چڑیا
اپنے گھر کے سکون سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟ گھر ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں انسان خود کو بہت محفوظ اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ان باتوں سے انکاری ہو۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ باتیں اس قدر انفرادی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ ان محض جذبات کی کسوٹی پہ پرکھا جا سکتا ہے، ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ باتوں کو ثبوتوں کی حاجت ہوتی ہی نہیں البتہ کچھ ثبوت اگر مل جائیں تو ان باتوں کو تقویت ضرور مل جاتی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے، میرے گھر کی رونق اورسکون سے متاثرہوکرایک چڑیا نے اس میں سکونت اختیار کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں اور کئی ایک گوشوں کو پرکھنے کے بعد بالآخرایک گوشے کو شرف قبولیت بخش دیا۔ وہ کس طرح تنکا تنکا کر کے لاتی گئی اور کیسے اس نے گھاس اور تنکوں کو آشیانہ کر دیا، ہوا تو یہ سب آنکھوں کے سامنے مگر الفاظ میں وہ تاثیر نہیں جواس تڑپ اور خود کو وقف کرنے کی داستان کو بیان کر سکے۔ پس یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے اپنے سائے سے بھی طویل کارنامہ سر انجام دیا تو بیجا نہ ہوگا۔جب اسکا آشیانہ مکمل ہو گیا تو پھر وہ وہاں رہنے لگی۔ وہ عجیب سی جگہ تھی جہاں دھوپ تو پہنچتی تھی مگر بارش نہیں، جھونکے تو آتے تھے مگر تھپیڑے نہیں۔ پتہ نہیں اس ذرا سی چڑیا کے پاس ایسی انسانی عقل انتخاب کہاں سے آگئی تھی یا پھر شاید انسان محفوظ مقام ڈھونڈتے ہوئے حیوانی عقل استعمال کرتا ہے۔ابھی حیرت نے مزید پنجے گاڑھنے تھے، اس چڑیا کا خاندان وسیع ہوگیا، چہچہانے کی آوازیں بڑھ گئیں۔ وہ چڑیا ماں بن گئی۔وہ صبح گھر سے دانہ پانی لینے نکلتی اور دو پہر ڈھلنے سے پہلے لوٹ آتی تھی، اس دوران اس کے بچوں میں کبھی موت کی سی خاموشی چھا جاتی تو کبھی خوفزدہ چیخیں گونجتیں۔ کبھی کوئی بچہ گھونسلے سے گر پڑتا یا گرنے کے قریب ہوتا تو وہ چڑیا اس طرح سے لپکتی گویا راہ میں آنے والی ہر شے کو مٹا دیگی۔ وہ یک دم ایک مسیحا کا روپ دھار لیتی تھی۔ اس کی فکر اور اس کے بچے ساتھ ساتھ جوان ہوتے چلے گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ جب وہ بچے مکمل طور پر اڑنے کے قابل ہو گئے تو وہ قدم قدم پر ساتھ دینے اور چونچ سے کھانا کھلانے والی چڑیا بیکار جان کی سی حیثیت اختیار کر گئی اور ایک دن اس گھونسلے کو گلدستہ بنانے والے بچے کہیں چلے گئے۔
وہ بیچاری جو انہیں گرنے سے بچا لیتی تھی، اڑنے سے نہ روک پائی۔ ستم گر وقت نے آنکھوں میں جالے بن دیے اور واپسی کی امید پگھل پگھل کر گھونسلے سے بہہ گئی۔
انسانوں کی مائیں بھی
تو ایسی ہی ہوتی ہیں ناں!!
کنور نعیم
https://www.facebook.com/kanwar.bin.naeem
twitter: @kanwar_naeem

Very nice......
ReplyDeleteشکریہ
DeleteVery nice......
ReplyDeleteThankyou
Deleteintahai zabardast masha Allah
ReplyDelete