔۔
تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا؟؟
مگر چلیں اس بات کو چھوڑ دیں اور دوسرے کنٹینر ر پر چھلا نگ لگا دیں جہاں دوسرا پاکباز شخص بیٹھا ہے ۔ انہوں نے عالم ارواح میں امام ابو حنیفہؒ سے علم حاصل کیا اور صدقے جاؤں انکے کہ انہوں ے رات کے وضو سے صبح کی نمازیں بھی ادا کیں۔ اب عالم ارواح سوئے بغیر گئے یا صبح اٹھ کے وضو نہیں کیا اس سے کسی کو کیا لگے مگر سرور کائنات کی قسمیں کھا کے مجمع پر سحر طاری کرنا اور پھر اپنے مریدوں کی بدبو سے بچنے کے لئے ناک پر رومال رکھ کر گذر جانا اس کے بارے میں بھی کوئی کچھ بھی کیوں کہے کیوں کہ۔۔
جو چاہے ستم ا نکی نگاہ کرشمہ ساز کرے۔۔۔
خیر چھوڑیں اور ایک اچھی بات سنیں، اللہ نے اپنے کلام میں ایک جگہ کہا ہے کہ جھوٹوں پر اس کی لعنت ہے۔ لہٰذا جو بھی ہم میں سے جھوٹا ہے وہ تا ئب ہو جائے اور جو کملی والے ﷺ کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کراپنا پیٹ بھرتا ہے اسکو غالب کہتا ہے کہ۔۔۔
شرع و آئین پر مدار سہی۔۔۔ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چلیں اب کنٹینر سے اتریں اور دیکھیں کہ ایک عورت نے عدالت کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ میں اب مزید یہ کیس نہیں لڑ سکتی کیوں کہ میرے گھر میں بیٹیاں بھی ہیں۔ اور ایسا بھی ہوا کہ امیر انسان عین اسلامی دیت کے دریا میں غوطہ زن ہو گیا اور بیچارے غریب مر نے کے بعد بے گناہ قرار پائے۔ اس سے بھی مزے کی ایک اور بات دیکھیں کہ دشمن کی کمر ٹوٹ کے کتنی جلدی جڑ جاتی ہے، سنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پاکستان آ نے کا سوچ رہی تاکہ تحقیق کی جا سکےکہ کمر اتنی جلدی کیسے جڑ تی ہے اور جب معلوم ہو جائیگا تو طبیعات کی دنیا میں ایک ہنگامہ بپا ہو جائیگا۔ بلکہ چھوڑیں اس سے بھی زیادہ مزے کی ایک اوربات یہ دیکھیں کہ ہمارے وزراء کس قدر شریف النفس اور منکسر المزاج واقع ہوئے ہیں کہ ٹماٹر مہنگا ہونے پر دہی کا استعمال بڑھا نے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اتنا قریب سے دکھ تو اپنے بھی محسوس نہیں کرتے جتنا قریب سے یہ امیر المومنین جو کہ پاکستان کے سب سے امیر لوگ ہیں محسوس کرتے ہیں۔
ویسے ہم یہ کس فضول بحث میں پڑ گئے ہیں چلیں ایک واقعہ سنیں۔ ایک جنگل میں بندروں نے احتجاج کیا کہ ہمیں نمائندگی دی جائے اور سربراہ بنایا جائے اور جیسے تیسے کرکے ایک بندر حکمران بن بھی گیا۔ اب کیا تھا، بندر پورا دن کبھی ایک ڈال سے دوسری پر تو کبھی دوسری سے تیسری پر چھلا نگیں لگاتا رہتا۔ جنگل کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ سب جانور آئے کہ بندر میاں دیکھو جنگل کی حالت کو ایک نظر۔ تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ بندر نے کہا کہ لو میاں، تمہیں میرا کام نظر ہی نہیں آرہا؟ پورا دن رات ا کام تو کرتا ہوں، کبھی اس درخت پر تو کبھی اس درخت پر۔ یہ بندر کون ہے اس کا فیصلہ آپ خود کریں کیوں کہ عظمی میری بچپن کی محبت اور وقار میرا دوست ہے۔ مگر آپ ضرور تلاش کیجئیگا۔مگر سب سے پہلے ایک کام کریں کہ ہمارے سب حکمرا نوں اور اقتدار سے بلواسطہ اور بلا واسطہ جڑے ہر شخص کو مارگلہ کی پہاڑی پر کھڑا کریں اور ان سے کہیں کہ لوگوں سےپوچھیں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے کوئی حملہ آور ہو نے کو ہے۔ کیا آپ لوگ یقین کریں گے؟؟؟؟
بتائیں۔۔۔کیا آپ لوگ یقین کریں گے؟؟؟
کنور نعیم
twitter: @kanwar_naeem
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem

I will never believe on them.
ReplyDelete